هنگامه قاضیانی ، معروف ایرانی اداکارہ

ایران : احتجاجی مظاہروں میں شامل ہونے پر دو معروف اداکارائیں گرفتار

ایران میں دو معروف اداکارائوں کو حکومت مخالف احتجاجی تحریک کی حمایت کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق هنگامه قاضیانی اور کتایون ریاحی پر ایرانی حکومت کے خلاف سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان دونوں اداکارائوں نے احتجاجی مظاہرے میں سر پردوپٹہ اوڑھے بغیر شرکت کی تھی جو حجاب مخالف تحریک کا پرجوش حصہ بننے کا عملی اعلان تھا۔

یاد رہے کہ ایران میں ستمبر کے وسط میں بائیس سالہ کرد نوجوان خاتون مھسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جو ابھی قابو میں نہیں آرہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گرفتاری کے فورا بعد مھسا امینی کے سر پر کسی آہنی سلاخ سے ضرب لگائی گئی تھی جس کے بعد وہ بے ہوش ہوئی ، پھر کومہ میں چلی گئی اور تین روز بعد انتقال کرگئی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مھسا امینی کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ تاہم مھسا امینی کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ نوجوان خاتون کو ایسی کوئی بیماری نہیں تھی کہ اسے کوئی عارضہ قلب لاحق ہوتا۔

کتایون ریاحی ، معروف ایرانی اداکارہ

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق هنگامه قاضیانی اور کتایون ریاحی کو ایران کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے حکم پر حراست میں لیا گیا تھا۔ گرفتاری سے قبل هنگامه قاضیانی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ
’چاہے جو بھی ہو جائے، یہ بات یاد رکھیں کہ میں ہمیشہ کی طرح ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی رہوں گی‘۔انہوں نے مزید لکھا ’ ہو سکتا ہے کہ یہ میری آخری پوسٹ ہو‘۔

یادرہے کہ مھسا امینی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کی حمایت کرنے کے الزام میں بڑی تعداد میں ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ نیوز ایجنسی’ ہرانا‘ کے مطابق 19نومبر تک پورے ملک میں 16813افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جن میں 524طلبہ و طالبات شامل ہیں۔ جبکہ گرفتار افراد میں صحافیوں، فن کاروں، فلم سازوں اور دیگر مشہور شخصیات کی بھی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے :
مھسا امینی کی ہلاکت : ایران میں احتجاج انقلاب میں بدل رہا ہے؟

ان اعدادوشمار سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایران میں احتجاج کا دائرہ کس قدر وسعت اختیار کرچکا ہے۔ مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ظاہر کررہی ہیں کہ داخلی سلامتی کی صورت حال غیرمعمولی طور پر سنگین صورت اختیار کرچکی ہے۔ ایرانی حکام ان ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں اور حالات کو سنگین ظاہر کرنے کا الزام عائد غیرملکی عناصر پر دھر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں