Turkey's Recep Tayyip Erdogan, Saudi Crown Prince Mohammed bin Salman and Pakistan's Shehbaz Sharif signed the pact in Mecca

مکہ دفاعی معاہدہ: اثرات، چیلنجز اور مواقع(1)

·


7 اگست2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ تینوں ممالک کے سرکاری مؤقف میں معاہدے کو دفاعی اور امن پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔ سعودی عرب اسے تینوں ممالک کے تاریخی تعلقات، مشترکہ مفادات اور دیرینہ دفاعی تعاون کا تسلسل قرار دیتا ہے۔ ترکیہ نے مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو اس کی عملی سمت قرار دیا ہے۔ پاکستان نے اس معاہدہ کو ’’خالصتاً دفاعی‘‘ قرار دیا یعنی یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے، اور اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی روک تھام، خودمختاری اور علاقائی امن کا تحفظ کرنا ہے۔

پاکستان کے مطابق یہ معاہدہ کسی دوطرفہ یا کثیر ملکی معاہدے کو منسوخ یا تبدیل بھی نہیں کرتا اور اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت انفرادی و اجتماعی دفاع کے حق کے مطابق ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے، جبکہ ستمبر 2025 کے باہمی دفاعی معاہدے نے اس شراکت کو مزید مضبوط کیا۔ موجودہ معاہدہ اسی تعاون میں ترکیہ کو شامل کرکے ایک نئے سہ ملکی دفاعی فریم ورک کی بنیاد رکھتا ہے۔ تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتیں بھی ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں: سعودی عرب کے پاس مالی وسائل اور خلیجی محلِ وقوع، ترکیہ کے پاس بڑی فوج اور مضبوط دفاعی صنعت، جبکہ پاکستان کے پاس وسیع فوجی تجربہ اور جوہری صلاحیت ہے۔

معاہدے کا ایک وسیع تر پس منظر بھی ہے جس میں خطے میں سلامتی کے مسائل اور بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ نے واضح کردیا کہ خطے میں بڑا تصادم صرف متحارب ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ خلیجی ریاستوں، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارت کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ ایسے میں علاقائی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیت اور باہمی تعاون بڑھانے کا  احساس بڑھاہے۔

اسی پس منظر میں ابراہیمی معاہدوں میں سعودی عرب کو شامل کرنے کے امریکی دباؤ اور غزہ کی تباہ کن جنگ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ واشنگٹن سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے دباؤ بڑھاتا رہا ہے، جبکہ ریاض نے فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ایسا کرنے سے گریز کیا ہے۔ غزہ کی جنگ نے اس مؤقف کو مزید مضبوط کیا۔ چنانچہ مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ خطے کی سلامتی کے بدلتے ہوئے تصور کی طرف ایک اہم اشارہ ہے۔

واشنگٹن بھی اپنے علاقائی شراکت داروں سے زیادہ دفاعی ذمہ داری سنبھالنے کی توقع رکھتا ہے، جبکہ اپنی سیکیورٹی موجودگی اور دفاعی معاونت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مکہ معاہدے کا خیرمقدم کرنا بھی اسی بدلتے ہوئے ماحول کی اہم علامت ہے۔

امریکی تھنک ٹینکس کی آراء اس تبدیلی کی مختلف جہتیں سامنے لاتی ہیں۔ کونسل برائے خارجہ تعلقات کے بعض تجزیہ کار اسے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی قیادت پر قائم پرانے سلامتی کے نظام کے کمزور ہونے اور علاقائی طاقتوں کی جانب سے نئے دفاعی انتظامات کی علامت سمجھتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں امریکی مرکز برائے اسٹریٹیجک اور بین الاقوامی امور اور بروکنگز ادارہ اسے سعودی عرب کی دفاعی شراکت داری کو وسیع اور متنوع بنانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ دونوں زاویوں کو سامنے رکھا جائے تو اہم بات یہ ہے کہ خطے میں امریکی سیکیورٹی کی حیثیت برقرار رہتے ہوئے علاقائی دفاعی صلاحیت کا ایک اضافی مرکز تشکیل پا رہا ہے۔ یہ تبدیلی مستقبل میں امریکی کردار کی نوعیت کو متاثر کرسکتی ہے۔ اگر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ مشترکہ دفاعی صلاحیت کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہوتے ہیں اور دوسرے علاقائی ممالک بھی اس عمل میں شریک ہوتے ہیں تو خلیجی اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی بتدریج ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے جس میں امریکہ واحد بیرونی ضامن نہ ہو بلکہ علاقائی طاقتیں بھی سلامتی کی ذمہ داری میں نمایاں کردار ادا کریں۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں