ڈپریشن کی شکار خاتون 104

آئیے! خودکشی کرنے والوں کو روکیں

ثاقب محمود عباسی:

جواد علی ایک عام سے گھرانے میں پیدا ہوا۔ آٹھویں کلاس میں تھا جب اس کے والد فوت ہوگئے ۔ گھر میں سب سے بڑا تھا اس لیے سارا بوجھ اس کے کندھوں پہ آ گیا ۔ ایک ہوٹل پہ کم عمری میں ویٹر کی ملازمت مل گئی تو گھر کا نظام چلنے لگا ۔ چچاٶں نے گھر اور زمین ناجأٸز ہتھکنڈوں سے ہتھیا لی تو مجبوراً اسے ہجرت کرکے شہر منتقل ہونا پڑا ۔

شہر میں چھوٹی موٹی ملازمتیں کرکے گھر چلانے کی کوشش کرتا رہا، ساتھ میں پرائیویٹ میٹرک، پھر ایف اے اور بی اے بی کرگیا ۔ چھوٹے بہن بھائیوں کو اچھی تعلیم دلانے میں بھی کامیاب رہا ۔

پانچ سال لگا کر اپنی جمع پونجی سے ایک چھوٹا سا بزنس شروع کیا تھا جس میں نقصان اٹھانا پڑا ۔ اپنی پسند سے ایک جگہ منگنی کی تھی، بزنس میں نقصان کی وجہ سے وہ بھی ٹوٹ گئی۔

ازسرنو خود کو مجتمع کرکے ایک بار پھر سٹارٹ لیا ۔ تین سالوں میں دوبارہ کاروبار سیٹ کرکے معاشی خود کفالت حاصل کرلی ۔ پہلے سے اچھی جگہ اور زیادہ خوبصورت لڑکی سے شادی بھی ہو گئی اور زندگی کی گاڑی آگے رواں دواں ہوگئی ۔

کمال احمد ایک مشہور و معروف خاندان میں سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوا۔ بہترین ماحول میں تربیت پائی ۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ۔ یونیورسٹی میں گولڈ میڈل حاصل کیا ۔ پسند کی جگہ منگنی بھی ہوگئی ۔ مستقبل کی پریشانی کوئی نہیں تھی کہ باپ کا سیٹ بزنس موجودتھا۔

ایک دن دوستوں کے ساتھ بغیر بتائے گھر سے گاڑی لے کر نکلا۔ موبائل میں شاید چارجنگ کم تھی اس لیے موبائل بند ہوگیا۔ گھر والے شدید پریشان ہوگئے۔ کمال نے گھر رابطہ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ رات گئے جب وہ گھر پہنچا تو باپ نے شدید غصے کی حالت میں اسے سخت سست کہنے کے ساتھ ایک تھپڑ بھی جڑ دیا ۔ اگلی صبح کمرے میں چھت سے لٹکی ہوئی اس کی لاش جھول رہی تھی۔

سوال یہ ہےکہ آخر ایسا کیا تھا جسں نے تمام مساٸل و مشکلات اور ناکامیوں کے باوجود کبھی جواد کے ذہن میں خودکشی کے بارے میں سوچ نہ آنے دی جبکہ کمال سے غصے میں باپ سے کھایا ہوا ایک تھپڑ بھی برداشت نہ ہوسکا اور موت کو اپنے ہاتھوں گلے لگا لیا؟

اس سوال کے بہت سے جواب دئیے جا سکتے ہیں مگر میرے خیال میں جواد کو اپنے جذبات کو ریگولیٹ کرنا آتا تھا جبکہ کمال اس صلاحیت سے عاری تھا ۔

ایموشنل مینجمنٹ ایک ضروری فن ہے جس کو باقاعدہ سیکھا جانا چاہیے۔

ہمارے یہاں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن ہم ڈپریشن کو بیماری ہی نہیں سمجھتے۔ جب بیماری ہی نہیں سمجھتے توعلاج کیسا ؟

ویسے بھی نفسیاتی و ذہنی بیماریوں کا اقرار کرنا گویا پاگل پن کا اعتراف ہوتا ہے اس لیے لوگ سخت ترین تکلیف اور اذیت سہہ کربھی کبھی ٹینشن، تناٶ یا ڈپریشن کو بیماری مان کر اس کا علاج نہیں کرواتے۔
ساتھ میں قصور ان سائیکالوجسٹس اور سائیکاتھیراپسٹ کا بھی ہے جنہوں نے ان موضوعات پر بہت ہی کم لکھا ۔ نتیجتاً لوگوں میں اس بارے شعور و آگاہی نہ ہونے کے برابرہے۔

ٹینشن، سٹریس یا ڈپریشن دراصل علامات ہیں ایموشنلی کمزور ہونے اور اپنے جذبات کو درست طریقے سے مینج نہ کرپانے کے۔ اگر آپ ان وجوہات کا علاج کردیں جن کی وجہ سے انسان ٹینشن‘ سٹریس اور پھر ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے تو یہ مساٸل جڑ سے ہی ختم ہو سکتے ہیں ۔

سوشانت سنگھ کی خودکشی کے بعد سے اب تک خود میرے اپنے ذاتی جاننے والے چار پانچ نوجوانوں نے خود کو ٹینشن یا ڈپریشن کا شکار بتایا ہے ۔ اس لیے اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ ہے ۔

میں خود کو کمیونیکیٹر کہتا ہوں ۔ کمیونیکٹر لوگوں سے سادہ اور آسان زبان میں کمیونیکیٹ کرتا اور مشکل اور مبہم ترین باتوں کو بھی عام فہم انداز میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ پڑھنے اور سننے والا سمجھ سکے۔ اس کے پیشِ نظر لفاظی سے زیادہ تفہیم کی اہمیت ہوتی ہے۔

ایجوکیٹر برخلاف کمیونیکیٹر سادہ اور آسان ترین بات کو بھی بے حد مشکل بنا کرپیش کرتا اور لوگوں کو کنفیوز کرکہ یک گونہ خوشی محسوس کرتا ہے ۔ چند پیراگراف پڑھ کر آپ بھی کمیونیکٹر اور ایجوکیٹر کے درمیان فرق بخوبی معلوم کرسکتے ہیں ۔

آنے والی تحاریر ٹینشن ٗ سٹریس اور تناٶ پہ لکھی جائیں گی اور مقصود ان کا لوگوں کو چند بنیادی اور آسان باتیں بتانا ہوگا جس سے وہ ان موذی اور مہلک بیماریوں سے خود کو محفوظ بنا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں