معروف مغربی جریدے دی اکانومسٹ کے تجزیے کا خلاصہ
چین کی نئی فلم ’ڈریگن ریسٹورنٹ‘ بظاہر جنگ کی ایک کہانی ہے، مگر اس کے پسِ پردہ چین کی بدلتی ہوئی عالمی شناخت بھی جھلکتی ہے۔ کہانی عراق سے مشابہ سرزمین کی ہے؛ نام بدل گئے ہیں، مگر جنگ کی ہولناکی وہی ہے۔ 2003 کے امریکی حملے کو فلم مغربی نگاہ سے نہیں، ایک سوئے ہوئے شہر پر اچانک ٹوٹ پڑنے والی قیامت کے طور پر دکھاتی ہے: چیخیں، دھماکے اور ہر طرف پھیلی دہشت۔
ایک چینی باورچی کی داستان کے ذریعے فلم مشرقِ وسطیٰ میں چین کے ابھرتے ہوئے کردار کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ہالی ووڈ کی فلم ’وولف واریئر‘ کی تند و تیز سفارت کاری کے برعکس یہاں ایک مختلف چین سامنے آتا ہے: سب سے دوستی، نظریے سے زیادہ تجارت، اور مفادات کی خاطر ہر دروازے پر دستک دینے کی خواہش۔ یہ پالیسی تضادات سے خالی نہیں، مگر مغربی بالادستی سے بیزار دنیا کے لیے شاید اسی میں ایک پرکشش متبادل پوشیدہ ہے۔
باورچی جو سب کا دوست ہے
فلم کا ہیرو شو فو زیادہ دولت کی تلاش میں بغداد پہنچتا ہے، مگر جنگ اسے ایک انوکھا موقع فراہم کر دیتی ہے۔ امریکی فوج کے زیرِ قبضہ گرین زون میں اس کا ریسٹورانٹ مقبول ہو جاتا ہے اور وہ خوب کماتا ہے۔ پھر جنگ کا رُخ بدلتا ہے: خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے ، ہر طرف بدامنی اور طوائف الملوکی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ انہی حالات میں خودکش حملہ ہوتا ہے، سابق شریکِ کار کی گرفتاری عمل میں آتی ہے، امریکی جیل اور پھر شدت پسندوں کا اغوا۔
شو فو کی کہانی دراصل چین کے اس سفارتی مزاج کی تمثیل ہے جو دنیا میں سب کا دوست بننا اور ہر فریق سے تعلق نبھانا چاہتا ہے۔ وہ اقتدار سے محروم ہو جانے والے پرانے حکومتی اہل کاروں کا ساتھ بھی نہیں چھوڑتا، امریکی فوجیوں کو بھی اپنے کھانوں سے اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے، اور یہاں تک کہ اپنے اغوا کاروں میں بھی ایک انسان کو تلاش کر لیتا ہے۔ لیکن فلم اس طرزِ عمل کے بنیادی تضاد سے آنکھ نہیں چراتی: کیا ہر فریق سے دوستی کرتے ہوئے واقعی کسی تنازع سے لاتعلق رہا جا سکتا ہے؟
ایک امریکی فوجی کا ایک سوال پوری کہانی کے اندر چھپے بنیادی تضاد کو بے نقاب کر دیتا ہے: کیا کسی جنگ کے درمیان رہتے ہوئے واقعی اس سے لاتعلق رہا جا سکتا ہے؟
یہی سوال چین کی موجودہ خارجہ پالیسی پر بھی صادق آتا ہے۔ چین روس۔یوکرین جنگ میں اپنی غیر جانب داری پر زور دیتا ہے، مگر اس کے تجارتی اور مالی روابط پر یہ الزام بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ بالواسطہ طور پر روس کی جنگی صلاحیت کو سہارا دے رہے ہیں۔ یوں شو فو سے کیا گیا سوال محض ایک فلمی مکالمہ نہیں رہتا، بلکہ چین کے لیے بھی ایک بے چین کر دینے والا سوال بن جاتا ہے: کیا واقعی تمہارا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں؟
