ایک خاتون کپڑےکا تھیلاکندھے پر لٹکائے ہوئے 166

تھیلا: خوبصورت روایت جو ماحول اورمعیشت دونوں‌کو بھلاکرسکتی ہے

زبیدہ رئوف۔۔۔۔
ترقی پذیر ممالک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ بغیر سوچے ترقی یافتہ ممالک کی نقل کرتے ہیں۔ حالانکہ ترقی یافتہ ممالک کے وسائل اور مسائل میں ترقی پذیر ممالک کی نسبت زمین آسمان کا فرق ہے ۔

پاکستان میں جہاں کراچی جیسے شہر کا کوڑا اس کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، اس کی وجہ ناقص منصوبہ بندی،سوچ سے عاری عوامی پالیسیاں ہیں ۔ اگر یہی حالات رہے تو پاکستان کا ہر چھوٹا بڑا شہر کوڑا دان بن سکتا ہے۔

یوروپ اور امریکہ میں زندگی کا سٹائل کچھ کم گھریلو ہے، اکثر گھروں کے سارے افراد ہی صبح کام پر نکل جاتے ہیں اس لئے انہوں نے فاسٹ فوڈ اور زیادہ سے زیادہ ڈسپوزایبل پیکنگ کو اپنا لیا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی ایسی کوئی مجبوری نہیں تھی کہ ڈسپوزایبل کلچر کو اپناتے۔

اب مسئلہ یہ ھے کہ وہ ممالک اپنے بے تحاشا کوڑے کو مناسب طریقے سے ضائع کرنے پر کئی ملین سالانہ خرچ کر رہے ہیں پھر بھی ان کا کوڑا بڑھتا ہی جا رہا ہے اور آنے والے سالوں میں کوڑا دنیا کے بڑے مسائل میں سے ایک ہو گا۔

ڈسپوزایبل یعنی عارضی استعمال والے برتن ہوں یا لفافے وہ وقتی طور پر سہولت کا باعث ہوتے ہیں لیکن زمین کے لئے مستقل عذاب بن جاتے ہیں کیونکہ نہ تو وہ کھاد بن کر مٹی میں جذب ہوتے ہیں اور نہ سمندروں کے پانی میں تحلیل ہوتے ہیں الٹا سالوں صدیوں تک پلاسٹک مٹی کے اندر اپنے زہریلے مادوں کی وجہ سے زمین اور اس میں اگنے والی فصلوں کو زہریلا کرتا رہتا ہے۔

سمندری حیات جس پر انسانوں کا دارو مدار ہے، وہ بھی بری طرح پلاسٹک سے متاثر ہو رہی ہے۔ ان گنت جانوروں کے معدوں سے پلاسٹک کے ذرات ملے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دو سو مختلف جانوروں کی ا قسام پلاسٹک کے نقصانات کا شکار ہوچکی ہیں۔ ماہرین پلاسٹک کو آلودگی کا سب سے بڑا اور خطرناک ذریعہ سمجھتے ہیں۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بہت زیادہ ڈس پوز ایبل اشیاء کے بننے پر پابندی ہونی چاہیے تھی۔ جہاں تک انڈسٹری کا تعلق ہے تو ایسی بہت ساری اشیاء نعم البدل کے طور پر تیار کی جا سکتی ہیں جن سے صنعت اور روز گار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایسی انڈسٹری کا قیام جو آنے والے وقت میں صحت کی دشمن بن جائے، اس کے پھیلائو سے وقتی طور پر آمدنی میں اضافہ ضرور ہوتا ہے لیکن آنے والی نسلیں عارضی خوشحالی کے طفیل مستقل بیماری اور آلودگی کا تحفہ بھی پاتی ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک ایک مدت سے تھیلے یا پائیدار پلاسٹک کے بیگز کو متعارف کروا چکے ہیں۔ اگر کوئی گھر سے تھیلا لے کر نہیں جاتا تو اسے مفت پلاسٹک بیگ نہیں ملتا بلکہ اسے کچھ رقم خواہ چند سینٹ یا پینس دے کر خریدنا پڑتا ہے اور پھر اس پلاسٹک کو الگ اس کوڑے میں پھینکا جاتا ہے جہاں وہ زمین اور سمندروں میں جا کر جانوروں اور فصلوں کے لئے خطرہ نہ بن سکے۔

لاکھوں کروڑوں ڈالرز خرچ کر کے عوام کے لئے ایسے کوڑا دان نصب کئے جاتے ہیں جن میں پلاسٹک کو کاغذ سے الگ پھینکا جائے۔ ایسے کیلنڈر، پمفلٹ اور معلوماتی مواد شائع کیے جاتے ہے جس سے عوام کو آگاہی ہو سکے کہ پلاسٹک کو صحیح طرح سے ضائع کرنا اور کوڑا کم پیدا کرنا زمین کو آلودگی سے بچانے کے لئے کیوں اور کتنا ضروری ہے۔

چھوٹے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا لازمی حصہ ہوتا ہے کہ انہیں ہر ڈس پوز ایبل چیز کے ضائع کرنے یا ری سائیکل کے بارے میں مکمل معلومات ہوں۔ کوئی لائبریری، بس سٹاپ، پبلک آفس، سڑک کا چوک، گلی کی نکڑ ایسی نہیں ہوتی جہاں دو طرح کے کوڑے دان نصب نہ ہوں، ایک پلاسٹک کا اور دوسرا کاغذ یعنی اخبار، رسائل وغیرہ کا۔

کیا پاکستان میں عام شہری کو اتنا شعور ہے کہ پلاسٹک میں لائی جانے والی سبزی کے بعد اسے کہاں پھینکا جائے اور پانی کی بوتل کو کیسے ضائع کیا جائے؟ پاکستان جیسے ممالک میں فاسٹ فوڈ کے لئے استعمال ہونے والا اندھا دھند ڈس پوز ایبل برتن ایک بہت بڑا کوڑے کا نا حل ہونے والا طوفان لے کر آئے گا جس کا ابھی ہم لوگوں کو اندازہ نہیں ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ایشیائی ممالک میں پلاسٹک کو ضائع کرنے کے مناسب اقدامات ایک فیصد بھی نہیں کئے جاتے۔ جس طرح گھر کی تعمیر میں ٹوائلٹ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اسی طرح ہر پلاسٹک اور دیگر ڈسپوزایبل اشیاء کی انڈسٹری کو ان کے استعمال کے بعد مناسب تدارک کا ضرور سوچنا چاہیے اور اگر خود نہیں کچھ کر سکتے تو حکومت اور دیگر آلودگی کے لیے کام کرنے والوں اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

پلاسٹک کے اس خطرے سے نمٹنے کے لئے عوام کو اس بات کا شعور دینا بہت ضروری ہے کہ پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال زمین کو جس پر ان کی آنے والی نسلوں نے رہنا ہے تباہ کر رہا ہے۔ اس کے لئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو متحرک ہونا پڑے گا۔

بد قسمتی سے ہمارے عوام کو بے معنی ڈراموں اور مخصوص لا حاصل سیاسی ٹاک شوز کے نشے پر لگا دیا گیا ہے بجائے اس کے کہ ان کی آگاہی کے لئے ایسی ڈاکومینٹری دکھائی جاتیں جن میں سمندری جانور پلاسٹک کی وجہ سے مر رہے ہیں اور زمیں کی فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور پلاسٹک کو کھانے کی اشیاء کے لئے استعمال کرنے سے ہونے والی بیماریوں بالخصوص کینسر سے آگاہ کیا جانا چاہئے تھا۔

اسی طرح مختلف اخبارات کو وقتاً فوقتا اس موضوع پر مضامین شائع کرنے کے علاوہ کوئی ایک ایسا قدم اٹھانا چاہیے کہ مستقل آلودگی کے خلاف پیغام دیا جائے۔ یہ قدم اخبارات کے علمی شعور اور اپنی نسلوں سے محبت کی غماضی کرے گا۔

پلاسٹک انڈسٹری کو ری یوذ ایبل اشیاء کی تیاری کے لئے سیمینارز کے ذریعے تعلیم دی جائے اور رعایات دی جائیں کہ وہ ڈس پوز ایبل کو زیادہ سے زیادہ ری یوزایبل یا ری سائیکل ایبل میں تبدیل کرسکیں۔

پرائمری سکول سے ہی بچوں کو آلودگی کا شعور دیا جائے اور کوڑے کو مناسب طریقے سے ضائع کرنا سکھایا جائے ۔

مساجد میں مولویوں کو کثرت سے وہ احادیث بیان کرنی چاہئیں جو زمین کے حقوق پر ہیں اور کم کوڑا پیدا کرنے سے متعلق ہیں۔

کپڑے کے تھیلے کو واپس لا کر کافی حد تک پلاسٹک بیگ سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔
غریب عورتوں کو مختلف سا‏ئز اور رنگ کے تھیلے سی کر دکانداروں کو سپلائی کرنا چاہئیں تاکہ وہ گاہک کو چند روپے میں یا زیادہ خریداری پر مفت کپڑے کا تھیلا دیں اپنے بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لئے یہ خسارے کا سودا نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں