محمدعامرخاکوانی، کالم نگار،دانشور 233

عمران خان۔ ایک سال میں کیا کھویا؟

محمد عامر خاکوانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال سادہ مگر بنیادی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک سالہ دور حکومت میں کیا کھویا ، کیا پایا ہے۔ میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ عمران خان نے اپنے اموشنل بینک اکاﺅنٹ میں کتنا کچھ ضائع کیا ہے۔ کیونکہ اگر اس نکتہ پر بات کی جائے کہ انہوں نے ایک سال میں کیا حاصل کیا توتین چار سطروں میں بات ختم ہوجائے گی۔ اپنا اثاثہ لٹانے کی داستان البتہ طویل بھی ہے اور بہت سوں کے لئے دل دکھانے والی بھی۔

عمران خان کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ سے حسن ظن رکھنے والوں کوقلیل مدت میں شدید مایوسی سے دوچار کر دیا ہے۔ اتنے کم عرصے میں کسی بڑے، مقبول سیاستدان سے وابستہ امیدیں یوں تحلیل ہوتے کم ہی دیکھی گئیں۔ نوبت یہ آ گئی کہ عمران خان کے زبردست حامی جنہیں ڈائی ہارڈ فین کہاجاتا ہے، وہ بھی سکتے کے عالم میں ہیں۔

ان کا ذہن لیڈر کی ناکامی کو تسلیم نہیں کر پا رہا ، دل کپتان سے امیدیں وابستہ رکھے ہے ، مگر آنکھوں میں ٹوٹے سپنوں کی کرچیاں پیوست ہیں۔خان کے غلط فیصلوں کا وہ دفاع نہیں کر پا رہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے حلقہ احباب میں انہیں ندامت کا سامنا کرنا پڑرہا۔

عمران خان نے جو چیزیں لوز(Lose) کی ہیں، ان میں اپنی صلاحیتوں کا اعتبار اور وہ چند نظریات یا مِتھ(Myths)سرفہرست ہیں جو کئی برسوں سے اپنی پرجوش تقریروں کے ذریعے انہوں نے اپنے حامیوں کے ذہنوں میں راسخ کرائے تھے۔ مثال کے طور پر عمران خان کے حوالے سے یہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال جیسا شاندار انتظامی پراجیکٹ کھڑا کیا، جس کا فول پروف سسٹم ہے، جسے کوئی بھی نہیں توڑ سکتا۔ اسی طرح نمل یونیورسٹی کی مثال بھی دی جاتی ہے۔

یوں لگتا ہے کہ خوش قسمتی سے عمران خان کو ان پراجیکٹس کے لئے اچھے منتظم مل گئے، جنہوں نے ڈیلیور کر دیا۔ البتہ فنڈز وغیرہ حاصل کرنے میں عمران خان کی مہارت یقینا کام آئی۔وہ ذاتی طور پر کرپٹ نہیں اور چیریٹی کی رقم درست جگہ پر خرچ ہو رہی ہے، یہ اعتبار ان کا اثاثہ ہے، اسی وجہ سے انہیں فنڈز ملنے میں کبھی دقت پیش نہیں آئی۔( خوش قسمتی سے ان کی شخصی دیانت واحد چیز ہے جو اس ایک سالہ دور حکومت میں مجروح یا مسخ نہیں ہوئی۔ اس پر مگر بعد میں بات ہوگی۔سردست ان کی خامیاں اور غلطیاں موضوع ہیں۔

عمران خان کا فہم سیاست چند موٹی موٹی باتوں پر مبنی ہے، وہ ان کی زیادہ تفصیل میں جائے بغیر بنیادی نکات کو بار بار دہراتے رہے ، اس تاثر کے ساتھ کہ ان کے پاس تفصیلی پلان موجود ہے اور وقت آنے پر وہ اس کی مدد سے اپنے فارمولے یا تھیوری کو درست ثابت کر دیں گے۔ اس ایک سال کے اندر یہ سب تصورات بری طرح پاش پاش ہوگئے۔

یہ واضح ہوگیا کہ خان صاحب کا فہم سیاست ناقص، ادھورا، تشنہ معلومات پر مبنی تھا۔ دراصل ان کے خوش فہم نظریات کی عمارت کسی سخت جان ، مستقل مزاج کچھوے کی پشت کے بجائے کسی بے فکرے ، مست ،چِبّلے بیل کے سینگوں پر استوار تھی۔ ادھر بیل نے سرہلایا اور گردن جھٹکی ، ساتھ ہی پوری عمارت دھڑدھڑ کر کے نیچے آن پڑی۔

چِبّلا اردو کا لفظ ہے، ہم نے یہ مکرمی شکیل عادل زادہ کے ناول بازی گر سے اخذ کیا،پنجابی قارئین اسے چول یا شوخا جبکہ سرائیکی اسے چَبّل سمجھ سکتے ہیں،باقی زبانوں کا پتہ نہیں، اس لئے کوئی مترادف تجویز نہیں کر سکتا۔بس یہ یاد رہے کہ چِبّلا اس بیل کو کہا گیا ہے جس کے سینگوں پر نظریات کی عمارت کھڑی تھی، یہ کسی فرد کو نہیں کہا گیا۔

عمران خان کے کئی مِتھ یا اقوال زریں غلط ثابت ہوئے۔وہ کہتے تھے ، اگر لیڈر دیانت دار تو کرپٹ ٹیم بھی پرفارم کرتی ہے۔ عمران خان کے پرجوش حامی اسے یوں بیان کرتے کہ گیدڑوں کی فوج کاقائد اگر شیر ہو تو وہ فاتح ہوتا ہے جبکہ شیروں کی فوج کا قائد اگر گیدڑ کو بنا دیا جائے تو شکست مقدر بنتی ہے۔ یہ بات منطقی طور پر غلط تھی ،

پچھلے ایک سال نے تو خیر اس نظریے کو دفن کر کے اس کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا ۔ یہ ثابت ہوا کہ اچھی ٹیم ہی پرفارم کرتی ہے، صرف لیڈر کچھ نہیں کر سکتا۔ ون مین شو نام کی کسی چیز کا سیاست میں کوئی گزر نہیں۔ سیاست میں مگرایسا نہیں ہوتا۔ اچھی ٹیم، جامع پلان اور عمدگی سے اس پر عملدرآمد سے ہی کامیابی ملتی ہے۔ اس کے بغیر وہی ہوتا ہے جو آج کل ہور ہا۔

خان صاحب کا خیال تھا کہ کسی دیانت دار ، شخصی کرشمہ رکھنے والے شخص کے ایوان اقتدار پہنچنے کی دیر ہے، اوورسیز پاکستانی اس پر ڈالروں کی بارش کر دیں گے۔ وہ شائد سوچتے تھے کہ ایک اپیل کرنے سے کروڑوں ، اربوں ڈالر جمع ہوجائیں گے اور یوں ملک بحران سے باہر آ جائے گا۔ ڈیم فنڈ کے لئے کی گئی وزیراعظم کی اپیل کے جواب میں چند لاکھ ڈالر بھی موصول نہیں ہوئے اور یوں یہ خوش فہمیاں بھی ہوا ہوئیں۔

وزیراعظم عمران خان اس پربھی سنجیدگی سے یقین رکھتے تھے کہ لوگ صر ف اس لئے ٹیکس نہیں دیتے کہ انہیں حکومت پر بھروسہ نہیں ، عوام شاکی ہیں کہ حکومتیں ان کے پیسے درست جگہ پر خرچ نہیں کرتے۔ اسی غلط فہمی کی وجہ سے اپنی ہر تقریر میں عمران خان عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کا پیسہ سو فی صد درست جگہ پر خرچ ہوگا ۔ مزید وزن پیدا کرنے کے لئے وہ یہ جملہ بھی لازمی دہراتے ہیں کہ میں خود اس کی نگرانی کروں گا۔

یہ سب تقریریں، اقوال زریں، دل خوش کن وعدے ٹیکس دینے والوں کے پتھر دلوں کو نرم نہیں کر پائے۔ ممکن ہے یہ بات اب خان صاحب کو سمجھ آ گئی ہو کہ ٹیکس کلچر یوں باتوں سے پیدا نہیں ہوتا اور اپنی آمدنی سے ٹیکس دینے کا کسی کا جی نہیں چاہتا۔اس کے لئے منظم ٹیکس نظام اور حقیقت پسندانہ اصلاحات کی ضرورت پڑتی ہے۔

عمران خان کا خیال تھا کہ جارحانہ انداز سیاست اپنا کر ، اپوزیشن پر تند وتیز حملے کر تے ہوئے وہ اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کر لیں گے۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھ پائے کہ پرسکون سیاسی ماحول کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ان کے ہمہ وقت پرجوش نعروں کی وجہ سے اپوزیشن معمولی سا تعاون کرنے کو بھی تیار نہیں۔ پارلیمنٹ عملاً مفلوج ہے، قانون سازی ممکن نہیں اور جنگ وجدل کی اس فضا میں سٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی نہ ہی سرمایہ کار انویسٹمنٹ کے لئے آمادہ ہورہے۔

عمران خان کے بیشتر بیانات اور دعوے بڑبولے پن کے سوا کچھ نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جیلوں سے اے سی اتروا دیں گے،اے کلاس نہیں ملے گی وغیرہ وغیرہ۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جیلیں صوبائی حکومت کے ماتحت آتی ہیں، وفاق کے زیرانتظام تو ایک جیل بھی نہیں۔پھر آپ کیسے یہ کریں گے ؟

عمران خان بار بار کہتے ہیں کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا۔چلیں مان لیا ، مگر کیسے ؟ کیا نیب وزیراعظم کے ماتحت ہے؟ کیا نیب خان صاحب کی مرضی سے کیس بناتی اور انہیں تکمیل تک پہنچاتی ہے؟ ظاہر ہے ایسا نہیں۔قانونی طور پر نیب ایک خودمختار ادارہ ہے،اس کے چیئرمین کو اسی لئے آئینی تحفظ حاصل ہے تاکہ حکومتیں اس پر اثرانداز نہ ہوسکیں۔

وزیراعظم اب تک چار پانچ سو مرتبہ اعلان کر چکے ہیں کہ میں این آر او نہیں دوں گا۔میرے جیسے ان کے مداح مان لیتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔سوال یہ ہے کہ کیسز تو عدالتوں میں ہیں، اپیلیں ہائی کورٹس، سپریم کورٹس نے طے کرنی ہیں۔ وزیراعظم اس میں کیا کر سکتا ہے ؟مثال کے طور پر اگر عدالتیں میاں نواز شریف یا آصف زرداری کو ضمانت پر رہا کردیں، انہیں علاج کے لئے ملک سے باہر جانے کی اجازت بھی دے دیں تو وزیراعظم اپنے تمام تر جاہ وجلال کے باوجود کیا کر سکتے ہیں؟ ان کے ہاتھ میں ہے کیا؟ ایسی صورت میںوزیراعظم کے بیانات بچکانہ تعلی کے سوا اور کیا ہیں؟

عمران خان کے بعض دیرینہ رفیق یہ کہتے تھے کہ خان صاحب مردم شناس نہیں ۔ایک سالہ دور حکومت میں سب سے زیادہ یہ بات سچی ثابت ہوئی۔ عمران خان بدترین مردم شناس ہیں۔ ان کے بارے میں یہی حسن ظن تھا کہ وہ خود ناتجربہ کار سہی ، مگر اہم عہدوں کے لئے بہترین لوگ منتخب کریں گے یوںان کی اصلاحات اور وعدے پورے ہونے ممکن ہوجائیں گے۔ انہوں نے اب تک بدترین پولیٹیکل سلیکشن دکھائی ہے۔

پنجاب اور کے پی کے لئے نہایت کمزور، نااہل اور سیاسی تدبر سے عاری وزراعلیٰ منتخب کئے۔ پنجاب کے لئے ہونے والی سلیکشن کی ابھی تک کوئی ایک قابل فہم دلیل سامنے نہیں آئی۔اوسط سے کم تر اہلیت والے شخص کو، جس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، پہلی بار جو ایم پی اے بنا، جسے تقریر کرنے، پبلک ڈیلنگ سے بھی آشنائی نہیں،….اسے آخر اتنی بڑی ذمہ داری کیوں دی جائے؟ کیا صرف اس لئے کہ نام ع سے شروع ہوتا ہے اور کسی خواب وغیرہ میں کوئی اشارہ ملا ؟

یہ بات ظاہر ہے بچکانہ ضعیف العتقادی لگتی ہے ، لیکن اگر یہ نہیں تو پھر ایک بھی توجیہہ موجود نہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ غلط فیصلے پر ایک سال بعد بھی ندامت نہیں۔ بدلنے کی کوئی نیت نہیں۔خان صاحب کے علاوہ پنجاب کے گیارہ کروڑ لوگوں میں شائد ایک بھی ایسا نہیں جو اس سلیکشن کی تائید یا دفاع کرے۔

کے پی والوں کا رونا پنجاب سے کم نہیں۔ وہ پریشان ہیں کہ کیسا وزیراعلیٰ ان پر مسلط کر دیا۔ کم وبیش یہی فیصلے وفاق میں اپنی پوری ٹیم کے لئے کئے گئے ۔ میڈیا ترجمانی کے لئے انتخاب مزید مایوس کن رہا۔ حیرت ہے کہ ایسی پارٹی جو تبدیلی کی ترجمان ہے، جس کے حامیوں، کارکنوں ، ووٹروں میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے ، پروفیشل لوگ شامل ہیں، اسے ترجمانی کے لئے ایک بھی شائستہ ، سافٹ شخص نہیں مل سکا؟

یہ دلخراش داستان طولانی ہے ، تفصیلی بھی، اس کے کئی پہلوﺅں پر ابھی بات نہیں ہوسکی۔ نشستوں کا سلسلہ ان شااللہ جاری رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں