ڈاکٹر فرزانہ شیخ کے مفصل تجزیہ کا خلاصہ
ڈاکٹر فرزانہ شیخ پاکستان کی معروف مورخ، سیاسی تجزیہ کار اور مصنفہ ہیں جو چیتھم ہاؤس لندن سے بطور ایسوسی ایٹ فیلو وابستہ ہیں۔
Chatham House )چیتھم ہاؤس(لندن میں قائم ایک معروف اور بااثر عالمی تھنک ٹینک ہے، جس کا باضابطہ نام Royal Institute of International Affairs ہے۔
یہ ادارہ عالمی سیاست، بین الاقوامی تعلقات، معیشت، سلامتی اور جغرافیائی سیاسی امور پر آزادانہ تحقیق اور پالیسی تجزیہ پیش کرتا ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں کچھ ریاستیں اپنی طاقت، کچھ اپنی دولت اور کچھ اپنے جغرافیے کی بدولت اہمیت حاصل کرتی ہیں۔ پاکستان اِن دنوں ایک اور راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے: خود کو ایسی ریاست کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہےجو متحارب طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی سفارت کاری اور سعودی عرب و ترکیہ کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ پاکستان اب صرف مشرقِ وسطیٰ اور خلیج میں پیدا ہونے والے تنازعات اور ان کے اثرات سے متاثر ہونے والا ملک نہیں رہنا چاہتا، بلکہ ان کے حل اور خطے کی سیاسی سمت متعین کرنے میں بھی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ بلکہ ان کے حل اور خطے کی سیاست پر اثر انداز ہونے کا خواہش مند بھی ہے۔
بظاہر یہ اس عالمی مقام کی جانب پیش قدمی ہے جس کا خواب پاکستان کی خارجہ پالیسی برسوں سے دیکھتی رہی ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی وقار حاصل کرنے سے زیادہ مشکل اسے برقرار رکھنا ہوتا ہے، خصوصاً جب بیرونِ ملک مفاہمت کی بات کرنے والا ملک اندرونِ خانہ بدامنی اور سیاسی کشمکش سے دوچار ہو۔
ایک طرف پاکستان خطے کے تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، دوسری طرف بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی اور عسکریت پسندی بڑھ رہی ہے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ بنیادی طور پر سیاسی مسئلے کا جواب سیکیورٹی اقدامات کی صورت میں دیا جا رہا ہے۔اسی طرح آزاد جموں و کشمیر میں بھی آٹے اور بجلی کی قیمتوں کے خلاف شروع ہونے والا اضطراب رفتہ رفتہ سیاسی مطالبات میں تبدیل ہو گیا۔ لیکن وہاں بھی ریاست کا اولین ردِعمل سیکیورٹی نقطۂ نظر پر مبنی رہا، حالانکہ جدید سیاست کا ایک سبق یہ ہے کہ ہر سیاسی بے چینی کو محض امن و امان کا مسئلہ سمجھنا اکثر مسئلے کو حل نہیں بلکہ مزید پیچیدہ کر دیتا ہے۔
ادھر پاکستان کا موجودہ ’’ہائبرڈ نظام‘‘جس میں منتخب حکومت اور عسکری قیادت دونوں ریاستی امور پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہیں، بظاہر استحکام کا تاثر دیتا ہے، مگر آئینی ترامیم، اختیارات کی تقسیم، صوبائی ڈھانچے میں تبدیلی کی تجاویز اور عمران خان سے متعلق سیاسی قیاس آرائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کا سیاسی بندوبست ابھی تک کسی پائیدار توازن تک نہیں پہنچ سکا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ اقتدار کے مختلف مراکز میں سے کون زیادہ طاقتور ثابت ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست اندرونی مسائل کا دیرپا سیاسی حل نکالے گی، یا مسلسل انھی بحرانوں کو قابو میں رکھنے کی جدوجہد میں اُلجھی رہے گی۔کیونکہ خارجہ پالیسی کی مضبوطی کا دارومدار بیرونی سفارت کاری سے زیادہ اندرونی استحکام، سیاسی اعتماد اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر ہوتا ہے۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ وہ پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات میں مفید ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے، لیکن عالمی اثر و رسوخ صرف دوسروں کے مسائل حل کرنے سے حاصل نہیں ہوتا؛ اس کے لیے اپنے مسائل کا حل بھی ضروری ہے۔ اسی لیے پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ شاید واشنگٹن، تہران، انقرہ یا ریاض میں نہیں، بلکہ کوئٹہ، پشاور، مظفرآباد اور اسلام آباد میں ہوگا۔
اگر پاکستانی ریاست اپنے اندر مکالمے، مفاہمت اور سیاسی عمل کو فروغ دے سکی تو اس کی عالمی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر بیرونِ ملک حاصل ہونے والا وقار اندرونی کشیدگیوں اور عدم استحکام کے بوجھ تلے دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا ۔[1]
[1] https://www.chathamhouse.org/2026/09/can-pakistans-foreign-policy-ambitions-survive-its-domestic-challenges










تبصرہ کریں