ایک--خوبصورت-نوجوان-مسلمان-خاتون-دعا-مانگتے-ہوئے

پیغام صبح : اپنی جان پر ظلم

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جب انسان اللہ تعالی کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ اپنی جان پہ ظلم کرتا ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام اور حوا علیھا السلام نے جب ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا تو ان کو اللہ تعالی نے جو کلمات سکھائے، وہ یہ تھے

’ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین‘

اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پہ ظلم کر لیا ہے، اگر آپ ہماری مغفرت نہیں کریں گے تو ہم خسارہ پانے والوں میں ہو جائیں گے‘۔

یعنی قصور کا اعتراف کرنا پہلا کام ہے اور قصور کے نتیجے میں جو نقصان نظر آ رہا ہے، اس سےبچنے کے لیے مغفرت کی التجا ہے۔ قرآن پاک میں متعدد مثالیں مل جاتی ہیں جہاں انبیاء تک نے اپنی جان پہ ظلم کا اعتراف کیا۔

مثلاً سیدنا یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں اعتراف کیا ’لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین‘۔

 تیرے سوا کوئی معبود نہیں، بے شک میں نے اپنی جان پہ ظلم کیا۔

جہاں بھی نافرمانی کا ذکر ہے، وہاں اپنی ’جان پہ ظلم‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہ کہ جس فرد نے یا قوم نے اللہ کی نافرمانی کی، اس سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں، اس نے اپنی جان پہ خود ظلم کیا۔

اپنی جان پہ سب سے بڑا ظلم شرک ہے کیونکہ اس کی معافی نہیں ہے۔ مگر رب الناس نے فرمایا کہ جو اپنی جان پہ ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو اللہ اس کے قصور معاف کرے گا، وہ برائیوں کو اچھائیوں میں بدل کر اپنی رحمت کے وسیع ہونے کا ثبوت دے گا۔

جب ملکہ سباء نے اپنے شرک کا اعتراف کیا  تو اس نے بھی یہ کہا’ رب انی ظلمت نفسی‘

اے رب! میں تو اپنی جان پہ ظلم کرتی آئی تھی۔

ہم سب دن رات اپنی جانوں پہ ظلم کرتے رہتے ہیں۔ اپنے آپ کو اللہ تعالی کے حضور پیش کرکے عاجزی سے اعتراف ہی تو کرنا ہے۔

اور وہ پیارا رب یہی چاہتا ہے کہ میرے بندے میرے سامنے میری بڑائی تسلیم کریں، میرے سامنے عاجزی سے کھڑے ہوں، جھک جائیں، سجدے میں گر جائیں۔ دل میں رقت ہو اور آنکھوں میں آنسو ہوں۔ اور اپنے بندے کی ان  اداؤں پہ رب فدا ہو رہا ہو۔ اور ان کی برائیوں کو اچھائیوں میں بدل کر اپنی رحمت  واسعہ کا ثبوت دینے کا یقین دلا رہا ہو۔

آئیے! امت مسلمہ کی نمائندگی کریں۔

ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے