باحجاب-مسلمان-خاتون-اپنے-بیٹے-کے-ساتھ-مسکراتے-ہوئے

خیال ہیں گرہ گرہ 

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

‘کیا ہوا ؟ چہرہ کیوں اترا ہوا ہے تمہارا ؟’

’نہیں تو، میں ٹھیک ہوں۔‘ وہ اپنے کمرے کی طرف جانا چاہتا تھا، میں نے اس کا بازو پکڑ لیا۔

’ماں ہوں، تمہارے چہرے کے رنگ سے سمجھ جاتی ہوں تمہاری کیفیت، یہاں آؤ میرے پاس بیٹھو۔‘ میں نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔

’بس! وہ ایسے ہی ذرا۔۔۔ ‘ اس نے موڈ کو خوشگوار کرنے کی کوشش کی۔

‘ہاں! یاد آیا آپ تو ملک صاحب کے ہاں نہیں گئے تھے؟’

‘جی ہاں! وہیں سے آرہا ہوں۔’

‘تو کیسا رہا حج فنکشن؟’

‘کافی لوگ مدعو تھے، کوئی نوٹوں کا ہار پہنا رہا تھا، کوئی پانچ کلو مٹھائی ۔لایا، کوئی دس کلو، کچھ اور لوگ دوسرے تحائف لائے’۔

‘اچھا پھر۔۔۔۔؟؟’

‘کچھ نوجوان “حج مبارک” کے کارڈز لائے تھے۔۔۔۔اور۔۔۔’

‘مقررین نے تقریریں بھی کی ہوں گی، حج کے فلسفہ اور ثمرات و برکات پر بھی روشنی ڈالی ہوگی!’

’سب سے پہلے تو ایک قاری صاحب نے بہت خوبصورت انداز میں تلاوت کی۔ پھر بعض نعت خواں حضرات نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ تقریر والا تو کوئی سماں نہیں تھا۔ ہاں! البتہ جب میں نے کچھ کہنا چاہا تو۔۔۔۔’

‘تو کیا ؟ چپ کیوں ہو گئے بیٹا !’

’چھوڑیں امی جان! اس زمانے میں کون عبادت کی روح یا حقیقی مقصد پر غور کرتا ہے؟’

‘آپ نے وہاں اپنی بات رکھی ؟’

‘میں یہ کتاب ساتھ لے گیا تھا اور اس میں سے کچھ پڑھ کر سنانا چاہتا تھا مگر سبھی کہنے لگے یہ کتابی باتیں ہیں انہیں چھوڑو۔ یہ کتابی باتیں ہمیں سمجھ نہیں آنے کی۔تاہم میں نے پڑھ کے سنایا اور اس موضوع کو ڈسکس کیا۔۔۔‘

‘کون سی کتاب ہے، دکھاؤ ذرا ۔۔۔اچھا اچھا۔۔۔ ’خطبات از  سید ابو الاعلٰی مودودی‘۔۔۔۔

’اچھا تو کہاں سے پڑھ کے سنایا آپ نے؟’

‘میں پڑھتا ہوں۔ یہ صفحہ نمبر250 ہے۔۔۔ ’

۔۔۔تم نسلی مسلمانوں کا حال اس بچے کا سا ہے جو ہیرے کی کان میں’ پیدا ہوا ہے۔ ایسا بچہ جب ہر طرف ہیرے ہی ہیرے دیکھتا ہے اور پتھروں کی طرح ہیروں سے کھیلتا ہے تو ہیرے اس کی نگاہ میں ایسے ہی بے قدر ہو جاتے ہیں جیسے پتھر۔ یہی حالت تمہاری بھی ہے کہ دنیا جس نعمت سے محروم ہے، جس سے محروم ہو کر سخت تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھا رہی ہے اور جس کی تلاش میں حیران و سرگرداں ہے وہ چیزیں تمھیں مفت میں بغیر کسی تلاش و جستجو کے صرف اس وجہ سے مل گئیں کہ خوش قسمتی سے تم مسلمان گھروں میں پیدا ہوئے ہو۔ وہ کلمہ توحید جو انسانوں کی زندگی کے تمام پیچیدہ مسئلوں کو سلجھا کر ایک صاف سیدھا راستہ بتا دیتا ہے، بچپن سے تمہارے کانوں میں پڑا۔ نماز اور روزے کے وہ کیمیا سے قیمتی نسخے جو انسان کو حیوان سے انسان بناتے ہیں اور انسانوں کو خدا ترس اور ایک دوسرے کا بھائی، ہمدرد اور دوست بنانے کے لیے جن سے بہتر نسخے آج تک دریافت نہیں ہو سکے ہیں، تم کو آنکھ کھولتے ہی خود بخود باپ دادا کی میراث میں مل گئے۔ زکوٰۃ کی وہ بے نظیر ترکیب جس سے محض دلوں ہی کی ناپاکی دور نہیں ہوتی بلکہ دنیا کے مالیات کا نظام بھی درست ہو جاتا ہے، جس سے محروم ہو کر تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ دنیا کے لوگ ایک دوسرے کا منہ نوچنے لگے ہیں، تمہیں وہ اس طرح مل گئی ہے جیسے کسی حکیمِ حاذق کے بچے کو بغیر محنت کے وہ نسخے مل جاتے ہیں، جنہیں دوسرے لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ اسی طرح حج کا وہ عظیم الشان طریقہ بھی جس کا آج دنیا بھر میں جواب نہیں ہے، جس سے زیادہ طاقتور ذریعہ کسی تحریک کو چار دانگِ عالم میں پھیلانے اور ابدالاباد تک زندہ رکھنے کے لیے آج تک دریافت نہیں ہو سکا ہے، جس کے سوا آج دنیا میں کوئی عالم گیر طاقت ایسی موجود نہیں ہے کہ آدم کی ساری اولاد کو زمین کے گوشے گوشے سے کھینچ کر خدائے واحد کے نام پر ایک مرکز پر جمع کر دے اور بے شمار نسلوں اور قوموں کو ایک خدا پرست، نیک نیت، خیرخواہ برادری میں پیوست کر کے رکھ دے۔

ہاں ایسا بےنظیر طریقہ بھی تمھیں بغیر کسی جستجو کے بنا بنایا اور صدہا برس سے چلتا ہوا مل گیا۔ مگر تم نے ان نعمتوں کی کوئی قدر نہ کی۔ کیونکہ آنکھ کھولتے ہی یہ تمھیں اپنے گھر میں ہاتھ آ گئیں۔ اب تم ان سے بالکل اسی طرح کھیل رہے ہو جس طرح ہیرے کی کان میں پیدا ہونے والا بچہ ہیروں سے کھیلتا ہے۔ اور انہیں کنکر پتھر سمجھنے لگتا ہے۔ اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے جس بری طرح تم اس زبردست دولت اور طاقت کو ضائع کر رہے ہو اس کا نظارہ دیکھ کر دل جل اٹھتا ہے۔ کوئی کہاں سے اتنی قوتِ برداشت لائے کہ پتھر پھوڑوں کے ہاتھوں جواہرات کو ضائع ہوتے دیکھ کر ضبط کر سکے ؟

میرے عزیزو ! تم نے شاعر کا یہ شعر تو سنا ہوگا کہ:

خرِ عیسیٰ اگر بمکّہ رَود

چوں بیا ید ہنوز خر باشد

یعنی گدھا خواہ عیسی علیہ السلام جیسے پیغمبر ہی کا کیوں نہ ہو مکہ کی زیارت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اگر وہ وہاں ہو آئے تب بھی جیسا گدھا تھا ویسا ہی رہے گا۔۔۔۔’

‘ ہوں۔۔۔ تو یہ باتیں سر سے گزر گئیں ان کے ۔۔۔۔؟’

‘جی ہاں !’

‘اور یہ، یہ تمہاری آنکھ سے کیا ٹپکا؟ ایک آنسو۔۔۔۔’

‘میرے لال !‘۔۔۔ اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لینا چاہا مگر پھر یاد آیا وہ اب دس سال پہلے والا ننھا بچہ نہیں ہے لہٰذا اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔۔۔

‘امی جان ! ایک سیدھی راہ کے بجائے ہزار تکلفات، بدعات، تصنع، دکھاوے کی رسمیں اور جانے کیا کیا فروغ پا رہا ہے معاشرے میں۔ امی جان! کیوں ؟ کیوں ؟ آخر کیوں ؟۔’

’میرے بچے! دلوں کو بدلنے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ آپ دکھی نہ ہو بلکہ لوگوں کے لیے دعا کیا کرو۔ دل بدلیں گے تو معاشرہ بدلے گا اور جہاں تک بات ہے بات چیت کی اور ڈسکشن کی تو صحت مند مکالمے کی فضا برقرار رہنی چاہیے۔۔‘ میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنا شروع کر دیں۔۔۔

‘اور۔۔۔اب۔۔۔ بیٹا ! وہ ذرا گنگنا دو اپنی پسندیدہ نظم..’

