قطر نے اوپیک کو خیرباد کہہ دیا،سبب سعودی عرب سے جھگڑا تھا؟

اہم خلیجی ملک قطر نے آرگنائزیشن آف دی پٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز(اوپیک) سے نئے سال کے آغاز پر علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق قطر کے وزیر پیداوار سعد الکابی نے اگلے ماہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی عالمی تنظیم اوپیک سے الگ ہونے کا اعلان کردیا۔ یادرہے کہ قطر اوپیک کے رکن ممالک میں سب سے کم تیل کی پیداوار والا ملک ہے ، وہ روزانہ ساٹھ لاکھ نوہزار بیرل تیل نکالتا ہے.

قطری وزیر کے مطابق ہمارا ملک پیٹرول سے زیادہ گیس کی پیداوار بڑھانا چاہتا ہے، اس کیلئے اوپیک میں رہنے کا کوئی جواز نہیں، قطر اگلے سال جنوری میں اوپیک کی رکنیت سے الگ ہو جائے گا۔ دوحہ میں پریس کانفرنس سے خطاب میں سعد کابی کا مزید کہنا تھا کہ قطر تیل کی پیداوار ختم نہیں کرے گا، تاہم مرکزی حیثیت گیس کے ذخائر اور پیداوار پر مرکوز رکھی جائے گی۔ قطر اب گیس کی پیداوار میں پچاس فیصد اضافہ کرے گا. وہ ستتر ملین ٹن سے ایک سو دس ملین ٹن گیس نکالے گا.

کابی کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے فیصلے کے بارے میں حقیقت پسندی سے کام لے رہے ہیں، ہمارے پاس تیل کے وہ ذخائر نہیں جو گیس کی پیداوار کے موجود ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قطر دنیا میں لیکوڈ نیچرل گیس(ایل این جی) برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے۔ واضح رہے کہ قطر نے سال 1961 میں اوپیک میں شمولیت اختیار کی تھی،اس کے رکن ممالک کی تعداد پندرہ تھی جبکہ اس پر سعودی عرب کی اجارہ داری قائم تھی۔ سال 2017 میں قطر کے خلاف شروع ہونے والے سفارتی تنازعے میں دیگر ممالک کی جانب سے قطر پر پابندیاں عائد کرنے کیلئے گھیرا تنگ کیا گیا۔ سعودی عرب اور اس کے حامی تین عرب ریاستوں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کا مقاطعہ کر رکھاتھا، انھوں نے قطر پر الزام عائد کیاتھا کہ وہ دہشت گردی کی مدد کرتاہے. تاہم قطری وزیر نے اس خیال کو مسترد کیا کہ اوپیک چھوڑنے کے فیصلے کا خطے کی سیاسی صورت حال یا مقاطعے سے کوئی تعلق ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں