تحریر: میر بابر مشتاق
کچھ رشتے وقت کے ساتھ کمزور نہیں ہوتے، بلکہ وقت انہیں اور مضبوط کر دیتا ہے۔ کچھ وعدے حالات کے سامنے دم نہیں توڑتے، بلکہ آزمائش کی شدت میں اپنی اصل طاقت دکھاتے ہیں۔ اور کچھ وفائیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کے پاس الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔
یاسین ملک اور مشعال ملک کی داستان بھی شاید ایسی ہی ایک داستان ہے۔ ایک طرف دہلی کی تہاڑ جیل کی تنہائی، دوسری طرف برسوں سے انتظار کرتی ایک بیوی۔ ایک طرف موت یا عمر بھر کی قید کا سایہ، دوسری طرف ایک ایسا رشتہ جسے فاصلے، جیل کی دیواریں اور خوف بھی ختم نہیں کر سکے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے دہلی کی تہاڑ جیل سے جموں کی ٹاڈا / پوٹا عدالت میں زیرِ سماعت ایک پرانے مقدمے کے سلسلے میں 25 صفحات پر مشتمل بیانِ حلفی جمع کرایا ہے۔ اس بیان میں انہوں نے اپنے خلاف 1990 کے ایک مقدمے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
یہ مقدمہ کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے متعلق ہے، جس میں ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے تقریباً 36 برس بعد یاسین ملک کو ملزم نامزد کیا ہے۔ یاسین ملک کا مؤقف ہے کہ اپریل 1990 میں جب یہ واقعہ پیش آیا، وہ ایک عمارت کی پانچویں منزل سے چھلانگ لگانے کے بعد شدید زخمی ہوکر کوما میں تھے۔ ان کے مطابق اگر وہ اس واقعے میں ملوث ہوتے تو اس وقت کے گورنر جگموہن اور تحقیقاتی اداروں کی جانب سے کیے گئے مقدمات میں ان کا نام ضرور شامل ہوتا۔
یاسین ملک کا یہ بیان ایک قانونی مؤقف ہے، جس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ لیکن اس 25 صفحات کے بیانِ حلفی میں جو چیز عدالت سے باہر لوگوں کے دلوں کو چھو رہی ہے، وہ محض قانونی نکات نہیں بلکہ ایک شوہر، ایک باپ اور ایک بیٹے کا وہ درد ہے جو آٹھ برس کی قید و تنہائی نے اس کے اندر جمع کر دیا ہے۔
یاسین ملک 2019 سے تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ ایک مقدمے میں انہیں دہشتگردی کے لیے مالی معاونت کے الزام میں عمر قید کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ اب ان کے سامنے مزید مقدمات اور ممکنہ سخت سزا کا خطرہ موجود ہے۔
ایسے ماحول میں انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کے نام جو پیغام لکھا، وہ شاید اس پورے بیان کا سب سے زیادہ دردناک حصہ ہے۔
یاسین ملک کے مطابق گزشتہ آٹھ برس میں وہ اپنی اہلیہ کی آواز تک نہیں سن سکے۔ نہ فون پر بات، نہ ویڈیو کال، نہ معمول کی ازدواجی زندگی۔ ایک شوہر کے لیے اس سے بڑی محرومی کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی شریکِ حیات سے بات تک نہ کرسکے؟
اسی لیے یاسین ملک نے ایک انتہائی تلخ فیصلہ کیا۔
انہوں نے مشعال ملک کو اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کرنے کا اعلان کیا، تاکہ وہ ان کی قید، ممکنہ پھانسی یا طویل غیر یقینی زندگی کے انتظار میں اپنی پوری عمر نہ گزار دیں۔
یہ فیصلہ بظاہر علیحدگی کا اعلان ہے، لیکن اس کے پیچھے شاید ایک عجیب قسم کی محبت چھپی ہوئی ہے۔ وہ محبت جو اپنے محبوب کو اپنے ساتھ رکھنے کے بجائے اسے آزاد دیکھنا چاہتی ہے۔
یاسین ملک نے گویا مشعال سے کہا کہ میری زندگی کا کوئی یقین نہیں، میرے مستقبل پر جیل اور موت کے سائے ہیں، اس لیے میں نہیں چاہتا کہ تم بھی میری سزا کا حصہ بن جاؤ۔
لیکن یہاں کہانی ختم نہیں ہوتی۔
یہاں مشعال ملک کی وفا سامنے آتی ہے۔
ایک عورت کے لیے یہ شاید دنیا کا سب سے مشکل امتحان ہو کہ اس کا شوہر برسوں سے قید ہو، اس سے رابطہ ممکن نہ ہو، مستقبل غیر یقینی ہو اور پھر خود شوہر اسے کہے کہ میری رہائی کی امید چھوڑ دو اور اپنی نئی زندگی شروع کرلو۔
لیکن مشعال ملک نے جس جواب کا اظہار کیا، وہ وفا کی ایک غیر معمولی تصویر بن گیا۔
ان کا مؤقف تھا کہ انہوں نے یاسین ملک کے ساتھ جینے مرنے کی قسم کھائی ہے۔ وہ ساری عمر ان کے انتظار میں بیوہ کی طرح رہنے کو تیار ہیں، مگر کسی دوسرے شخص کی دلہن بننا قبول نہیں کریں گی۔
یہاں ایک لمحے کے لیے سیاست، مقدمات، ریاستیں اور سرحدیں سب ایک طرف رکھ دیجیے۔
صرف ایک انسانی رشتہ دیکھیے۔
ایک شوہر اپنی بیوی کو زندگی کی طرف واپس بھیجنا چاہتا ہے اور بیوی کہتی ہے کہ میری زندگی تمہارے ساتھ بندھی ہے۔ تمہاری قید نے مجھے تم سے جدا ضرور کیا ہے، لیکن میرے دل سے نہیں۔
یہ صرف محبت نہیں، یہ وفا کا وہ تصور ہے جسے آج کے مادی اور تیز رفتار معاشرے میں سمجھنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔
یاسین ملک نے اپنی 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ کے نام بھی انتہائی درد بھرا پیغام لکھا ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ آٹھ برس گزرنے کے باوجود وہ اپنی بیٹی کی آواز تک نہیں سن سکے۔ ڈیتھ سیل کی تنہائی میں ان کے پاس اپنی بیٹی کی صرف ایک تصویر ہے۔ وہ اسی تصویر کو دیکھ کر اسے اپنے قریب محسوس کرتے ہیں۔
سوچیے!
ایک باپ کے پاس اپنی بیٹی کو گلے لگانے کے لیے بازو نہیں، اس کی آواز سننے کے لیے فون نہیں، اس کے ساتھ بیٹھنے کے لیے گھر نہیں؛ صرف ایک تصویر ہے۔
اور اسی تصویر سے وہ اپنی بیٹی کی موجودگی کا احساس حاصل کرتا ہے۔
اس سے زیادہ دردناک منظر ایک باپ کے لیے کیا ہوسکتا ہے؟
یاسین ملک نے اپنی بیٹی کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی دادی سے مسلسل رابطے میں رہے اور روزانہ کم از کم پانچ منٹ انہیں فون کرے۔ اس چھوٹی سی ہدایت میں بھی ایک قیدی باپ کی بڑی فکر چھپی ہوئی ہے۔
وہ خود اپنی ماں کے پاس نہیں، لیکن اپنی بیٹی کو ماں کا سہارا بننے کی وصیت کررہا ہے۔
ایک طرف بیٹی اپنے باپ سے محروم ہے، دوسری طرف بوڑھی ماں اپنے بیٹے سے محروم ہے، اور درمیان میں ایک بیوی ہے جو برسوں سے اپنے شوہر کی واپسی کی امید لیے بیٹھی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یاسین ملک کا بیان محض ایک قانونی دستاویز نہیں رہتا۔ یہ ایک ایسے انسان کی اندرونی کیفیت کا عکس بن جاتا ہے جو طویل قید، تنہائی اور غیر یقینی کے باوجود اپنے خاندان کی فکر میں مبتلا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کو رحم کی اپیل یا ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش قرار دینے کے بجائے اپنے ضمیر کا آخری بیان قرار دیا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے عدالت سے اپنے لیے پھانسی کی سزا دینے کی استدعا بھی کی ہے۔
اس مؤقف سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، لیکن یہ ضرور سوچنے کا مقام ہے کہ ایک انسان کس ذہنی کیفیت میں پہنچ کر اپنی زندگی کے بارے میں ایسا فیصلہ لکھتا ہے؟
یاسین ملک کے مقدمات، ان پر عائد الزامات اور ان کے سیاسی مؤقف کے بارے میں مختلف آرا ہوسکتی ہیں۔ عدالتوں کے فیصلے اپنی جگہ اہم ہیں اور ہر الزام کا فیصلہ قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن ایک قیدی کے خاندان کے انسانی دکھ کو سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں اصل سوال صرف یاسین ملک کا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں کوئی ایسی دیوار ہے جو محبت کو قید کرسکے؟
تہاڑ جیل کی دیواریں یاسین ملک کو مشعال سے دور رکھ سکتی ہیں، مگر مشعال کے دل سے یاسین کو نکال نہیں سکتیں۔
ایک تصویر باپ کو بیٹی کے قریب محسوس کرا سکتی ہے۔
ایک مختصر فون کال ایک بوڑھی ماں کے لیے پورا دن روشن کرسکتی ہے۔
اور ایک وفادار بیوی برسوں کی جدائی کے باوجود اپنے نکاح کے عہد کو اپنی زندگی کا آخری وعدہ سمجھ سکتی ہے۔
آج کے دور میں جب رشتے معمولی اختلافات پر ٹوٹ جاتے ہیں، جب وعدے مفادات کے سامنے بدل جاتے ہیں اور جب محبت کو اکثر سہولت کے ترازو میں تولا جاتا ہے، یاسین اور مشعال ملک کی داستان ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے رکھتی ہے:
کیا وفا صرف خوش حالی، قربت اور آسان دنوں کا نام ہے، یا اصل وفا وہ ہے جو قید، فاصلے، خوف اور موت کے سائے میں بھی قائم رہے؟
شاید وفا کا اصل امتحان بھی یہی ہے۔
خوشیوں میں ساتھ چلنا آسان ہے، مگر انتظار کی طویل راتوں میں کسی ایک شخص کے نام پر اپنی زندگی قائم رکھنا آسان نہیں۔
یاسین ملک نے اپنی اہلیہ کو آزاد کرنا چاہا، شاید اس خوف سے کہ کہیں ان کی سزا مشعال کی پوری زندگی نہ بن جائے۔
اور مشعال ملک نے گویا جواب دیا:
تمہاری قید میری محبت کو قید نہیں کرسکتی۔
یہ کہانی ہمیں سیاسی بحث سے آگے لے جاتی ہے۔ یہ ہمیں انسان، رشتے، وعدے اور وفا کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
ممکن ہے تاریخ یاسین ملک کے سیاسی کردار پر بحث کرتی رہے، ان کے مقدمات پر فیصلے لکھے جاتے رہیں، عدالتیں اپنے فیصلے سناتی رہیں اور سیاست دان اپنے اپنے مؤقف پیش کرتے رہیں۔
لیکن ایک بات تاریخ کے صفحات پر شاید الگ سے لکھی جائے گی:
ایک شخص تہاڑ جیل میں قید تھا، مگر اس کی محبت جیل سے باہر آزاد تھی؛ اور ایک عورت برسوں کے انتظار کے باوجود اپنے وعدے سے آزاد ہونے پر آمادہ نہیں تھی۔
یہی شاید وفا کی سب سے دردناک، خاموش اور رلا دینے والی تصویر ہے۔









تبصرہ کریں