نظم کیا گنگناتا وہ تو جیسے کئی دنوں کا رت جگا تھا یا پھر ماں کی گود اور ماں کی انگلیوں کے لمس کا جادو تھا، پل دو پل میں نیند کی آغوش میں چلا گیا اور پھر جانے کب تک اس کی ماں اس کے بھولے بھالے چہرے کی بلائیں بھی لیتی رہی اور گنگناتی بھی رہی۔۔۔

رکو نہیں تھمو نہیں کہ معرکے ہیں تیز تر

نئے سرے سے چھڑ چکی جہاں میں رزمِ خیر و شر

نہ کوئی قلبِ مطمئن، نہ کوئی روحِ پر سکوں۔۔۔

خیال ہیں گرہ گرہ عقیدے ہیں سو منتشر

خیال ہیں گرہ گرہ۔۔۔۔۔۔

ہزار زخمِ تازہ سے پگھل رہے ہیں گو جگر

مجاہدوں کی شان ہے کہ آنکھ ہو نہ پائے تر

کہ آنکھ ۔۔۔۔۔۔۔

میں جانے کب تک اپنے بیٹے کے روشن چہرے میں کھوئی گنگناتی رہتی کہ موبائل فون کی گھنٹی نے چونکا دیا۔ فورا کال اٹینڈ کر لی۔۔

‘۔۔۔آپ کا صاحبزادہ تھا جس نے آج صبح حج فنکشن میں لیکچر دیا۔۔۔؟؟’

‘جی جی میں اس کی ماں بات کر رہی ہوں۔۔۔’

’۔۔اچھا اچھا بہت خوب۔۔ میں مسز کامران ہوں۔ ہماری فیملی بھی وہاں مدعو تھی۔ ہم آپ کے بچے سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ ہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کی دوستی آپ کے بیٹے سے ہوجائے ۔۔۔۔’

‘ جی جی کیوں نہیں، آپ ضرور تشریف لائیے۔۔۔’

‘۔۔یہ کس کو تشریف لانے کا کہہ رہی ہیں؟’۔۔ وہ میری آواز سے اٹھ بیٹھا تھا۔۔۔

‘اپنے پیارے بیٹے کے نئے دوستوں کو۔۔۔’

میں نے مسکراتے ہوئے ساری بات بتادی اسے۔

اور پھر اسے سمجھایا ’بیٹا! اچھی بات خوشبو کی مانند ہوتی ہے۔ اپنا اثر ضرور چھوڑتی ہے۔۔۔۔اور پھر صحت مند گفتگو اور اعلٰی پائے کے مصنفین کی کتب کے مطالعے اور حوالے کے رجحان کافروغ آپ کے ذریعے اگر ہو تو یہ انتشار فکری اور پراگندہ خیالی کے اس دور میں بہت بڑی خدمت ہے۔۔۔‘

’جی بالکل درست کہا ۔۔۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ ڈیجیٹل لائبریریز سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے لیکن ورقی کتب کےمطالعے کے رجحان کو ترک کرنا حماقت ہو گی۔۔۔‘

‘اور اب آپ اٹھیں، فریش ہو لیں، جوس رکھا ہے آپ کےلیے۔۔۔’

"اسٹرابری کا؟؟” اس کی آنکھوں میں چمک آگئی تھی۔

‘جی بالکل اور ایک گلاس نہیں، دو نہیں، پورا جگ ۔۔۔’

‘یا ہووووووووووووو۔۔۔۔ میری امی زندہ باد۔۔۔’

 ‘جوس پی کر اپنی لائبریری کو ترتیب دیجیے نئی کتب آپ کے باباجان لے آئے تھے۔۔‘

‘ارے واہ۔۔۔’ وہ خوشی سے پھولا نہ سمایا، قبل اس کے کہ میرے گلے میں بانہیں ڈال کے جھول جاتا میں نے فوراً راہ لی باورچی خانے کی۔۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

2 پر “خیال ہیں گرہ گرہ ” جوابات

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    بہت عمدہ کہانی۔۔۔۔۔ اب ایسی کہانی سننے اور سنانے والی مائیں کہاں۔۔۔۔۔ اور نہ اسلام کی صحیح تعلیمات ۔۔۔۔ بس دکھاوا ،بدعات،فروعی مباحث ۔۔ فرقہ واریت۔۔۔۔ سچ یہی ہے کہ یہ نعمت مفت میں ملی۔۔۔۔ سو اسے سمجھنے میں کون سر کھپایے ۔۔۔۔ ۔ سبق اموز۔۔۔۔ مجھے ہے حکم اذاں لا الہ اللہ ۔۔۔۔

  2. شرجیل Avatar
    شرجیل

    اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بھی نیکی کی راہ میں چلنے کی توفیق دے

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے