مسجد نبوی اور مدینہ منورہ کی پرانی تصویر

دیار حبیب ﷺ کی پیاری گلیاں

·

آج سے  پچاس سال پہلے شہر نبی میں چودہ سو سال پہلے کی سادہ بودوباش، مقدس فضا اور پاکیزہ  خوشبو محسوس کی جا سکتی تھی۔

 1977 میں جب مجھے مدینہ منورہ جانے کی پہلی سعادت حاصل ہوئی، اس وقت کو یاد کروں تو محسوس ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے دور کا مدینہ منورہ اپنی اس  خوشبو کو لیے ہوئے تھا جہاں انصار و مہاجرین نے مواخات کی نادر مثال قائم کی تھی۔ یقین مانیے فضا میں جن  قدوسی نفوس کو جنت کی خوشخبریاں ملیں ان  کے قدموں کی آہٹ  محسوس ہوتی تھی۔

 تصور میں نظر آتا کہ عاشقان رسول مسجد میں آرہے ہیں، دیدار نبی سے دل شاد اور  آنکھیں ٹھنڈی ہو رہی ہیں، احکام الہی سے روحیں پر نور ہو رہی ہیں۔ 

رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ

گلیوں ،گھروں، بازاروں میں پاک روحوں  کے سانسوں کی مہک آتی  محسوس ہوتی تھی۔

1977 ء میں مسجد سے 2 کلومیٹر بعد شہر ختم ہوجاتا تھا۔ شمال میں جبل احد تک کوئی گھر نہیں تھاصرف کھجور کے باغ۔

جنوب میں مسجد قبا تک کچا راستہ،  اور راستے میں دو تین گھر نظر آجاتے تھے۔

ان کچے رستوں کی دھول میں پیارا مدینہ سیرت کی کتابوں سے نکل کر زندہ ہو جاتا تھا ۔ ہفتہ کو فجر کے بعد ہم مسجد قبا کی طرف روانہ ہوئے ۔

مسجد نبوی سے روانہ ہو کر اشراق کے نوافل  مسجد قبا ادا کرنے پہ ایک عمرہ کا اجر ملتا ہے، یہ ثواب ہم کیوں ضائع کرتے؟

 کچا راستہ تھا گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی ۔ دن کے وقت گرمی کا احساس ہو رہا تھا۔

‘یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے۔‘ یہ سن کر دل یکبارگی زور سے دھڑکا۔ اس کی بنیاد خود نبی کریم ﷺ نے اپنے  دست مبارک سےرکھی۔ صحابہ کرام نے اس کی تعمیر میں دامے درمے سخنے حصہ لیا۔ وہ 8  ربیع الاول 1 ہجری / 23 ستمبر 622 عیسوی کا مبارک دن تھا۔ اتفاق یہ کہ میری پہلی زیارت بھی ستمبر میں ہی  ہو رہی تھی۔

یہ بہت سادہ مسجد تھی لیکن مضبوط ایمان والوں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی۔کچی اینٹوں اور پتھروں کی دیواریں،  چھت کھجور کے تنوں اور کھجور کی چھال/پتوں کی تھی کھجور کے تنے ستون تھے جن پر چھت ٹکی تھی۔ اندازاً 35×30 میٹر رقبہ تھا۔ کوئی مینار نہیں تھا۔ اذان اونچی جگہ کھڑے ہو کر دی جاتی تھی۔ باقاعدہ محراب  نہیں تھا۔

نبی ﷺ نے  قبا میں 4 دن قیام فرمایا تھا۔

 تاریخ کا پہلا جمعہ اسی مسجد میں پڑھایا گیا۔

اللہ تعالی نے اس مسجد کا ذکر کیا:

"لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ”

‘وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی، زیادہ حق رکھتی ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔‘ [التوبہ: 108]

مفسرین کے نزدیک یہاں ‘مسجد تقویٰ‘سے مراد مسجد قبا ہے۔

نبی کریم ﷺ کا قیام جب مدینہ منورہ میں ہو گیا تو  مسجد نبوی سے مسجد قبا  تشریف لاتے اور دو رکعت نفل ادا کرتے تھے۔ ان 2 رکعت نفل کا بہت ثواب ہے۔ نبی ﷺ ہر ہفتے سوار ہو کر یا پیدل تشریف لاتے تھے۔

بعد میں عثمانیوں نے، پھر سعودی حکومت نے اسے بار بار وسیع کیا۔ 1986میں اس کی  10ویں توسیع ہوئی ہے۔

ملک فیصلؒ کے دور 1969-1972 کی تعمیرمیں تقریباً 5,035 مربع میٹر  اور دس ہزار نمازیوں کی گنجائش تھی۔

کھلا صحن تھا،محراب میں زیادہ نقش و نگار نہیں تھے

 چھت  سادہ تھی، گرمی میں بہت گرم ہو جاتی تھی۔ پنکھوں کی ہوا شدید گرم ہو جاتی تھی۔

تین  دروازے تھے۔ خواتین اور مرد کا الگ انتظام تھا۔

 سادہ سفید ٹائل اور کچھ حصے میں قالین بچھائے گئے تھے۔ مسجد کے ساتھ ’بئر قبا‘ بھی تھا۔ زائرین وہاں کا پانی لیتے تھے۔ مسجد کے ارد گرد کھجور کے باغ اور پرانے گھر تھے۔  بہت پر سکون ماحول تھا۔

ہم نے تقریباً اسی طرح مسجد قبا کو کئی سال دیکھا اور تقریباً ہر زیارت مسجد نبوی پہ مسجد قبا کی بھی زیارت کی۔ 

جب بھی مسجد قبا آنا ہوتا وہ کھجور کی چھت والی چھوٹی سی چار دیواری کا حسن خوابوں کی بستی میں لے جاتا۔ جہاں ایمان تھا اور ایمان والے اللہ کے پیارے حبیب کے ساتھی۔ مجھے تو دلی تعلق اسی زمانے کے  قبا سے محسوس ہوتا۔ میرے اندر اس ماحول کی عقیدت گندھی محسوس ہوتی۔ اور جب بھی قبا مسجد، پہلی سجدہ گاہ میں جاتی دل کی کیفیت ناقابل بیان خوشی سے معمور ہو جاتی ۔ خاتم النبیین ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے  تقویٰ کا استعارہ بنی پہلی مسجد میں سجدہ ! سبحان اللہ!

مسجد قبلتین وہ مسجد ہے جہاں قبلہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف منتقل ہونے کا حکم آیا تھا۔

 مسجد قبلتین مدینہ منورہ کے جنوب مغرب میں ہے  بنو سلمہ کے محلے میں،  1977 میں مسجد نبوی سے تقریباً 5 کلومیٹر کے فاصلے پرتھی۔

 شارع قبا  سے تھوڑا ہٹ کر ’خلیل بن احمد‘ والی گلی میں واقع تھی ۔

چھوٹی مسجد تھی۔ صرف 1 کمرے جتنی جگہ، کچی اینٹوں کی دیواریں، مٹی کا فرش۔

 ارد گرد کھجور کے باغ اور چھوٹے گھر تھے۔

 دو محراب تھے۔ ایک بیت المقدس کی طرف، دوسرا کعبہ کی طرف۔

چھوٹا سا کھلا صحن تھا۔ درخت لگےتھے اور صرف پنکھےتھے۔ وضو کے لیے باہر نلکے لگے تھے۔

یہیں ظہر کی نماز میں قبلہ بدلا دینے والی  آیت نازل ہوئی۔ نماز میں ہی امام اور نمازیوں نے سمت تبدیل کی تھی ۔

یہیں غزوہ بنی سلمہ کے دوران ظہر کی نماز میں وحی آئی اور صحابہ نے نماز کے دوران ہی رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھیر لیا تھا۔

مسجد کے ساتھ ایک چھوٹا بورڈ لگا تھا جس پر مسجد قبلتین کا  واقعہ لکھا تھا۔

1987 میں شاہ فہدؒ نے پرانی مسجد گرا کر نئی، بہت بڑی مسجد بنوائی۔

اب گنجائش 2,000 سے بڑھ کر 14,000 ہوگی۔

 میدان احد مدینہ منورہ سے تقریباً 4 کلومیٹر شمال میں ہے۔ یہ وہ پہاڑ ہے جس کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا: احد ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔

1977 میں احد کا علاقہ آج جیسا آباد نہیں تھا۔

احد مدینہ شہر سے باہر تھا۔ آج تو آبادی وہاں تک پہنچ گئی ہے، لیکن 1977 میں احد اور مسجد نبوی کے درمیان کھلا صحرا، وادی العقیق کے خشک نالے اور کھجوروں کے باغات تھے۔

دیارِ حبیب ﷺ میں پہلی حاضری

صرف قبرستان اور چھوٹی مسجد تھی شہداء احد کا قبرستان چار دیواری کے اندر تھا، ساتھ میں مسجد الفسح (وہ جگہ جہاں نبی ﷺ نے ظہر عصر پڑھی تھی) ایک چھوٹی کچی مسجد کی شکل میں تھی۔ کچھ مقامی لوگ زمین پہ کپڑا بچھا کر تسبیح ، جاء نماز ، مریم پنجہ ، خاک شفا، سرمہ کی شیشیاں ،کھجوریں،  بچوں کی رنگین عینکیں وغیرہ بیچ رہے تھے ۔

جبل رماة (تیر اندازوں والا ٹیلہ)بالکل خالی ٹیلہ تھا، اس پر کوئی تعمیرات نہیں تھیں۔

راستہ  بالکل کچا تھا۔ زائرین جیپوں یا پیدل  ہوتے۔ کئی مقامی لوگ خچر، گدھے گھوڑے پہ بھی نظر آجاتے تھے۔

وہاں 70 صحابہ کرام شہید ہوئے، جن میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں ۔

چار دیواری کے اندر جانا منع نہیں تھا  سیدالشھدا سیدنا حمزہ رضی اللہ ۔عنہ کے ساتھ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے سفیر، جن کو آپ سے بہت مشابہت تھی، (اس لیے کفار نے سمجھا کہ نبی ﷺ شہید ہو گئے۔)حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ حضرت حمزہ کے بھانجے، نبی ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی کی مبارک قبریں بھی موجود ہیں۔  ہم نے ترتیب سے سب کے سامنے کھڑے ہو کر سلام پیش کیا ۔

   اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا شُہَدَاءَ اُحُد، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ

  السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَمْزَہ، یَا عَمَّ رَسُوْلِ اللہِ، یَا سَیِّدَ الشُّہَدَاءِ

دعائے مغفرت کے بعد ہم احد پہاڑ کی زیارت کے لیے گئے ۔

جبل احد سید الشہداء قبرستان سے تقریباً 500 میٹر پیچھے ہے راستہ پتھریلا اور چڑھائی والا تھا۔ اور پہاڑ میں ایک گہرائی والی تھوڑی سی کشادہ جگہ ہے۔ غزوہ احد میں جب تیر اندازوں نے ٹیلہ چھوڑ دیا اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پیچھے سے حملہ کر دیا تو مسلمان منتشر ہو گئے، نبی ﷺ زخمی ہوئے، آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے اور لوہے کی ٹوپی کی کڑیاں رخسار میں پیوست ہو گئیں۔

اس حالت میں صحابہ کرام آپ ﷺ کو لے کر احد پہاڑ کی طرف گئے۔ پہاڑ میں ایک قدرتی شگاف / غار ہے، آپ ﷺ نے وہاں کچھ دیر آرام فرمایا، وہیں صحابہ نے آپ ﷺ کے زخموں سے خون صاف کیا۔

میں نے اس قدرتی شگاف کو دیکھا اور تصور میں  دل کو دکھی کر دینے والا  وہ منظر بے چین کر گیا ۔ اللہ تعالی کے محبوب زخموں سے چور تھے۔ پہاڑ کا یہ شگاف اپنی قسمت پہ نازاں  ہوگا کہ امام الانبیاء ﷺ کی آرام گاہ بنا۔ میں نے عقیدت سے اس جگہ کو دیکھا اور جنگ احد کا سارا نقشہ دہرایا ۔

 احد پہاڑ کی احادیث میں بہت فضیلت بتائی گئ ہے ۔ اور بہت سی نیکیوں کے اجرا ثواب کو احد پہاڑ کے وزن کی مثال دے کر سمجھایا گیا ہے۔

 سیدنا ابو ایوب انصاری کا گھر میرے لیے ایک خاص کشش رکھتا تھا ۔

مدینہ منورہ، مسجد نبوی سے شمال مشرق میں 4.5 کلومیٹر  علاقہ ’حی العنصار‘کے پاس، بئر عثمان اور جبل احد کے درمیان والی سڑک پرسیدنا ابو ایوب انصاری کا مبارک مکان تھا ۔1977 میں یہ گھر موجود تھا اور باہر بورڈ لگا تھا۔  آپ بخوبی  اندازہ لگا سکتے تھے کہ اس کی دو منزلیں تھیں اور ایک رسی کے ساتھ نشانی لگائی ہوئی تھی کہ یہاں نبی ﷺ کا حجرہ مبارک تھا۔ سبحان اللہ ! کیا ہی خوش نصیب میزبان تھے اور کس عظیم الشان  مرتبے کا مہمان تھا۔

اس وقت ماحول، مقامات کو دور نبوی سے مماثلت رکھنا کتنا آسان تھا۔ روح اسی ماحول میں پہنچ کر شاد ہو جاتی تھی۔

 1980 کے بعد مسجد نبوی کی توسیع میں وہ علاقہ  بھی شامل ہو گیا۔

سبع مساجد  دراصل جنگ خندق کے دوران صحابہ کرام کے مورچے تھے ۔ جن کو چھوٹی چھوٹی مساجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔ سب کچی اینٹوں اور پتھر کی بنی ہوئی تھیں۔

 1.  مسجد الفتح سب سے بڑی، پہاڑی پر

 2.  مسجد سلمان فارسیؓ

 3.  مسجد ابوبکر صدیقؓ

 4.  مسجد عمر فاروقؓ

 5.  مسجد علیؓ

 6.  مسجد فاطمہ الزہراؓ

 7.  مسجد بلالؓ

ہم نے مساجد کی  صرف زیارت کی۔  چھوٹی سیڑھیوں اور اونچائی کی وجہ سے مجھے اوپر چڑھنا مشکل لگا ۔

 اردگرد کھلا میدان، کھجور کے درخت اور چند گھرنظر آتے تھے۔ مسجد نبوی سے   زائرین پیدل زیارت کرنے آرہے تھے ۔1987 میں پانچ مساجد کو شہید کر دیا گیا۔ ابوبکرؓ، عمرؓ، علیؓ، فاطمہؓ، بلالؓ والی مساجد۔

 صرف 2 مسجد الفتح اور مسجد سلمان فارسیؓ  باقی رہ گئیں۔

ان دو مساجد کو 1987 میں دوبارہ بنایا گیا۔

مدینہ کے باسی  بہت مہمان نواز ہیں۔  گویا انصار مدینہ کی تہذیب موجود ہے ۔

اب تو رہائشی علاقے دور ہوگئے ہیں ورنہ  ہر گھر میں مقامی لوگ کسی نہ کسی زائر  کے  کھانے کا انتظام رکھتے تھے اور مسجد سے کسی کو بھی محبت سے لے آتے تھے ۔ مدینہ منورہ  میں سب سے زیادہ  مصری، انڈونیشی،  پاکستانی، انڈین نظر آتے تھے۔  کچھ وہ بھی تھے جو 1947 میں پاکستان  ہجرت کرنے کی بجائے مدینہ منورہ یا مکہ مکرمہ آکر بس گئے تھے۔

۔1977 میں مسجدنبوی کے ارد  گرد گھر تھے۔ کئی تو  مسجد کی دیوار سے لگے ہوئے تھے۔ صحن سے نکلتے ہی گلیاں  شروع ہو جاتی تھیں ۔ یہ محلے آج سب ٹوٹ کر مسجد کی توسیع میں آ گئے ہیں، اس لیے آج ان کا نام بھی کوئی نہیں جانتا۔

 مسجد کے گرد چھ مشہور محلے ہوا کرتے تھے۔

مسجد کے شمال مشرق میں، باب المجیدی کے سامنے۔ خواجہ سراؤں (اغوات) کا محلہ تھا جو 800 سال سے مسجد کی خدمت کرتے تھے۔  عموماً یہ حبشی مخصوص دستار  اور مخصوص لباس والے ہوتے تھے۔

۔تنگ گلیوں میں  دو منزلہ مٹی کے گھر، نیچے دکانیں، اوپر اغوات رہتے تھے۔ یہ مسجد کے خادم تھے ۔اونچے لمبے قد ، مضبوط ڈیل ڈول۔ سفید لباس، کمر پہ سرخ پٹکا ۔ سرخ  عمامہ ہاتھ میں عصا، مواجہ شریف میں کھڑے نظر آتے۔ 1978 کے بعد یہ حرم میں ڈیوٹی دیتے نظر نہ آئے ۔

 حارة الساحۃ -( ساحہ والا محلہ)

باب السلام کے بالکل سامنے، مغرب کی طرف، یہ پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کا اجتماعی ٹھکانہ  تھا۔

 مشہور رباط البخاري، رباط العثماني جس میں  بڑے ہال، 100-100 حاجی ایک ہال میں زمین پر سوتے تھے۔ کرایہ ایک  ریال روزانہ کے حساب سے ہوتا تھا۔

نیچے بقالہ (دکان) – پاکستانی دال، روٹی، اچار ملتا تھا۔ اکثر اردو بولنے والے ادھر ہی نظر آتے تھے۔

مدینہ منورہ  میں  ٹیوٹا پک اپ، گدھے، ٹرک سب کھڑے ہوتے تھے۔ ،ڈرائیوروں کی آوازوں کا شور ہر وقت رہتا تھا ۔

مسجد سے 500 میٹر جنوب، باب العنبریہ کے سامنے۔ ریلوے اسٹیشن والا محلہ، ترکوں نے 1908 میں بنایا تھا۔1977 میں یہاں بڑی بسوں کا اڈہ، اور مصری، شامی مزدور رہتے تھے۔

شمال کی طرف، لکڑی منڈی تھی،  مسجد کے دروازے یہیں بنتے تھے۔

1977 کے بعد گلی محلے بازار عمارتیں نئے روپ میں جلوہ گر ہونا شروع ہوگئی تھیں ۔

 قبرستان جنت البقیع کی 1977 میں دیوار چھوٹی، اندر قبریں ٹوٹی  پھوٹی۔ لوگ اندر جا کر دعا کر لیتے تھے۔ زائرین میں ایک درخت کے بارے میں مشہورتھا کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک سے کھجور کی گٹھلی زمین میں بو کر اسے سیراب کیا تھا۔  یہ درخت جبل سلع کے قریب، سبع مساجد کے علاقے میں تھا۔  لوگ وہاں دعائیں مانگتے، منت مان کر کپڑے، دھاگے، رومال درخت پر باندھ دیتے تھے۔ تبرک کے لیے اس کی چھال اور پتے بھی لیتے تھے۔

ہم نے اس درخت پہ  رنگ برنگے کپڑے لٹکے خود دیکھے لیکن ہم جب دوبارہ گئے 1978 میں گئے  تو اس درخت کا نام و نشان نہیں تھا ۔

سعودی حکومت نے اسے 1977 کے آخر یا 1978 کے شروع میں کاٹ دیا۔

 علماء نے فتویٰ دیا کہ درخت سے تبرک لینا، منت ماننا، کپڑے باندھنا بدعت اور شرک کا ذریعہ بن رہا ہے۔ توحید کے تحفظ کے لیے ایسے مقامات کو ختم کیا گیا جہاں لوگ عبادت کی نیت سے جمع ہوتے تھے۔

کاٹنے کے بعد جگہ کو برابر کر کے نشان بھی مٹا دیا گیا تاکہ لوگ وہاں دوبارہ جمع نہ ہوں۔

 حالانکہ سیرت اور حدیث کی کسی کتاب میں ایسے درخت کا ذکر نہیں ملتا۔

 سعودی علماء  کا موقف یہ  ہے کہ نبی ﷺ اور صحابہ کے زمانے میں ایسے درختوں/مقامات سے تبرک کا کوئی ثبوت نہیں، اس لیے اسے روکنا ضروری تھا۔

 خاک شفا  کے بارے میں بھی زائرین میں مشہور تھا کہ وہ مٹی ہر بیماری کے لیے شفا ہے ۔

1977 سے پہلے زائرین کو تین جگہوں سے یہ مٹی ملتی تھی:

جنت البقیع

    سب سے مشہور جگہ۔ صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیت کی قبروں والی مٹی کو ’خاکِ شفا‘ کہا جاتا تھا۔ لوگ قبرستان کی دیوار کے ساتھ سے تھوڑی مٹی لے لیتے تھے۔

جبلِ احد – شہداء کا میدان

    حضرت حمزہؓ اور 70 شہداء کے مزار کے آس پاس کی سرخ مٹی۔ اسے بھی تبرک کے طور پر لے جاتے تھے۔

مسجد نبوی ﷺ کے پرانے صحن کی مٹی

    توسیع سے پہلے مسجد کا فرش مٹی کا تھا۔ بارش کے بعد جو نرم مٹی نکلتی اسے لوگ برکت کے لیے رکھ لیتے تھے۔

  یہ مٹی نبی ﷺ، صحابہؓ اور شہداء کے قدموں سے لگی ہوئی تھی۔ اسی نسبت کی وجہ سے لوگ اسے باعثِ برکت سمجھتے تھے۔ صدیوں سے حجاج و زائرین اپنے گھروں کے لیے تھوڑی سی مٹی شیشی میں لے جاتے تھے۔ بیماری میں پانی میں ڈال کر پیتے۔

1980 سے سعودی حکومت نے ان جگہوں پر پابندی لگا دی۔

علماء نے کہا کہ مٹی کو شفا دینے والی سمجھنا یا اس سے علاج کرنا بدعت ہے۔ شفا صرف اللہ دیتا ہے۔

اس کے بعد بقیع اور احد کے اردگرد دیواریں لگا دی گئیں اور مٹی کھودنا منع کر دیا گیا ۔

  1977سے 1989 تک مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر مسجد نبوی کی تاریخ کی سب سے بڑی توسیع تھی۔ اسے ’توسعہ شاہ فہد اول‘ بھی کہتے ہیں۔ 

 1977 سے شروع ہونے والی حرمین الشریفین کی توسیع اور تجدید زائرین کی سہولت کے لیے تھی اور یہ کام آج تک جاری و ساری ہے۔ 1977 سے 1989 تک ہم سعودی عرب میں رہے اور ترقی کا سارا دور اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

وہ روحانی تعلق جو 1977 میں روح نے محسوس کیا بعد میں  مدینہ منورہ کے ماحول ۔بود و باش اور عمارات کا  حرمین کے ارد گرد فلک بوس عمارات ۔پلازے ،ہوٹل، مالز دیکھ کر اکثر ہی علامہ اقبال کا شعر یاد آجاتا ہے۔

میں بے زار و ناخوش ہوں مرمر کی سلوں سے

میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو

 بارہا پاکستان سے آنے والے رشتہ داروں اور والدین کے ساتھ مدینہ منورہ میں دس دن رہنے کی سعادت ملی ۔ہر زیارت اور قیام پہلے سے زیادہ یاد گار رہی ۔

 بچوں نے پہلے دن سے مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ ، طائف کی جدت کا ہر مرحلہ دیکھا ۔ پاکستان آکر دوبارہ بھی سعادت ملی جب امارات منتقل ہوئے تو تقریباً ہر سال اللہ تعالی نے  بذریعہ سڑک موقع عطا فرمایا ۔ہر مرتبہ ایک نیا روحانی تجربہ ملا ۔ ذالک فضل اللہ ۔۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ ۔۔

کس کام کی حیات ہے شہر نبی سے دور

خوش بخت ہیں وہ جو مدینے میں جا بسے

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں