30پیشے کامیاب تصور کئے جاتے ہیں، کون سے بھلا؟

فاروق احمد انصاری
ہمارے یہاں لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کا مسئلہ درپیش ہے۔ ڈگریاں ہاتھ میں تھامے لاکھوں نوجوان ملازمت کی تلاش میں سرگرداں ہیں لیکن ملازمت حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ دوران ِتعلیم اپنی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق کوئی ہنر یا ٹیکنیکل ایجوکیشن حاصل کرلی جائے تو شاید نوکریوں کی تلاش میں دھکے نہ کھانے پڑیں۔ اگر دوران تعلیم آپ ٹائپنگ کی مہارت حاصل کرلیں تو آپ کسی بھی دفتر میں آفس اسسٹنٹ لگ سکتے ہیں، ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنی مرضی کی نوکری کی طرف بھی قدم بڑھا سکتے ہیں۔

امریکی ریاست میری لینڈ میں پلمبرز اینڈ اسٹیم فٹرز یونین کی جانب سے ہنر سکھائے جانے والے پروگرام میں ٹریوس اسٹریوڈرمین اور ان جیسے دیگر طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ پیسے بھی کماتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے میری زندگی مکمل طور پر بدل گئی ہے، میں نے اپنے تمام قرضے اتار دئیے ہیں۔

روزگار کے اعداد وشمار سے متعلق ادارے کے مطابق 30پیشے کامیاب تصور کیے جاتے ہیں، جن میں سے نصف کے لیے یونیورسٹی ڈگری کی بجائے ٹریننگ ضروری تصور کی جاتی ہے۔مکینیکل کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن آف میری لینڈ کے نائب صدر اسٹیون لاکن کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی اس ٹریننگ پروگرام کے طلبا کو ملازمتیں مہیا کرتی ہے۔ جب یہ طالب علم گریجویٹ کر لیتے ہیں تو فی گھنٹہ 36ڈالر تک کما سکتے ہیں۔

یہ تو تھی امریکا کی بات، دنیابھر میں ووکیشنل یا ٹیکنیکل ٹریننگ کے ادارے بھی ہیں اور وہاں طالب علم پارٹ ٹائم نوکری یا ہنر اپنانے کو معیوب نہیں سمجھتے ۔ کچھ عرصہ پہلے ہم دیکھتے تھے کہ بچے اسکول سے آکر کسی ورکشاپ وغیرہ میں سیکھنے چلے جاتے تھے ۔ زمانہ ترقی کرگیا ہےتو ہنر مند ہونے کے مواقع بھی وسیع ہو گئے ہیں۔ موبائل ریپیئرنگ، انٹرنیٹ بلاگنگ، ٹرانسلیشن، کمپیوٹر ہارڈ ویئر ریپئرنگ وغیرہ کے ہنر میں یکتا ہو کر آپ اچھی خاصی آمدنی حاصل کرسکتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ اپنی تعلیمی قابلیت میں بھی اضافہ کرسکتے ہیں۔

انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کے علاوہ اگر ہم کسی بھی فیلڈ میں مہارت حاصل کرنے کا ارادہ کرلیں اور مستقل مزاجی سے اپنے وقت کا مثبت استعمال کرکے کچھ سیکھ لیں تو بہت بڑی سرمایہ کاری کے بغیر بھی صرف ہنر کی بنیاد پر محنت کرکے مالی طور پر مستحکم ہوا جا سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنی مدد آپ کے تحت سیکھنے میں تھوڑا زیادہ وقت لگ جائے لیکن زندگی کے کسی موڑ پر بھی آپ کو اپنے اس فیصلہ پر پچھتاوا نہیں ہوگا۔

اس وقت پاکستان میں طالب علموں کی بہت بڑی تعداد پڑھائی کے علاوہ پارٹ ٹائم جاب کے طور پر انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کا کام بھی کر رہی ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا نے صرف لڑکوں کیلئے ہی نہیں بلکہ لڑکیوں کیلئے بھی راستہ کھو ل دیاہے ۔ لڑکیاں اب صر ف شوہر اور خاندان کے دل جیتنے کیلئے کھانا نہیں پکاتیں بلکہ سوشل میڈیا پر اپنے کھانوں کی ترویج کے ذریعے آمدنی میں بھی اضافہ کررہی ہیں۔ ماسٹر شیف جب انہیں پکوان کی تربیت دیتے ہیں تو ان سے نت نئے سوال کرتے ہوئے اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ پکوان کی رغبت اپنے اندر پیدا کریں۔ ایک کلاس میں ماسٹر شیف نے ایک ایسی لڑکی سے سوال کیا، جو صرف تعلیم حاصل کررہی ہے مگر اس نے کبھی کھانا نہیں پکایا تھا تو شیف نے اس موقع پر اس کی ڈھارس بندھائی کہ عورت کا صرف تعلیم حاصل کرلینا ہی سب کچھ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہنر ہونابھی ضروری ہے۔ اسی طرح لڑکیاں گھر بیٹھے گھریلو دستکاری، انٹیریئر ڈیزائننگ، زبانوں کے ترجمے اور بلاگنگ کا ہنر اپناکر اپنی معاشی ضروریات پوری کرسکتی ہیں۔

پاکستان میں اپرنٹس شپ اسکیم کے تحت بھی تعلیم و تربیت کیلئے مختلف تعلیمی اہلیت کے نوجوانوں کو طلب کیا جاتا ہے۔ عموماً اس کے لیے آٹھویں جماعت، دسویں جماعت اور بارہویں جماعت تک تعلیمی قابلیت ضروری تصور کی جاتی ہے۔ تاہم ڈپلومہ ہولڈرز بھی اپرنٹس شپ اسکیم سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ ملک بھر میں بے شمار سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے اپرنٹس شپ اسکیم کے تحت نوجوانوں کو فنی تعلیم و تربیت فراہم کرتے ہیں۔ قانون کے تحت ہروہ جگہ جہاں پانچ یا پانچ سے زائد افراد کام کرتے ہیں، وہاں اپرنٹس شپ کی تربیت دی جاسکتی ہے۔ لیکن تمام کاروباری اور صنعتی مقامات پر اپرنٹس شپ ٹریننگ نہیں دی جاتی بلکہ عموماً بڑے صنعتی اداروں میں ہی اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بالعموم ایسے اداروں کی پیشہ ورانہ ساکھ بہت بہتر ہے اور یہاں کے تربیت یافتہ افراد کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی شپ یارڈ، کراچی آئل ریفائنری، پی آئی اے ، پی این ایس سی، کراچی پورٹ ٹرسٹ وغیرہ کی تربیت کو قابلِ اعتماد اور اہم تصور کیاجاتا ہے ۔ کار پینٹر، آٹو الیکٹریشن،بلیک اسمتھ ، آٹو فٹر،مولڈر، ڈیزل میکینک ،ویلڈر، پروسیس پلانٹ آپریٹر، ا سٹیل فیبریکیٹر ، ٹیکنیشن انسٹرومنٹ، الیکٹرونکس ، الیکٹریکل و میکینکل ٹیکنیشن، بوائلر اٹینڈنٹ اورپائپ فٹر وغیرہ ۔ایسے شعبے ہیں، جن میں ہنر مند ہونے کے مواقع موجودہیں۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ صرف ڈگری کے حصول سے ہی اپنےروشن مستقبل کا خواب پورا ہونے کا انتظار کرتے ہیں یا کسی ہنر میں قابل ہو کر اپنی راہیں خود متعین کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں