نیپال چین کا سرحدی علاقہ تباہ کن سیلاب کے بعد

نیپال کا سانحہ : پاکستان کے لیے قدرت کا انتباہ

·


26 اگست 2026ء کو نیپال کے ہمالیائی خطے میں جو کچھ ہوا، اسے اگر ہم صرف ’’سیلاب‘‘ کہہ کر آگے بڑھ گئے تو شاید ہم نے اس سانحے کا سب سے اہم سبق ہی نظرانداز کر دیا۔
وہ محض سیلاب نہیں تھا۔
وہ پہاڑ کے سینے سے پھوٹنے والی ایک ایسی تباہی تھی جس نے چند لمحوں میں انسان کی بنائی ہوئی سڑکوں، پلوں، عمارتوں اور منصوبوں کو بتا دیا کہ قدرت کے سامنے ہماری طاقت کتنی محدود ہے۔
اور شاید اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ نیپال میں جو کچھ ہوا، وہ پاکستان کے لیے بھی ایک خطرناک وارننگ ہے۔

26 اگست کی صبح تبت کی سرحد سے متصل نیپال کے علاقے میں بظاہر ایک معمول کا دن شروع ہوا۔ لیکن بلند ہمالیائی خطے میں ایک گلیشیئر کا بڑا حصہ اچانک ٹوٹ کر نیچے آ گیا۔ برف اور چٹانوں کا یہ عظیم تودہ تقریباً 1200 میٹر کی بلندی سے وادی کی طرف گرا اور اپنے ساتھ برف، چٹانیں، مٹی اور ملبہ لے آیا۔
پھر یہ ملبہ دریائے لہندے کھولا کے راستے میں پہنچا۔

دریا کا راستہ متاثر ہوا، پانی اور ملبہ جمع ہوا اور پھر ایک انتہائی طاقتور سیلابی ریلا نیچے کی طرف دوڑ پڑا۔

اس تباہی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دریائے تریشولی کی سطح بعض مقامات پر تقریباً 30 منٹ کے اندر نو میٹر تک بلند ہوئی۔ کئی پل، سڑکیں، بستیاں اور بجلی کے منصوبے شدید متاثر ہوئے۔

سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ لوگوں کے پاس روایتی معنوں میں بارش کے سیلاب کی پیشگی علامت موجود نہیں تھی۔
تباہی آسمان سے نہیں، پہاڑ سے آئی تھی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔

ہم سیلاب کا تصور کرتے ہیں تو بارش، دریا اور بند ذہن میں آتے ہیں۔ لیکن بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات نے خطرات کی نوعیت بدل دی ہے۔ اب گلیشیئر کا ٹوٹنا، برفانی جھیل کا پھٹنا، پہاڑ کا کھسکنا اور برف و چٹان کا دریا میں گرنا بھی اچانک تباہ کن سیلاب پیدا کرسکتا ہے۔

نیپال کا واقعہ اسی حقیقت کی ایک خوفناک مثال ہے۔
پہاڑ خاموش ضرور ہیں، بے جان نہیں
ہم نے صدیوں سے پہاڑوں کو دیکھا، ان کی چوٹیوں پر برف دیکھی اور ان کے دامن سے نکلنے والے دریاؤں سے فائدہ اٹھایا۔ لیکن ہم اکثر بھول گئے کہ پہاڑ بھی ایک متحرک قدرتی نظام کا حصہ ہیں۔

درجہ حرارت میں تبدیلی، گلیشیئرز کا سکڑنا، برف کے پگھلنے کے انداز میں تبدیلی، پہاڑی ڈھلوانوں کا غیر مستحکم ہونا اور شدید موسمی واقعات اس پورے نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلی گلیشیئرز اور پہاڑی ڈھلوانوں کے خطرات کو بڑھا رہی ہے۔
اور پاکستان؟
ہم اس خطے سے باہر نہیں۔
بلکہ ہمارے پاس دنیا کے عظیم ترین پہاڑی سلسلوں میں سے ایک موجود ہے۔

ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش ہمارے شمال میں موجود ہیں۔ گلگت بلتستان، چترال، سوات، دیر، کوہستان، ناران، کاغان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں ہزاروں بستیاں، سڑکیں، پل، پن بجلی کے منصوبے اور لاکھوں انسان ان قدرتی نظاموں کے قریب زندگی گزار رہے ہیں۔
پاکستان میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے یا GLOF کا خطرہ پہلے ہی ایک تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔ حکومتی اور بین الاقوامی ادارے شمالی پاکستان میں ایسے خطرات کے لیے ابتدائی انتباہی نظام، نگرانی اور مقامی آبادی کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔
تو سوال یہ ہے:
ہم نیپال سے کیا سیکھیں گے؟
قرآن ہمیں کیا بتاتا ہے؟
یہاں معاملہ صرف سائنس کا نہیں، شعور کا بھی ہے۔
قرآن کریم ہمیں زمین کے نظام اور انسان کے اعمال کے درمیان تعلق پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ”
’’خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب۔‘‘
(سورۃ الروم: 41)
یہ آیت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
ہم نے جنگلات کاٹے۔
ہم نے دریاؤں اور ندی نالوں کے قدرتی راستوں پر قبضے کیے۔
ہم نے پہاڑوں کو بے ہنگم تعمیرات کے لیے کاٹا۔
ہم نے قدرتی وسائل کا استعمال ضرورت سے آگے بڑھا کر لالچ تک پہنچا دیا۔
اور پھر جب قدرتی نظام میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو ہم حیران ہوتے ہیں کہ یہ سب کیوں ہوا؟
قرآن ہمیں زمین پر فساد سے روکتا ہے:
"وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ”
’’اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرو، بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
(سورۃ القصص: 77)
یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہر قدرتی آفت کو براہِ راست کسی خاص انسانی گناہ کی سزا قرار دینا درست نہیں۔ زلزلے، سیلاب، طوفان اور دیگر قدرتی واقعات اللہ کے بنائے ہوئے نظام کا حصہ بھی ہیں۔ لیکن قرآن ہمیں یہ ضرور سکھاتا ہے کہ انسان کے اعمال زمین کے فساد کا سبب بن سکتے ہیں اور انسان کو اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
اسی لیے نیپال کا سانحہ ہمیں صرف خوفزدہ نہیں کرتا، ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔
پاکستان کو اب کیا کرنا ہوگا؟
سب سے پہلے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلی محض وزارتِ ماحولیات کا مسئلہ نہیں۔
یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
یہ پانی کا مسئلہ ہے۔
یہ خوراک کا مسئلہ ہے۔
یہ معیشت کا مسئلہ ہے۔
یہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔
ہمیں اپنے تمام بڑے گلیشیئرز اور گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل جدید سائنسی نگرانی کرنی ہوگی۔
جہاں خطرہ ہو وہاں آبادیوں کو بروقت خبردار کرنے کے لیے مؤثر نظام بنانا ہوگا۔
پہاڑی علاقوں میں تعمیرات کے قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔
دریاؤں کے قدرتی راستے محفوظ رکھنے ہوں گے۔
جنگلات کی کٹائی روکنا ہوگی۔
اور سب سے اہم، مقامی آبادی کو یہ سمجھانا ہوگا کہ خطرہ آنے کے بعد دوڑنے کے بجائے خطرے سے پہلے تیار ہونا زیادہ ضروری ہے۔
کیونکہ نیپال نے ہمیں ایک تلخ سبق دیا ہے:
کبھی کبھی تباہی کی رفتار اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ خبر پہنچنے سے پہلے پانی پہنچ جاتا ہے۔
قدرت ہمارے نقشے نہیں دیکھتی
ہم نے پہاڑ کے دامن میں گھر بنا لیے۔
دریا کے کنارے بازار قائم کر لیے۔
نالوں پر تعمیرات کر دیں۔
جنگلات کاٹ کر سڑکیں نکال لیں۔
پھر ہم نے نقشے پر لکیر کھینچ کر سمجھ لیا کہ اب یہ علاقہ محفوظ ہے۔
لیکن قدرت ہماری فائلوں، نقشوں اور سرکاری اجازت ناموں کی پابند نہیں۔
دریا اپنا راستہ یاد رکھتا ہے۔
پہاڑ اپنی ساخت یاد رکھتا ہے۔
اور پانی کو نیچے کی طرف جانے کے لیے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہی وجہ ہے کہ ترقی اور ماحول کے درمیان توازن ناگزیر ہے۔
قرآن کہتا ہے:
"هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا”
’’اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں اس میں آباد کیا۔‘‘
(سورۃ ہود: 61)
غور کیجیے، انسان کو زمین میں آباد کیا گیا ہے، زمین کو انسان کے ہاتھوں برباد کرنے کا لائسنس نہیں دیا گیا۔
یہ صرف نیپال کی کہانی نہیں
نیپال کا سانحہ ختم ہوجائے گا۔
ملبہ صاف ہوجائے گا۔
سڑکیں دوبارہ بن جائیں گی۔
پل دوبارہ تعمیر ہوجائیں گے۔
لیکن سوال باقی رہے گا:
کیا ہم نے سبق سیکھا؟
پاکستان کے شمالی علاقوں میں آج بھی گلیشیئرز موجود ہیں۔ برفانی جھیلیں موجود ہیں۔ پہاڑی ڈھلوانیں موجود ہیں۔ دریا موجود ہیں۔ اور ان کے کنارے انسان بھی موجود ہیں۔
خطرہ یہ نہیں کہ کوئی آفت ضرور آئے گی۔
خطرہ یہ ہے کہ اگر آفت آئی تو کیا ہم تیار ہوں گے؟
یہ فرق سمجھنا ہوگا۔
ہمیں خوف کی سیاست نہیں، تیاری کی سیاست چاہیے۔
ہمیں حادثے کے بعد امداد سے پہلے حادثے سے پہلے احتیاط چاہیے۔
ہمیں درخت صرف شجرکاری مہم کی تصویر کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے لگانے ہوں گے۔
ہمیں پہاڑ صرف سیاحت کے لیے نہیں بلکہ قدرتی ورثے کے طور پر محفوظ کرنے ہوں گے۔
ہمیں دریا صرف پانی کے ذخیرے نہیں بلکہ زندہ قدرتی نظام سمجھنے ہوں گے۔
اور ہمیں گلیشیئر صرف خوبصورت برفانی مناظر نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل کا حصہ سمجھنا ہوگا۔
نیپال میں 26 اگست کو پہاڑ ٹوٹا تھا، مگر اس کی آواز صرف نیپال تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔
وہ آواز گلگت بلتستان تک پہنچنی چاہیے۔
چترال تک پہنچنی چاہیے۔
سوات، دیر، کوہستان اور کشمیر تک پہنچنی چاہیے۔
اسلام آباد کے ایوانوں تک پہنچنی چاہیے۔
اور ہمارے دلوں تک بھی پہنچنی چاہیے۔
کیونکہ کبھی کبھی قدرت ہمیں سزا سے پہلے تنبیہ دیتی ہے۔
شاید نیپال کا سانحہ بھی ایسی ہی ایک تنبیہ ہے۔
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
ہم اسے ایک خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں یا ایک سبق سمجھ کر اپنی پالیسی، اپنا طرزِ زندگی اور اپنے رویے بدلتے ہیں۔
پہاڑ نے نیپال میں آواز دی ہے۔
سوال یہ ہے:
کیا پاکستان سن رہا ہے؟
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے