مھسا امینی کی تصویر والا کتبہ جس پر زن ، زندگی ، آزادی کا نعرہ بھی درج ہے

مھسا امینی کی ہلاکت : ایران میں احتجاج انقلاب میں بدل رہا ہے ؟

جویریہ خان

ڈیڑھ ماہ قبل ، ایران میں بائیس سالہ کرد لڑکی مھسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والا احتجاج اب بھی جاری ہے۔ ’زن، زندگی، آزادی‘ کا نعرہ اب بھی ایران میں گونج رہا ہے۔ اس دوران میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں احتجاج کرنے والے مارے بھی جاچکے ہیں ، اور ہزاروں کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔ اس کے باوجود نہ مظاہرے رک رہے ہیں اور نہ ہی ایرانی خواتین پیچھے ہٹتی نظر آ رہی ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟

مھسا امینی کی تصویر والا کتبہ اور کردستان کے پرچم

یاد رہے کہ مھسا امینی اپنے بھائی سے ملنے دارالحکومت تہران آ رہی تھی کہ اسے ایک چیک پوسٹ پر گرفتار کرلیا گیا ۔ الزام یہ عائد کیا گیا کہ اس نے ایرانی قوانین کے مطابق حجاب کا اہتمام نہیں کیا ہوا تھا۔ پولیس حراست میں اس کے سر پر کسی آلے سے ضرب لگائی گئی ، نتیجتا وہ بے ہوش ہوگئی ۔ اسی حالت میں اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ کومہ میں چلی گئی اور پھر سولہ ستمبر کو انتقال کر گئی۔

اس کے بعد ایران میں جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے جو تادم تحریر رک نہیں سکے ہیں۔ احتجاج کا آغاز مھسا امینی کی ہلاکت کے اگلے ہی روز کردستان کے صدر مقام سنندج سے ہوا ، جو محض دو روز میں دارالحکومت تہران تک پہنچ گیا ۔ خواتین کا احتجاج اب بھی جاری ہے ۔ دارالحکومت تہران سمیت ملک کے متعدد شہروں میں خواتین سڑکوں پر نکلتی ہیں اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتی ہیں۔

ایران کے علاوہ دیگر ممالک میں لوگ مھسا امینی کی ہلاکت کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں پیش پیش خواتین کا مطالبہ ہے کہ ایران میں حجاب کے لازمی ہونے کا قانون ختم کیا جائے ۔ ایران کے اندر اور باہر ہونے والے احتجاج سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایران کی حکمران مذہبی قیادت کے لئے ایک بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے ایرانی ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ ایران میں مظاہروں کے دوران میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اب تک 277 افراد ہوچکے ہیں جن میں 40بچے اور 24خواتین بھی شامل ہیں۔ ایرانی حکام ان ہلاکتوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں اور غیرملکی عناصر کو ذمہ دار ٹھیراتے ہیں۔ ایران کے اندر عام لوگوں کا ایک بڑا طبقہ بھی ان مظاہروں کے پیچھے غیرملکی ہاتھ دیکھ رہا ہے۔

اسی طرح بیرونی دنیا میں بھی رائے عامہ تقسیم ہے ۔ بعض لوگ ایران میں ہونے والے مظاہروں کی حمایت کر رہے ہیں لیکن بعض اسے ایران کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ ایران میں ہونے والے احتجاج کے لئے مغرب نے سہولتیں فراہم کیں۔ مثلا جب احتجاج تیز ہوا تو ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو محدود کردیا ۔ انٹرنیٹ سروس پر ایرانی حکومت کی پابندیوں کو ناکام بنانے کے لئے امریکی حکومت نے ایران میں سیٹلائٹ سروس فراہم کرنے کے لائسنسز جاری کئے ، اس کے بعد ایلون مسک نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی سٹار لنک ایران میں مفت انٹرنیٹ سیٹلائٹ سروس فراہم کرے گی۔

حدیث نجفی، بیس سالہ ایرانی نوجوان خاتون جسے مھسا امینی کے قتل کے خلاف احتجاج کے دوران میں چھ گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا

چوبیس ستمبر کو صوبہ خرج میں حدیث نجفی نامی ایک خاتون کو چھ گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اس واقعہ نے ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو مزید تیز کردیا۔ نتیجتا ایرانی حکام نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں سیکورٹی دستے بھیج دیے لیکن احتجاج جاری رہا۔ اکتوبر کے اختتام تک ایک ہزار افراد پر مقدمات قائم ہوچکے ہیں۔ نومبر کے آغاز میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ سعودی عرب احتجاج کی پشت پر ہے۔

بی بی سی کی سحر بلوچ کچھ عرصہ قبل ایران گئیں ۔ انھوں نے دیکھا کہ وہاں بعض خواتین مکمل حجاب میں تھیں لیکن بعض حجاب کی بہت زیادہ پابندی نہیں کرتی تھیں۔ حالیہ دنوں میں جب ایران میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تو میں نے وہاں اپنی بعض دوستوں سے رابطہ کیا ۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ اب یہ احتجاج جلد ختم نہیں ہونے والا۔ یہ ایک انقلاب کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اپنے دورہ ایران میں ایرانی خواتین سے مل کر لگا کہ وہ بہت باہمت اور پر اعتماد ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب ایرانی خواتین رکنے والی نہیں ہیں۔

اگرچہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر مسلسل پابندیاں لگائی جارہی ہیں لیکن احتجاج کے ٹرینڈز مسلسل بلند ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس ساری تحریک کے پیچھے کیا ہے جو احتجاج رکنے ہی میں نہیں آ رہا ہے۔

تجزیہ نگار نائلہ محسود کا کہنا ہے کہ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔

سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران میں مقیم کرد خواتین اور ایران سے باہر رہنے والی ایرانی خواتین کو ایک اہم موقع ملا ہے کہ وہ باہم متحد ہوکر اپنے مسائل کے خلاف اپنی آواز اٹھائیں۔ دوسری سب سے بڑی وجہ ہے کہ نہ صرف مسلمان ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک مثلا امریکا ، برطانیہ ، جرمنی اور دیگر یوروپی ممالک کی طرف سے ایرانی حکومت کے خلاف ان مظاہروں کی حمایت کی جارہی ہے۔ صرف اخلاقی حمایت ہی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ بہت بڑی سطح پر سپورٹ بھی دی جا رہی ہے۔

خواتین کی موجودہ تحریک اپنی نوعیت کی واحد تحریک ہے جو کسی نسلی ، مذہبی طبقہ سے منسلک نہیں ہے ، یہ صرف اور صرف عورت کی خودمختاری کی بات کرتی ہے۔

روم ، اٹلی میں مھسا امینی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج میں شریک ایک خاتون

ایران میں احتجاج پہلے بھی ہو رہے تھے لیکن نظر نہیں آ رہے تھے ۔ وہاں کی حکومت پہلے بھی بڑے بڑے احتجاجی تحریکوں پر قابو پا چکی ہے ۔ حالیہ احتجاجی تحریک مھسا امینی کی ہلاکت کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی لیکن وہ اب حجاب اوڑھنے کے سخت قوانین کے خلاف ہی نہیں رہی بلکہ اب ایسا لگ رہا ہے کہ ایرانی حکومت سے ملک میں جس فرد یا طبقے کو جو بھی غصہ تھا ، وہ اب اس احتجاجی تحریک میں شامل ہوچکا ہے۔

( اس رپورٹ کی تیاری میں بی بی سی کی رپورٹنگ سے بھی مدد لی گئی ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں