Tazeen Hasan

سفر نامہ مصر: بحیرۂ عرب کے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک (2)

·

اب آگے کی سنیں۔ ایک پاکستانی ڈاکٹر دوست کے تعاون سے حسن نے بدقّتِ تمام ہسپتال سے اپنی ذمہ داریوں سے رخصت تو لے لی اور ایگزٹ اینٹری بھی لگوا لیا مگراس سے قبل آٹھ سو کلومیٹر جدّہ جا کر ویزا لگوانے کے لیے مزید چھٹی لینے سے صاف انکار کر دیا۔

ہم نے بخوشی اس کام کی ذمہ داری اپنے ناتواں کندھوں پر لے لی۔ ہمارے شہر ضبا ٔ الشمال سے روز رات ساڑھےبارہ بجے ایک بس مکّہ جاتی اور ٹھیک دوپہر ساڑھےبارہ بجے مسجد الحرام کے عبدالعزیز گیٹ پر واقع ساپٹکوآفس پر اتارتی۔ ہم ایک دفعہ  اکیلے یہ ایڈونچر  کر چکے تھے مگر اس دفعہ ہماری  اصل منزل جدّہ تھی جو ضبا سے بارہ گھنٹے ہی کی مسافت پرتھا۔ ساپٹکویعنی سعودی روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن سے ہماری پرانی یاری  تھی۔ اور سا پٹکو ہی پہ  کیا موقوف ہم نے نظریۂ  ضرورت کے تحت دنیا بھر کے رکشا ٹیکسی بسوں ٹرینوں سے اچھی سلام دعا رکھی اور ہمیشہ انہیں اپنی ذاتی سواری سمجھ کر استعمال کیا۔

جمعہ کے دن تقریباً رات آٹھ بجے جدّہ کے لیے رخت سفر بندھا۔ سفر سے پیشتر بچوں کے کپڑے وغیرہ تیار کیے، بنگالی ملازم اور بچوں کو ہدایات وغیرہ دے  کر گھر سے نکلے۔گو کوچ کے بارہ گھنٹے کے سفر کے مقابلے میں ہوائی سفر تقریبا سوا گھنٹے کا ہوتا مگر ضبا میں ائیرپورٹ  نہ ہونے کےسبب حسن کو ہمیں ڈیڑھ دو سو کلومیٹر دور تبوک یا الوجہ ALWAJH  ڈراپ کرنا پڑتا۔ پھر فلائٹ کے اوقات اور دیگر پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ہم نے کوچ کا نسبتاً لمبا سفر اختیار کیا۔ حسن نے ہمیں ضبا کے سیپٹکوآفس ڈراپ کر دیا۔ دل ہی دل میں ہم اپنے باحفاظت سفر اور ویزا کے بہ آسانی حصول کی دعا مانگتے رہے کیوں کہ  مملکت سعودیہ کے ماحول کو دیکھتے ہوئے کچھہ بعید نہیں تھا کہ ہمیں جدّہ سے یہ کہ کر واپس کر دیا جاتا کہ کسی مرد کو بلاؤ یا جس کا اقامہ ہے ویزا اسے ہی دیا جا سکتا ہے۔

سفر میں عرب نیوز کے جریدہ اردو میگزین میں اسکندریہ کی تاریخ اور سیاحت پر ہمارا مضمون ہمارے ہمرکاب تھا جو اسی روزچھپا تھا۔ ہم مضمون پڑھتے رہے اور اپنے آپ کو داد دیتے رہے۔ ہمارے پیش رو انشا جی بھی اپنی کتابیں پڑھ کر پڑھے لکھے ہوئے تھے اور ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی  ہے۔ 

صبح آٹھ بجے جدّہ پہنچ کر ہم نے سعودی روڈ ٹرانسپورٹ کے لیڈیز ویٹنگ روم میں اپنا حلیہ درست کیا اور شارع روضہ پر واقع مصر کونسلیٹ کے لیے ٹیکسی پکڑی۔ تقریباً ساڑھے نو بجے تک تمام کارروائی مکمل ہو چکی تھی تھے اور ویزا لگے پاسپورٹ ہمارے ہاتھ میں تھے۔

واپس سعودی روڈ ٹرانسپورٹ کی بلڈنگ پہنچے اور ضبا واپسی کا ٹکٹ لیا۔ چونکہ بارہ بجے والی بس میں کچھ دیر تھی سوچا بلد (ڈاؤں ٹاون جدّہ کا مرکزی بازار) سے کچھ شاپنگ وغیرہ کرلیں۔ شاپنگ سے فارغ ہو کر ہم واپس ساپٹکو آفس پہنچے تو معلوم ہوا بس قبل از وقت ہی بے وفا محبوب کی طرح ہمیں چھوڑ کر ضبا روانہ ہو گئی ہے۔ اللہ کے گھر کی دید ہمارے اس پروگرام میں شامل نہ تھی مگر کوچ نکلنے کے اس اتفاق کو ہم نے بلاوا سمجھا اور جھٹ مکّہ کا ٹکٹ کٹوا لیا۔

مکّہ کا یہ شہر تمام عالم میں ہمارا محبوب ترین شہر ہے۔گو یہاں نہ تو قدیم زمانے کے  کھنڈرات ہیں نہ تاریخی یادگاروں سے مزیّن میوزیمز اور نہ قبل مسیح کی دیو ہیکل تعمیرات جو ہمیں عہد رفتہ کے انسانوں کے حیرت انگیز کمالات کی یاد دلائیں۔ یہاں قرب و جوار میں نہ تو سر سبز و شاداب وادیاں ہیں اور نہ پرسکون جھیلیں نہ بحر روم کے قدرتی حسن سے مالا مال جزیرہ مگر پھر بھی اس شہر میں موجود مکعب نما سادہ سی عمارت میں ایسی کشش ہے جو ہماری طرح تمام عالم کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسلامی روایت کے مطابق روئے زمین کی توحید پر مبنی اس قدیم ترین عبادت گاہ نے مسلمانوں کو ہی نہیں عرب کےمشرکین  اور دیگر عقائد کے پیروکاروں کو بھی اس کے گرد دیوانہ وار چکّر لگانے پر مجبور کیا۔ اس کی کشش نے انگریزی زبان میں ایک محاورے کی شکل اختیار کر لی۔ مکّہ کا لفظ انگریزی زبان میں ایسی جگہ کے لیے مستعمل ہے جو اپنی طرف کھینچے اور جو کشش کا مرکز ہو۔ ایسا مقصد جسے انجام دینے کی شدّت سے خواہش ہو۔


اور ہم ایک بار پھر کشش کے اس مرکز کی طرف گامزن تھے۔ اللہ کے گھر سے جو عشق ہمیں پہلی نظر میں ہوا تھا وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا اور حجاز میں رہائش اختیار کرنے کے بعد تو اس کی تڑپ دو آتشہ ہو گئی تھی۔ اب تو ایسا لگتا تھا کہ یہ شہر بھی ہماری راہ تک رہا ہے۔ مکّہ پہنچے تو حج کی پہلی فلائٹ آنے میں تقریباً ایک ہفتہ تھا۔ عمرہ ویزا اس دور میں اس سے قبل بند ہو چکے ہوتے تھے۔ مسجد حرام جو سال کا بیشتر حصہ زائرین کے رش سے کھچاکھچ بھری رہتی ہے تقریباً خالی تھی۔گو شمع کے گرد چکر لگانے والے نومبر کی تپتی دھوپ میں بھی کم نہ تھے۔

یہ موقع اس دور میں بھی سال میں صرف دو مرتبہ آتا تھا جب مسجد الحرام میں توحید کے پروانوں کا رش کچھ کم ہوتا ایک رمضان کا مہینہ ختم ہونے کے بعد حج کی پہلی فلائٹ سے پہلے اور دوسرا حاجیوں کی واپسی کے بعد جب تک زائرین عمرہ کے ویزا نہیں کھولے جاتے۔ اس سونے پن بھی میں مسجد الحرام پہلے سے زیادہ حسین دکھائی دیتی ہے اور عبادت میں بےحد مزہ آتا ہے۔ ہم نے اپنی شاپنگ حرم کے گرد لاکرزکے حوالے کی اور اللہ کے حضور حاضری کے لیے تیار ہوگئے۔

طواف وغیرہ سے فارغ ہو کر تقریباً  ساڑھے پانچ بجے جدّہ پہنچے تو ضبا کے لیے بس پھر ہمیں چھوڑ کر روانہ ہونے والی تھی بددقّتِ تمام پکڑی اور دوسرے دن صبح ساڑھے پانچ بجے تقریباً دو ہزار کلومیٹر کا کامیاب سفر کر کے واپس گھر پہنچ چکے تھے۔

 راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں