حمیرا ریاست علی رندھاوا، اردو کالم نگار

پاکستان کے حکمرانوں سے کچھ کھٹی کھٹی باتیں

حمیرا ریاست رندھاوا

حضرت انسان کے کرتوتوں سے زمین کانپ گئی مگر انسان کے ضمیر نہیں کانپے۔

پاکستان کی موجودہ صورت حال سے ہر عام انسان پریشان ہے اور غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔ کسی کو پکڑا جا رہا ہے تو کسی کو مارا جا رہا ہے۔ انصاف کرنے والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی نہ آئین کے نام پر ملک کا مذاق بنانے والوں کو شرم آتی ہے۔ ادارے عزت کروانے کی بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے تو آج عوام سے زبردستی عزت کروانے کے لیے قانون کو خود پامال کرتے نظر نہ آتے۔ افسوس انصاف کی مسند پر بیٹھے لوگوں نے بھی انصاف کرنے سے توبہ کرلی۔

صحافیوں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں بھیجا جارہا ہے کہ سچ کیوں بولتے ہو؟ چلو خدا خدا کرکے کچھ سچ بولنے لگے ہیں تو جناب برداشت کیجیے، ساری قوم آپ کی زبردستی حکومت کو برداشت کر رہی ہے۔ ملک میں ملیں، فیکٹریاں آپ کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بند ہو رہی ہیں۔ مزدوروں کے بچے بھوکے مر رہے ہیں اور آپ کا اعلان کہ مفت اور سستا آٹا عوام کو ملے گا مگر قطار میں لگ جائیں اور پھر آٹا لیے بغیر دھکوں سے مرجائیں۔

سستا آٹا آپ دے سکتے ہیں، بالکل دے سکتے ہیں کیونکہ ساری فلور ملز آپ کے اور آپ کے ارکان کی ہیں، اس لیے پہلے آٹا مہنگا کریں، پھر مصنوعی مہنگائی سے مرے ہوئے لوگوں کو رعایتی قیمت پر آٹا دے کر ان کی سات نسلوں پر احسان فرما کر ووٹ لیں اور احسانوں کے بوجھ تلے دبی قوم کو پھر مار دیں۔

آٹا لیتے ہوئے جو لوگ مارے گئے، ان کی موت کے ذمےدار دار حکمران ہیں یا ان کی بھوک؟ تو سوال نما جواب ہے کہ بھوک غریب کو لگتی کیوں ہے؟

پاکستان پر قابض لوگوں کو بھی تو کرسی کی بھوک نےاندھا کر رکھا ہے جس کا ایندھن عوام بن رہی ہے۔ حکومت پی ٹی آئی کے سربراہ کو پکڑنے (یا ڈرانے ) پر جو عوام کے ٹیکس کا پیسہ برباد کر رہی ہے، اسی پیسے سے عوام کو آٹا فراہم کردیں۔ اگر عوام کو بجلی کے بل گھر پہنچائے جا سکتے ہیں تو آٹا کیوں نہیں؟ عوام کے خادم تھے آخر یہ لوگ [(نعرہ تھا موجودہ وزیراعظم کا)اب یہی کہہ سکتے ہیں کہ کیا ہوا تیرا وعدہ؟

حالات خراب سے خراب ہوتے جارہے ہیں پاکستان میں موجودہ حکومت سے منسلک اداروں پر سوالیہ نشان بڑھتے جا رہے ہیں مگر پرواہ کس کو ہے! مریم نواز حکومتی عہدہ نہیں رکھتی مگر حکومتی پروٹوکول استعمال کرتی ہیں کیوں کہ بقول ان کے جب ان کو دیے گئے پروٹوکول کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ جی ہوتی ہوگی آپ کو تکلیف! کہ یہ بچی کچھی عوام ابھی زندہ کیوں ہے؟ بی بی ہمیں بھی بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ آپ عوام سے وصول کردہ پیسےسے پروٹوکول استعمال کرتی ہیں۔

جب آپ کے سیاسی بیان ملک میں مزید انارکی کا باعث بنتے ہیں جسے ہی کسی سیاسی جماعت ک خلاف ملک میں کچھ ہونے والا ہوتا ہے اور آپ کو سارا پتا ہوتا ( ابھی محترمہ کے پاس حکومتی عہدے نہیں ہیں تو یہ حال ہے )کہ کچھ دیر بعد کس کس کو حراست میں لیا جانا ہے، فلاں کو مار پڑنی ہے، فلاں کو جیل بھیجا جانا ہے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ واقعہ ہونے سے پہلے ہی اپنی تقریر میں سارا کچھ بتا رہی ہوتی ہیں۔

کچھ صبر کر لیا کریں۔ عوام اتنی بیوقوف نہیں کہ آپ کا ہدف نہ سمجھ سکیں اور آپ کے پلان نہ سمجھ سکیں۔ آپ چاہتی ہیں کہ عوام آپ کے پیچھے چلیں مگر کس بناپر کہ آپ صرف نواز شریف کی بیٹی ہیں؟ یہ بھی تو ذرا بتائیں کہ آپ نے آج تک عوام کے لئے کیا کیا ہے؟ ملک کے ایک بڑے کینسر اسپتال سے آپ کی سیاسی انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے ملکی و غیر ملکی چار ڈاکٹرز جو کینسر کا علاج کرتے ہیں،وہ بھاگ گئے ہیں۔

پوچھنا یہ تھا کہ جنگ میں بھی فریقین کا ایک دوسرے کے ساتھ ایسا رویہ نہیں ہوتا تو پھر آپ کی حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے؟ ہسپتال میں کینسر کا علاج کیا جاتا ہے آپ تو علاج کے لیے باہر بھاگ ہی جائیں گے، سوری چلے جائیں گے مگر عوام بیچاری کو روٹی نہیں ملتی وہ باہر کیسے جائے؟

موجودہ حکومت اتنے عظیم کارنامے انجام دے رہی ہے تو لگے ہاتھوں آئین کا بھی رولا ختم کر دیں۔ پہلے کون سا آئین پر عمل ہورہا ہے! کاش ایسی صورت حال میں میرا دل بھی نیوٹرل ہوتا مگر کیا کیجیے کہ دل تو دل ہے دل کا کیا کیجیے۔ جو کرنا ہے کریں مگر ملک کے دشمنوں کو ملک پر ہنسنے کا موقع فراہم نہ کریں، انتقامی کارروائی نہ کریں گے، کہیں عوام باغی ہو کر دشمنوں کا آلہ کار بن جائے۔ قانون کو مذاق نہ بنائیں، انصاف کرنے والوں کو یرغمال نہ بنائیں کہ وہ انصاف سے ہی انکار کر دیں۔ مانا کہ آپ نے بھاگنا ہی ہے تو پھر دیر کس بات کی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

پاکستان کے حکمرانوں سے کچھ کھٹی کھٹی باتیں” ایک تبصرہ

  1. محترمہ حمیرا صاحبہ، آپ فلور ملز کی کیا بات کرتی ہیں پچھلے دنوں میری نظر سے اسحاق ڈار کی دوبئی کی پراپرٹیز کی فہرست گذری ھے، انسان دنگ رہ جاتا ھے کہ کس طرح یہ اتنے امیر لوگ غریب کو اتنی بے بسی سے مرتا دیکھ لیتے ہیں پھر بس قرآن کی آیات یاد آتی ہیں کہ حرص میں ان کے دل اندھے ھو جاتے ہیں۔۔۔۔ بس اللہ ہمارے ملک اور عوام پر رحم کرے۔۔۔۔ آپ کی تحریر میں عوام کا درد نظر آتا ھے۔۔ مزید لکھیں۔

تبصرے بند ہیں