25

اپوزیشن کی جانب سے عمران خان اور قومی اداروں کو کل تک کی مہلت!

سید انورشاہ/ کوئٹہ۔۔۔۔۔۔۔۔
ماوزے تنگ جب عوام کے حقوق کے لئے دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے لئے نکلے تو ان کے ساتھیوں کے تعداد تقریباً نوے ہزار کم بیش تھی ۔ جب وہاں پہنچے تو ساتھیوں کے تعداددس ہزار کے قریب تھی۔ باقی ساتھی انقلاب پر قربان ہو چکے تھے ۔ پاکستان میں بھی آج کل کچھ اسی قسم کی صورتحال بن چکی ہے۔

ملک کے مختلف حصوں سے آنے والا جم غفر اس وقت اسلام آباد میں اجتماع کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ہر دن یہ اجتماع مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں نیا تاریخ رقم کرنے جارہا ہے ۔ اس اجتماع کا مقصد عمران حکومت کا خاتمہ اور پشت پناہی کرنے والے قومی اداروں کو سیاسی معاملات سے دور رکھنا ہے۔ بظاہر تو یہ اداروں سے تصادم نہیں چاہتے مگر اداروں کو بھی وہ غیر جانبدار دیکھنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت ملک کے ہر کونے سے خصوصاً پنجاب سے یہ صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے، باقی نعروں کا تذکرہ مناسب نہیں ہے ۔ جائزہ لیا جائے تو اسلام آباد کے اجتماع میں اس وقت نہ صرف وہ تمام جماعتیں شریک ہیں جنہوں نے ہر آمر کے خلاف جد و جہد کی ہے بلکہ وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو آمروں نے اپنے تحفظ کے لئے ماضی میں بنائی تھیں مگر آج وہ جمہور کی حکمرانی کے لئے میدان میں نکل آئی ہیں۔

اس اجتماع کے پہلے پڑائو میں مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف ، میاں افتخار ، محمود خان اچکزئی ، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر سیاسی رہنمائوں نے انتہائی جارحانہ انداز میں شرکاءسے خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں وزیراعظم کو استعفی دینے کے لئے قومی اداروں کو دو روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ بھی دیا کہ وہ اپنے شرکاء کے ہمراہ ڈی چوک منتقل ہو سکتے ہیں۔ خطاب کے دوران عوامی نعرے بازی کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ڈی چوک جانے کا مطالبہ نوٹ کر لیا ہے۔

بقول اُن کے حکومت نے کشمیر بیچ ڈالا اور معیشت تباہ کر ڈالی، تباہ حال معیشت سے ملک نہیں چل سکتا۔بقول ان کے میں میڈیا کے ساتھ کھڑا ہوں اور میڈیا پرسن و مالکان کے ساتھ میری ہمدردیاں موجود ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ میڈیا سے پابندی فوراً اٹھالی جائے۔ اگر پابندی نہیں اٹھائی تو پھر ہم بھی کسی چیز کے پابند نہیں رہیں گے۔ بقول مولانا کے وہ غریبوں اور کسانوں کے ساتھ مزید کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے، پچاس لاکھ گھر بنانے کی بات کی گئی تھی مگر پچاس ہزار سے زیادہ لوگوں کے گھر گرا دئیے گئے ہیں۔ عمران خا ن نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا مگر ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔

”ہمیں مذہبی کارڈ استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے، مذہبی کارڈ پاکستان کے آئین میں موجود ہے، آپ کون ہوتے ہیں ہمیں مذہب کی بات سے روکنے والے، اسلام ہے تو پاکستان ہے اور پاکستان کے ساتھ اسلام ہے۔ قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن شہباز شریف نے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب عمران خان کی چیخیں نکالنے کا وقت آ گیا ہے، تبدیلی پہلے نہیں آئی تھی بلکہ اب آئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ”حکومت جادو ٹونے سے چل رہی ہے اور پھونکیں مار کر تعیناتیاں ہو رہی ہیں۔بقول اُن کے ہم اقتدار میں آکر ملک کو ترقی دیں گے، نہ کر سکے تو میرا نام عمران نیازی رکھ دینا۔ عمران خان کی کنٹینر کی سیاست آج یہاں دفن ہو رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوام نے ”سلیکٹڈ وزیراعظم“ کو مسترد کر دیا ہے، ” ہم انہیں گھر بھیجیں گے۔ الیکشن 2018 میں فوج کو پولنگ اسٹیشن میں کھڑا کر کے انتخابات کو متنازعہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر بھارتی جاسوس کلبوشن جادیو کا انٹرویو تو چل سکتا ہے، بھارتی فضائیہ کے پائلٹ کا انٹرویو تو چل سکتا ہے مگر ایک سابق صدر آصف علی زردای کا انٹرویو نہیں چل سکتا۔ بلاول نے کہا کہ ملک میں عجیب آزادی ہے، ”یہاں نہ سیاست آزاد ہے اور نہ صحافت۔ عوام ملک میں صرف جمہوریت مانگتے ہیں کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ حکومت کو نہیں مانتے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان عوام کی مرضی سے اقتدار میں نہیں آئے وہ ‘کسی اور‘ کی وجہ سے اقتدار میں آئے ہیں۔

دیکھا جائے تو اس اجتماع میں جتنے مقررین نے خطاب کیا وہ عوام کی ترجمانی کر رہے تھے ۔ کیونکہ یہ مبنی بر حقیقت باتیں تھیں، تاہم اس اجتماع میں سب سے خطرناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ قومی اداروں کو اپوزیشن نے دو دن کی مہلت دی جس پر پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفورنے اپوزیشن کے اس احتجاج کے بارے میں اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ مولانا سینئر سیاستدان ہیں، اگر انہیں کوئی شکایت ہے تو متعلقہ اداروں کے پاس جائیں۔

بقول میجر جنرل آصف غفور مولانا فضل الرحمٰن بتائیں کہ وہ کس ادارے کی بات کر رہے ہیں؟ سڑکوں پر آکر الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوں گے، کسی بھی طرح کا انتشار ملک کے مفاد میں نہیں۔بقول اُن کے پاک فوج غیر جانبدار قومی ادارہ ہے، مولانا فضل الرحمٰن اپنے تحفظات متعلقہ اداروں کے پاس لے کر جائیں۔بقول اُن کے حکومت کے ساتھ آئین، قانون کے دائرے میں رہ کر سپورٹ کررہے ہیں، ملکی استحکام کو کسی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بقول اُن کے حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں، وہ آپس میں بہتر کوآرڈنیشن کررہی ہیں، امید ہے کہ کمیٹیوں کا کام بہتر طریقے سے آگے چلے گا۔مسئلہ کو جس انداز میں لیا جارہا ہے ۔وہ غیر سنجیدہ ہے جو موجودہ حالات اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نیا بیانیہ آنے کے بعد صورتحال انتہائی خطرناک حدود میں داخل ہو چکی ہے ۔ پاکستان کا ماضی گواہ ہے ۔کہ جب بھی اس قسم کے حالات ملک میں پیداہوئے ہیں ۔ملکی اداروں نے اہم کردار ادا کرکے مسئلہ کا حل نکالا ہے ۔ماضی میں یہ حل مارشل لاءکی شکل میں یا پھر سلیکٹڈ حکومت یا افراد کو اقتدار میں لاکر معاملات چلائے جاتے رہے ہیں ۔

مگر اب صورتحال بہت مختلف ہے ۔ کیونکہ مولانا کا ڈی چوک کی جانب بڑھنے اور قومی اداروں کو مہلت دینے کا مقصد یہ اشارہ دینا ہے کہ یہ احتجاج کسی اور سمیت میں بھی جا سکتا ہے جو انتہائی خطرناک نتائج کا سبب بن سکتا ہے ۔ لہذا معروضی حالات اور زمینی حقائق کی روشنی میں عوامی سوچ کے مطابق فیصلے کئے جائیں ۔اگر ایسے نہیں ہوا تو پھرصورتحال خونی انقلاب کی جانب سے جاسکتی ہے ۔لہذا اس خونی انقلاب سے بچنے کے لئے اس پرامن انقلاب کو اصلاحات کے ساتھ قبول کرکے اس ملک کے عوام پر خصوصی احسان کیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں