ایک پھٹتا ہوا پوسٹر جس پر ایرانی اتحادی حسن نصراللہ و دیگر موجود ہیں

ایران کا محورِ مزاحمت کیوں اور کیسے بکھر رہا ہے؟

·

کئی برس تک ایران نے لبنان سے یمن تک اپنے مسلح حلیفوں کو ’محورِ مزاحمت‘ سے موسوم کیا۔ مگر گزشتہ پندرہ ماہ میں جب ایران خود دو مرتبہ  جون 2025 اور فروری 2026 میں براہِ راست حملوں کی زد میں آیا تو ہر حلیف نے اپنے مفاد کے مطابق جنگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔یوں’محور بظاہر زندہ  رہا، مگر اس کی پہچان اس کردار سے کہیں آگے نکل گئی  جسے وہ کبھی ظاہر کرتا تھا۔‘

یہ حکمتِ عملی ایران نے 1980ء کی دہائی میں اپنائی، جب پاسدارانِ انقلاب نے لبنان میں حزب اللہ کو منظم اور مسلح کیا۔ مقصد کمزور روایتی فوج کے بجائے عرب مسلح گروہوں کو پیشگی دفاعی دیوار بنانا، ایرانی اثر بڑھانا اور جنگ کو ایران کی سرحدوں سے دور رکھنا تھا۔ مگر  طوفان الاقصیٰ  کے بعد کی جنگوں نے اس منصوبے کی کمزوریاں آشکار کردیں: لبنان  میں حماس اور حزب اللہ کمزور ہوئے، شام میں بشار الاسد حکومت کا خاتمہ ہوا، عراق نے ملیشیاؤں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا اور آخرکار خود ایران بھی حملوں کی زد میں آگیا۔

اس کے باوجود ایران کے لیے ان گروہوں کو چھوڑ دینا آسان نہیں ؛ملیشیاؤں کی قوت ضرور ماند پڑی ہے، مگر وہ ابھی منظر سے غائب نہیں ہوئیں، اور ایران کے لیے ان کی تزویراتی افادیت بدستور اہم ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جنگ، امریکی پابندیوں اور بندرگاہوں پر دباؤ نے ایران کے وسائل محدود کردیے ہیں، جبکہ اسد حکومت کے خاتمے سے لبنان تک زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا۔ چنانچہ پورے ’محور‘ کو دوبارہ مربوط اتحاد بنانا مشکل ہے۔ اصل کمپنی مالی بحران میں ہے اور کئی ذیلی کمپنیاں بھی بوجھ بن چکی ہیں۔

زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ یہ گروہ ختم ہونے کے بجائے ایک دوسرے سے دور ہوتے جائیں گے۔ کچھ ایران کے تابع رہیں گے، مگر تہران انہیں ضرورت کے مطابق نپی تلی حکمتِ عملی سے استعمال کرے گا۔ کچھ محور سے نکلنے کی راہ ڈھونڈیں گے، جبکہ بعض ’آوارہ حلیف‘ بن کر دوسرے دروازے کھٹکھٹائیں گے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کمزور ترین گروہوں پر ایران کی گرفت سب سے سخت ہوسکتی ہے۔

حزب اللہ اس تبدیلی کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ کبھی یہ ایران کا طاقتور ترین حلیف تھا، جس کے پاس ایک لاکھ سے زیادہ راکٹ و میزائل اور تجربہ کار کمانڈو فورس تھی۔ حسن نصر اللہ خود کو تہران کا محض نمائندہ نہیں بلکہ برابر کا شریک سمجھتا تھا اور تنظیم کی کچھ خودمختاری برقرار رکھتا تھا۔ مگر نصر اللہ کی ہلاکت، تجربہ کار کمانڈروں کے خاتمے اور لبنانی حکومت کے اسلحہ چھوڑنے کے مطالبات نے حزب اللہ کو شدید کمزور کردیا۔ پاسدارانِ انقلاب اب اِن کی  براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں؛ ایران شاید اسے اس لیے برقرار رکھے کہ اس کا خاتمہ خطے میں اپنی شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔

دوسری انتہا پر ’حوثی‘ ہیں، جو ایران کے حلیفوں میں سب سے زیادہ خودمختار مزاج رکھتے ہیں۔نوے کی دہائی میں ، شمالی یمن کی خانہ جنگی  سے ابھرنے والا یہ گروہ ایرانی مدد سے ایسی جنگی قوت بن چکا ہے جو بحیرۂ احمر میں جہازوں کو نشانہ اور امریکی ڈرون گرا سکتاہے۔ مگر طوفان الاقصیٰ کے بعد ان کی کارروائیاں تہران کے احکامات سے زیادہ اپنے مفادات کے تابع رہیں۔ وہ اپنے ہتھیار خود بنانے، روس و چین سے روابط بڑھانے اور دوسرے مسلح گروہوں سے تعلقات استوار کرنے کی راہ پر ہیں۔ ایران اور حوثیوں کے مفادات آئندہ بھی کئی معاملات میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ رہیں گے: دونوں امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ مگر مشترک دشمن ہونا کسی کو کسی کا ماتحت نہیں بنا دیتا۔

عراق کی شیعہ ملیشیائیں اس محور کی تیسری صورت ہیں۔ 2003ء کے بعد ایران نے انہیں امریکی افواج کے خلاف اسلحہ اور سرمایہ فراہم کیا، مگر اب ان کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ ایران کے ساتھ تعلق برقرار ہے، لیکن دو لاکھ سے زیادہ ارکان کی تنخواہیں دینے والی عراقی ریاست ان کی بڑی سرپرست بن چکی ہے۔ بعض گروہ امریکی اڈوں پر حملے کرتے ہیں، مگر حکومت سے کھلی محاذ آرائی سے گریزاں ہیں۔ چنانچہ پاسدارانِ انقلاب بڑی ملیشیاؤں کے بجائے خلیج کو نشانہ بنانے والے چھوٹے خفیہ سیل بنا رہا ہے۔ گویا تہران اپنے حلیفوں کی حدود سمجھ چکا ہے کہ اس کے حلیف کہاں تک اس کا ساتھ دے سکتے ہیں۔

حماس اس محور میں ابتدا ہی سے ایک غیر معمولی شراکت دار تھا: شیعہ قوتوں کے زیرِاثر اتحاد میں ایک سنی تنظیم۔ شام میں بشار الاسد کی حمایت کے معاملے پر حماس کے ایران سے اختلافات بھی رہے ہیں۔ اس کے باوجود حماس کی موجودہ قیادت ایران سے تعلق برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ تاہم وہ ترکیہ اور خلیجی ریاستوں جیسی سنّی طاقتوں کی طرف بھی دیکھ رہی ہے۔ مارچ میں حماس نے ایران سے خلیجی ریاستوں پر حملے روکنے کی اپیل کی۔ ایران فلسطینی حمایت کو اپنی ریاستی شناخت کا حصہ سمجھتا ہے، اس لیے حماس کو ترک نہیں کرے گا، مگر آئندہ مدد شاید ہتھیاروں اور رقم سے زیادہ بیانات اور سفارتی پشت پناہی تک محدود رہے۔

یوں ایران کے سامنے اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس کے حلیف کتنے کمزور ہوگئے ہیں؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اب پہلے جیسے یکجا نہیں رہے۔ کچھ تہران کے زیادہ قریب جارہے ہیں کیونکہ ان کے پاس اپنے بل بُوتے پر  کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رہی، کچھ گروہ اپنی خودمختاری بڑھا رہے ہیں اور کچھ اپنے لیے نئے سرپرست یا نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔

ان تبدیلیوں سے واضح ہے کہ ایران کا ’محورِ مزاحمت‘ ابھی ختم نہیں ہوا، مگر اس کی سابقہ مربوط شکل کمزور پڑ رہی ہے۔ تہران اب ہر حلیف کو ایک ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے بجائے  یہ طے کر رہا ہے کہ کس کو کتنا سہارا اور کس پر کتنی گرفت درکار ہے۔ یوں مشرقِ وسطیٰ کا یہ وسیع اتحاد انہدام کے بجائے ’خاموش تنظیمِ نو‘ کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں مرکزی ڈھانچہ برقرار رہتے ہوئے ذیلی  گروہ اپنی الگ سمتیں اختیار کر سکتے ہیں۔[1]


[1] https://www.economist.com/middle-east-and-africa/2026/09/03/irans-proxies-are-going-their-own-way

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں