گل-چاہت-خواجہ-سرا-ٹرانس-جینڈر

ٹک ٹاکر خواجہ سرا گل چاہت کو تبدیلی کا سفر کیوں راس نہیں آیا؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

گزشتہ برس اپریل میں بادبان پر گل چاہت نامی ایک خواجہ سرا کا قصہ بیان کیا گیا تھا جو ٹک ٹاکر تھی، رقص کرتی تھی اور ایسی ہی کچھ دیگر سرگرمیاں تھیں۔ تاہم وہ پھر اچانک ’ معاویہ‘ بن گئی۔ اب وہ ایک بار پھر گل چاہت بن چکی ہے۔ گزشتہ برس وہ پاکستان میں تھی، اب وہ جرمنی پہنچ چکی ہے۔ وہ پاکستانی معاشرے کے بارے میں شکوہ کرتی ہے کہ یہاں سانس لینے کی آزادی بھی نہیں۔

گزشتہ برس، اپنے انٹرویو میں اس نے کچھ اشارے دیے تھے کہ وہ دین کے مطابق زندگی بسر کرنے لگی ہے لیکن اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کا کہنا تھا: وہ مزید کہتے ہیں: لوگ اپنے، اپنے طریقے کے مطابق مجھے چلا رہے ہیں۔ مثلاً آپ ٹک ٹاک نہ کرو، ویڈیو اپلوڈ نہ کرو، آپ ایسے نہ گھومو پھرو حتیٰ کہ لوگ میرے عبادت کے طریقے پر بھی اعتراضات کرتے ہیں۔‘

گل چاہت کا یہ انٹرویو بنیادی ایک جرمن میڈیا ادارے نے لیا تھا۔ انہوں نے اپنے بارے میں مزید کیا بتایا تھا، پہلے یہ جان لیجیے۔

خیبر پختونخوا کی وادی سوات سے تعلق رکھنے والی نامور خواجہ سرا کو پیدائش کے وقت ‘عنایت’ کا نام دیا گیا تھا انہوں نے آج سے سولہ برس قبل اپنا گھر چھوڑ دیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر17 برس تھی۔ جب وہ 8،7 برس کی تھیں توانھیں اپنے خواجہ سرا ہونے کا علم ہوا۔ جب باہر جانا ہوتا، مسجد، مدرسہ، اسکول تو بچے انہیں بے حد پریشان کرتے، جبکہ گھر آنے پر والد صاحب اور بڑے بھائی کی جانب سے ان کے اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، پھرنے کےانداز کے درست نہ ہونے پر ڈانٹ ڈپٹ اور طعن و تشنیع کا ہر وقت سامنا کرنا پڑتا، یہی وجہ ہے کہ بالآخر انہوں نے گھر چھوڑ دیا۔ وادی سوات سےہری پور پہنچنے پر ‘عنایت’ کے ‘گل چاہت’ بننے کا سفر شروع ہوا۔

ہری پور میں انہیں ایک ایسی گرو ملی جو بہت اچھی تھی۔ انہوں نے  گل چاہت کی تربیت کی۔ پاؤں میں گھنگرو، ہاتھوں میں چوڑیاں، گلے میں ہار وغیرہ آنکھوں میں کاجل اور رقص سکھایا۔ نسوانیت کااحساس بچپن سے پایا جاتاتھا۔ عورت بننے کا شوق اس قدر غالب رہا کہ بہت سی پلاسٹک سرجریز کروائیں۔ ڈانس پارٹیز میں مقبولیت سوشل میڈیا تک پہنچی تولاکھوں افراد دیکھنے اور پسند کرنے لگے۔ ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب چینل، ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ان کے فالوورز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

ان کے بقول وہ تبلیغی اجتماع پر جاتیں، خواتین کے حقوق اور صلہ رحمی پر بات کرتیں لیکن ان کی بات سننے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہوتا تھا۔ وہ بطور خواجہ سرا اپنی پہچان نہیں چھپاتی تھیں، یوں لوگ ان سے منہ موڑ لیتے، یوں یہ خاموشی اختیار کر لیتی۔

گل چاہت ماضی کو دوہرانا نہیں چاہتیں لیکن اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک نے انہیں دل برداشتہ کر دیا ہے۔

اس وقت انھوں نے بتایا’ لوگ اپنے، اپنے طریقے کے مطابق مجھے چلا رہے ہیں۔ مثلاً آپ ٹک ٹاک نہ کرو، ویڈیو اپلوڈ نہ کرو، آپ ایسے نہ گھومو پھرو حتی کہ لوگ میرے عبادت کے طریقے پر بھی اعتراضات کرتے ہیں۔‘

شناخت کے حصول کے لیے زندگی کے مختلف ادوار میں اپنی پہچان بدلنے والی گل چاہت کی خواہش تھی کہ خواجہ سراؤں کو بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ معاشرتی سطح پر قبولیت بھی دی جائے۔ تاہم انھیں دین کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے بھی لوگوں کے برے سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں انھوں نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ اب وہ جرمنی میں ہیں۔ اب جہاں وہ پاکستانی معاشرے میں اپنے ساتھ ہونے والے بُرے سلوک کا ذکر کرتی ہیں اور اس سوال کا جواب بھی دیتی ہیں کہ جرمنی میں، ان کی زندگی کیسے گزر رہی ہے اور وہ یہاں اپنے مستقبل کو کیسے دیکھتی ہیں؟ اور کیا جرمنی میں ان کی پہچان کا سفر مکمل ہوچکا ہے؟

گل چاہت کا کہنا ہے کہ جرمنی تک ان کا سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ بہت سی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے یہاں پہنچی ہیں۔ ان کی جو جمع پونجی تھی، وہ اس پر خرچ ہوچکی ہے۔ وہ کہتی ہی:

‘ میں پاکستان سے یہاں اپنی مرضی سے نہیں آئی۔ لوگوں کے طعنوں سے تنگ ہوکر یہاں پہنچی ہوں۔ یہاں میں نے سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے۔ یہاں مجھے ایک گاؤں جیسی جگہ میں رہنا پڑ رہا ہے۔  یہاں رہنے کے لیے مفت مکان دیتے ہیں اور کھانے پینے کے لیے مفت سامان دیتے ہیں۔ اور پیسے بھی دیتے ہیں۔ یہاں تعلیم بھی مفت ہے اور میں اپنی مرضی سے زندگی گزار رہی ہوں۔ پاکستان میں کھاتی پیتی اپنا تھی اور  جیتی تھی لوگوں کی مرضی سے۔ یہاں کھاتی پیتی ان کا ہوں اور جی رہی ہوں اپنی مرضی سے۔‘

گل چاہت جرمنی میں گزرنے والے اپنے شب و روز کے بارے میں بتاتی ہیں

‘ یہاں میں صبح اٹھتی ہوں، ناشتہ کرتی ہوں۔ ناشتے کے بعد میں جرمن زبان سیکھنے کے لیے بیٹھ جاتی ہوں۔ یہاں زبان سیکھے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔  میں جرمن زبان یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھ کر سیکھتی ہوں۔ میں کچھ الفاظ سیکھتی ہوں۔ دن بھر میں چار پانچ الفاظ سیکھنا میرے لیے بہت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ میں باہر جاکر ٹک ٹاک کے لیے دو چار ویڈیوز بناکر اپ لوڈ کردیتی ہوں۔ اور کچھ بھی نہیں۔‘

وہ کہتی ہیں’ پاکستان میں، اپنی مرضی سے سانس بھی نہیں لے سکتی تھی۔ اگر میں ویڈیو بناتی تھی تو لوگ اس پر نکتہ چینی کرتے تھے کہ آپ نے یہ کیا، وہ کیا۔ لوگ مزے مزے سے ویڈیوز دیکھتے تو ہیں۔ پھر اتنے برے کمنٹس کرتے ہیں کہ وہ انسان سے برداشت نہیں ہوسکتا۔ لوگ میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ کئی دفعہ مجھ پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ مجھے اپنی زندگی چاہیے تھی۔ زندگی ہے تو سب کچھ ہے۔ یہاں مجھے کوئی مار نہیں سکتا۔ مرنا ہے حق ہے۔ اللہ جب چاہے گا تو ہم مریں گے لیکن وہاں زمینی خدا ہمیں مار دیتے ہیں۔ یہاں یہ خطرہ نہیں ہے۔‘

گل چاہت کہتی ہیں’ پاکستان میں بڑے بڑے مولوی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ کام نہیں ہے۔ آپ نہ نماز پڑھ سکتی ہو نہ عمرہ کرسکتی ہو۔ اور نہ آپ تبلیغ پر جاسکتی ہو۔ آپ ناچنے کے لیے پیدا ہوئی ہو۔ آپ ناچو گاؤ۔ نہ آپ کی نماز قبول ہوتی ہے نہ روزے قبول ہوتے ہیں۔جنھیں ہم اچھے انسان سمجھتے ہیں کہ وہ مولوی ہیں یا مفتی ہیں، وہ اٹھ کر آپ پر ایسے فتوے لگاتے ہیں کہ آپ جی سکتے ہیں نہ مر سکتے ہیں۔‘

گل چاہت اب ایک بار پھر اپنی پرانے طرز زندگی کی طرف پلٹ چکی ہیں۔ ٹک ٹاک پر ان کے ویڈیو کلپس موجود ہیں جس میں وہ ڈانس وغیرہ بھی کرتی ہیں۔ اس پر اب لوگوں کی طرف سے شدید ردعمل آ رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں

’ جب میں اللہ کے گھر میں تھی، تب بھی لوگ مجھے برا بھلا کہتے تھے۔ میں اب بھی کوئی اتنا برا نہیں کر رہی۔ چرس، پاؤڈر نہیں بیچتی، زنا نہیں کرتی۔ ایسے غلط کام نہیں کرتی جو لوگ کرتے ہیں۔  ہم ایسا کون سا گناہ کرتے ہیں۔ میں تو ویڈیوز بناؤں گی۔ جس کو میری ویڈیوز بری لگتی ہیں، وہ نہ دیکھے۔‘

گل چاہت کہتی ہیں’ یہاں( جرمنی) میں ، سب سے پہلے زبان سیکھنا چاہتی ہوں۔ مجھے ابھی تک یہاں کی زبان نہیں آتی۔ جب میں یہاں زبان سیکھوں گی تو آگے بڑھوں گی۔ یہی وقت ہے۔ میں یہاں کام کرنے آئی ہوں نہ پیسے کمانے آئی ہوں۔ میں پڑھنا چاہتی ہوں۔ میں یہاں زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔ میں ایسا انسان بننا چاہتی ہوں کہ دوسروں کے کام آسکوں۔ میں لوگوں کو دکھانا چاہتی ہوں کہ میں بھی ایک انسان ہوں۔ جو آپ لوگ کرسکتے ہو، وہ میں بھی کرسکتی ہوں۔یہاں مجھے امید ہے کہ میری جو بھی صنف( جینڈر) ہے، اسے نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ یہاں سب کے حقوق برابر ہیں۔میں صرف اپنے لیے نہیں سارے معاشرے کے لیے ایک اچھا انسان بننا چاہتی ہوں۔‘

یہ تو تھیں ٹک ٹاکر خواجہ سرا گل چاہت کی باتیں، ممکن ہے کہ سب باتیں درست نہ ہوں اور ممکن ہے کہ درست ہوں۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک رویہ واضح طور پر پایا جاتا ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی دوسرے فرد کو اپنے ہی فہم دین کے مطابق چلانا چاہتا ہے۔ اسی رویے نے ڈانس وغیرہ کی دنیا چھوڑ کر تبلیغی جماعت کی طرف ملتفت ہونے والی گل چاہت کو بدظن کردیا۔

کیا واقعی ایک خواجہ سرا کو نماز نہیں پڑھنی چاہیے؟ روزہ نہیں رکھنا چاہیے؟ اگر وہ عمرہ کرلے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا چاہیے؟ اگر وہ دین کے مطابق زندگی گزارنا چاہے تو کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے منع روکے! اور اب وہ بدظن ہوکر ایک بار ڈانس کی دنیا میں پہنچ چکا، جرمنی میں ہم جنس پرستوں کی تحریک کا حصہ بن چکا ہے تو اس کا ذمہ دار کون؟


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے