تحریر: میر بابر مشتاق
اپنا روزگار کسی کے کہنے پر بند رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ اپنی دکان پر کسی دوسرے کے فیصلے کی وجہ سے تالے لگائے رکھنا اس شخص کے لیے شاید سب سے مشکل فیصلہ ہوتا ہے جس کا گھر روز کی کمائی سے چلتا ہے۔ ایک دکاندار کے لیے کاروبار کا ایک دن بند ہونا صرف سیاسی سرگرمی نہیں، براہِ راست مالی نقصان ہے۔ مزدور کے لیے کام کا ایک دن ضائع ہونا گھر کے چولہے پر اثرانداز ہوتا ہے۔
اس لیے جب ہزاروں، لاکھوں لوگ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کی اپیل پر اپنا کاروبار بند کردیں تو اس واقعے کو محض ایک ہڑتال کہہ کر گزر جانا درست نہیں۔ اس کے پیچھے ایک خاص قسم کا اعتماد موجود ہوتا ہے۔
اور حالیہ ہڑتال کی سب سے نمایاں بات یہی ہے کہ یہ اعتماد حافظ نعیم الرحمٰن اور جماعت اسلامی کی اپیل پر ملک کے مختلف حصوں میں دکھائی دیا۔
اس کامیابی کو سمجھنے کے لیے دو چیزوں کو سامنے رکھنا ہوگا: مسئلے کا درست انتخاب اور قیادت کا اخلاقی وزن۔
بجلی کے بھاری بل، پیٹرولیم مصنوعات پر بوجھ، پیٹرولیم لیوی، ٹیکسوں کی بھرمار، آئی پی پیز کو ادائیگیاں اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی ایسے مسائل ہیں جن کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں، براہِ راست عام آدمی کی زندگی سے ہے۔
جب بجلی کا بل گھر کا بجٹ بگاڑ دے تو یہ مسئلہ سیاسی نعرہ نہیں رہتا۔
جب پیٹرول کی قیمت سفر، کاروبار اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر ڈالے تو یہ محض معاشی اصطلاح نہیں رہتی۔
جب مہنگائی تنخواہ دار طبقے، مزدور، دکاندار اور متوسط گھرانے کو پریشان کرے تو ریلیف کا سوال ہر گھر کا سوال بن جاتا ہے۔
اسی لیے حافظ نعیم الرحمٰن کی ہڑتال کی کال عوام کے لیے ایک ایسے مسئلے سے جڑی ہوئی تھی جسے وہ اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کر رہے ہیں۔
لیکن صرف مسئلہ کافی نہیں تھا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عوام کو بہت سی ہڑتالوں کی کالیں دی گئی ہیں۔ ہر جماعت نے کبھی نہ کبھی احتجاج کیا، کبھی دھرنا دیا اور کبھی کاروبار بند رکھنے کی اپیل کی۔ مگر ہر کال پر بازار بند نہیں ہوتے، ہر آواز پر دکاندار اپنا روزگار قربان نہیں کرتا۔
اس کے لیے کال دینے والے کی بات میں وزن ہونا چاہیے۔
اخلاقی وزن۔
عوام کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ جو شخص انہیں اپنا کاروبار بند کرنے کا کہہ رہا ہے، وہ کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ان کے مسئلے کے لیے کھڑا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حافظ نعیم الرحمٰن کی حالیہ جدوجہد کو دیکھنا چاہیے۔
پارلیمنٹ کی طاقت نہیں، عوام کا اعتماد
حالیہ سیاسی منظرنامے میں جماعت اسلامی کے پاس وفاقی حکومت نہیں، صوبائی حکومت نہیں اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں بھی وہ عددی طاقت موجود نہیں جس کے ذریعے وہ حکومتی فیصلوں کو پارلیمانی اکثریت سے تبدیل کرسکے۔
اس کے باوجود اس کی اپیل پر ملک کے مختلف حصوں میں کاروبار بند ہونا ایک اہم سیاسی واقعہ ہے۔
بلوچستان سے سندھ اور خیبر پختونخوا سے پنجاب تک لوگوں کا اپنی دکانیں بند کرنا یہ بتاتا ہے کہ سیاسی طاقت کا ایک پیمانہ پارلیمنٹ کی نشستوں کے علاوہ بھی ہے۔
وہ پیمانہ ہے:
عوام کا اعتماد۔
یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے۔
مسلم لیگ ن ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے اور متعدد مرتبہ وفاقی اقتدار تک پہنچ چکی ہے۔ کیا محض اس کے کسی مرکزی رہنما کی اپیل پر پورے ملک کا کاروباری طبقہ رضاکارانہ طور پر اپنا روزگار بند کردے گا؟
پیپلز پارٹی ایک صوبے میں طویل عرصے سے مضبوط سیاسی طاقت رکھتی ہے۔ کیا اس کی کال پر کراچی کا کاروبار صرف سیاسی وابستگی کی بنیاد پر مکمل طور پر بند ہوجائے گا؟
تحریک انصاف بھی ایک صوبے میں طویل عرصے تک حکومت کرچکی ہے اور اس کے پاس ایک بڑا سیاسی ووٹ بینک ہے۔ کیا محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ہر دکاندار اپنا کاروبار بند کرنے پر آمادہ ہوجائے گا؟
یہ سوال دراصل کسی جماعت کی تضحیک کے لیے نہیں بلکہ ایک بنیادی حقیقت سمجھنے کے لیے ہیں۔
ریاستی یا انتخابی طاقت اور اخلاقی طاقت ایک جیسی چیزیں نہیں۔
حکومت اقتدار کے ذریعے فیصلے نافذ کرسکتی ہے، لیکن عوام سے رضاکارانہ قربانی صرف اعتماد کے ذریعے مانگی جاسکتی ہے۔
یہ اعتماد تقریروں سے نہیں بنتا۔
یہ وقت کے ساتھ کردار سے بنتا ہے۔
ہڑتال نے کیا ثابت کیا؟
حالیہ ہڑتال نے کم از کم ایک بات ضرور ثابت کی ہے کہ جماعت اسلامی کے بارے میں یہ تصور کہ اس کے پاس عوامی رسائی یا اثر باقی نہیں رہا، اس سادہ انداز میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔
پارلیمنٹ میں نشستیں کم یا زیادہ ہوسکتی ہیں۔
انتخابی نتائج کسی جماعت کے حق میں یا خلاف ہوسکتے ہیں۔
لیکن جب ایک دکاندار اپنی دکان کا شٹر گراتا ہے، ایک تاجر کاروبار روک دیتا ہے اور ایک مزدور کام سے رک جاتا ہے تو وہ اپنے عمل سے ایک پیغام دے رہا ہوتا ہے۔
وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ میرے لیے اہم ہے۔
اور اگر وہ یہ قدم کسی رہنما کی اپیل پر اٹھاتا ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اسے اس رہنما کی نیت اور بات پر کسی حد تک اعتماد ہے۔
یہ اعتماد جماعت اسلامی کے لیے محض سیاسی سرمایہ نہیں، ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے۔
کیونکہ عوام کا اعتماد حاصل کرنا مشکل ہے اور اسے برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل۔
ہڑتال کو جماعت اسلامی کے دھرنے کے تناظر سے الگ کرکے بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔
ایک طرف مسلسل دھرنا ہے، دوسری طرف ملک گیر احتجاج اور ہڑتال ہے، جبکہ حکومت بالآخر مذاکرات کے لیے منصورہ پہنچ گئی۔
یہ پورا سلسلہ ایک ہی سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے:
کیا عوام کے معاشی مسائل کو مزید نظرانداز کیا جاسکتا ہے؟
حکومت منصورہ صرف جماعت اسلامی سے مذاکرات کرنے نہیں آئی۔
میز پر جماعت اسلامی کی قیادت ضرور بیٹھی تھی، لیکن گفتگو کے موضوعات لاکھوں پاکستانیوں کی زندگی سے متعلق تھے۔
پیٹرول پر لیوی کیوں؟
بجلی اتنی مہنگی کیوں؟
آئی پی پیز کو ادائیگیوں کا بوجھ عوام کیوں اٹھائیں؟
مہنگائی سے متاثرہ گھرانوں کو حقیقی ریلیف کب ملے گا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف جماعت اسلامی نہیں مانگ رہی۔
یہ سوال اب عوام پوچھ رہی ہے۔
جماعت اسلامی نے ان سوالات کو ایک منظم سیاسی جدوجہد کا عنوان بنایا ہے۔
حکومت کا منصورہ آنا کسی ایک ملاقات کی خبر سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلسل عوامی دباؤ کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
حکومت کے پاس مذاکرات کے لیے اپنے ادارے اور فورمز موجود ہیں، لیکن جب حکومتی نمائندے خود منصورہ پہنچتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ احتجاج نے سیاسی گفتگو کا رخ تبدیل کرنے میں کچھ نہ کچھ کردار ادا کیا ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔
کیونکہ عوام صرف یہ نہیں دیکھے گی کہ کون کس کے دفتر گیا۔
عوام یہ دیکھے گی کہ اس ملاقات کے بعد اس کی زندگی میں کیا بدلا۔
اگر بجلی کے بلوں میں حقیقی ریلیف آتا ہے، پیٹرولیم لیوی کے بوجھ پر نظرثانی ہوتی ہے، آئی پی پیز کے معاملات میں عوامی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے، ٹیکسوں کا نظام منصفانہ بنایا جاتا ہے اور مہنگائی کے مقابلے کے لیے مؤثر اقدامات سامنے آتے ہیں تو پھر یہ مذاکرات ایک معنی خیز پیش رفت ہوں گے۔
ورنہ ملاقاتیں اور بیانات اپنی جگہ، عوام کے مسائل اپنی جگہ رہیں گے۔
اب کارکنوں کا امتحان ہے
اس مرحلے پر جماعت اسلامی کے کارکنوں کے لیے سب سے اہم چیز جذبات نہیں بلکہ استقامت اور حکمت ہے۔
ہڑتال کی کامیابی یقیناً غیرمعمولی ہے، لیکن اسے آخری منزل سمجھنا درست نہیں۔
منصورہ میں مذاکرات کا آغاز بھی اختتام نہیں۔
اصل منزل عوام کو حقیقی ریلیف دلانا ہے۔
اس کے لیے کارکنوں کو ثابت قدم رہنا ہوگا، مستقل مزاجی اختیار کرنا ہوگی اور جلد بازی سے بچنا ہوگا۔
تحریکیں صرف جوش سے کامیاب نہیں ہوتیں؛ انہیں نظم، صبر، حکمت اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔
حالیہ ہڑتال نے ایک دروازہ کھولا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اعتماد کو مزید مضبوط کیا جائے اور اسے کسی وقتی سیاسی فائدے کے بجائے مستقل عوامی خدمت میں تبدیل کیا جائے۔
پاکستانی سیاست میں بہت سے لوگوں کے پاس اقتدار رہا، بہت سے لوگوں کے پاس پارلیمانی اکثریت رہی، بہت سے لوگوں کے پاس حکومتی وسائل رہے۔
لیکن اقتدار ختم ہوجاتا ہے، نشستیں تبدیل ہوجاتی ہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔
جو چیز دیر تک ساتھ رہتی ہے وہ کردار ہے۔
اگر عوام کسی شخص کے بارے میں یہ یقین رکھتی ہو کہ وہ سچ بولتا ہے، ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر بات کرتا ہے اور جس مسئلے کو عوام کا مسئلہ سمجھتا ہے اس پر کھڑا رہتا ہے تو یہی اعتماد اسے دلوں میں جگہ دیتا ہے۔
حالیہ ہڑتال کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ صرف بازار بند ہونے کا واقعہ نہیں۔
یہ ایک سیاسی جماعت کے لیے عوامی اعتماد کا امتحان بھی ہے اور اس اعتماد کا اظہار بھی۔
اور شاید اسی لیے اسے معمولی واقعہ سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔
حکومت کو منصورہ آنا پڑا۔
انیس دن کے دھرنے کے بعد مذاکرات کی میز سج گئی۔
عوام نے ہڑتال کے ذریعے اپنا حصہ ڈال دیا۔
اب اگلا مرحلہ حکومت اور جماعت اسلامی، دونوں کے سامنے ہے۔
حکومت کو ثابت کرنا ہے کہ وہ عوام کے مطالبات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
اور جماعت اسلامی کو ثابت کرنا ہے کہ وہ حاصل ہونے والے عوامی اعتماد کو صبر، دیانت اور مستقل مزاجی کے ساتھ عوام کے حق میں استعمال کرے گی۔
کیونکہ یہ کسی ایک جماعت کا مقدمہ نہیں۔
یہ اس دکاندار کا مقدمہ ہے جو بجلی کا بل دیکھ کر پریشان ہے۔
یہ اس مزدور کا مقدمہ ہے جس کی آمدنی مہنگائی کے سامنے کم پڑ گئی ہے۔
یہ اس نوجوان کا مقدمہ ہے جسے روزگار چاہیے۔
یہ اس گھرانے کا مقدمہ ہے جو مہینے کے آخر تک اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہے۔
ہڑتال نے اپنی زبان میں بات کہہ دی ہے۔
اب منصورہ کے مذاکرات کو اس زبان کا جواب دینا ہے۔
اور اگر عوام کا یہ اعتماد درست سمت میں آگے بڑھا، کارکن ثابت قدم رہے، قیادت جلد بازی سے محفوظ رہی اور مطالبات کو حقیقی ریلیف تک پہنچایا گیا تو یہ حالیہ ہڑتال صرف ایک دن کی کامیابی نہیں رہے گی۔
یہ آنے والے سیاسی سفر کی ایک اہم سیڑھی ثابت ہوسکتی ہے۔
ان شاء اللہ، منزلیں ابھی باقی ہیں۔









تبصرہ کریں