کاروبار پہلے، سیاست بعد میں
شو فو کا مقصد سادہ ہے: قرض اتارنا اور زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا۔ جنگ بھی اسے تباہی نہیں، منافع کا موقع نظر آتی ہے۔ یہی موقع پرستانہ تجارت بیرونِ ملک چین کی سرگرمیوں کا بھی ایک اہم محرک ہے۔یہ رویہ بظاہر خوش نما نہیں، مگر بہت سے ملکوں کے لیے اس میں کشش ہے۔ مغربی سرمایہ کاری کے برعکس، جس کے ساتھ اکثر سیاسی شرائط اور مطالبات جڑے ہوتے ہیں، چین کا پیغام نسبتاً سادہ ہے: کاروبار کو کاروبار ہی رہنے دو۔
اسی اصول نے چین کو مشرقِ وسطیٰ اور دوسری کشیدہ دنیا میں ایک منفرد مقام دیا ہے۔ ایران اور خلیجی ریاستیں ہوں یا الجزائر اور مراکش، مصر اور ایتھوپیا جہاں بڑی طاقتیں عموماً کسی ایک فریق کا انتخاب کر لیتی ہیں، چین سب کے دروازوں پر جاتا ہے۔ وہ دشمنوں سے بھی الگ الگ ہاتھ ملاتا اور سب کے ساتھ تجارت کرتا ہے۔ شاید یہی اس کی سفارت کاری کا سب سے بڑا ہنر اور سب سے کارآمد آئیڈیاہے کہ سیاست کو دروازے سے باہر چھوڑ دیا جائے اور اندر صرف کاروبار کی بات ہو۔
مگرر ڈریگن کے دانت کہاں ہیں؟
’ڈریگن ریسٹورنٹ ڈپلومیسی‘ کی دوسری نمایاں خصوصیت اس کی سطحیت اور احتیاط ہے۔ فلم کے آخر میں شو فو یتیم بچوں کی مدد کرنا چاہتا ہے، مگر اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ یہ اس کی جنگ نہیں، یہ اس کے بچے نہیں۔ آخرکار وہ سب کچھ پیچھے چھوڑ کر چین واپس آجاتا ہے۔ گویا چین کا پیغام بھی یہی ہے: اچھا کھاؤ، اپنے بچوں کی پرورش کرو، مگر دوسروں کی جنگوں میں زیادہ نہ الجھو۔چین بیرونِ ملک تعلقات تو بڑھاتا ہے، مگر کسی کا سیکیورٹی گارنٹر بننے سے گریز کرتا ہے۔ ایران اور وینزویلا جیسے شراکت داروں نے بھی اس حمایت کی حدود محسوس کی ہیں۔
بظاہر نرم اور ’دانتوں سے محروم‘ نظر آنے والی یہ پالیسی مغرب کے لیے پھر بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ دھمکیوں، پابندیوں اور بمباری کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کی پیش کش یقیناً زیادہ دلکش ہے۔ خاص طور پر ان ملکوں کے لیے جنہیں اخلاقی نصیحتوں سے زیادہ سرمایہ اور ترقی درکار ہے۔ مگر اس حکمتِ عملی کا اپنا تضاد بھی ہے۔ دنیا میں سب کا دوست بننے کا دعویٰ کرنے والا چین کچھ دروازے بند بھی رکھتا ہے، خصوصاً جاپان کے لیے۔ یوں وہ دوستی کا دسترخوان تو سب کے لیے بچھاتا ہے، مگر یہ فیصلہ خود کرتا ہے کہ اس دسترخوان پر کون سی حقیقت پیش کی جائے اور کون سی چھپا دی جائے۔[1]
[1] https://www.economist.com/china/2026/08/31/in-film-and-in-life-china-pursues-dragon-restaurant-diplomacy








