آدمی، چھتری، خاندان، کار 209

فون کال جس نے میری زندگی اور کاروبار کوبدل ڈالا

عبیداعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے گزشتہ دنوں ایک مضمون پڑھا جو جیف گوئنزکا تھا۔ وہ بذات خود ایک ایسے مصنف ہیں جن کی کتابیں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں شامل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

“قریباً ایک برس پہلے کی بات ہے، میرے کاروباری ادارے میں پندرہ لوگ کام کررہے تھے لیکن ہرماہ میرا کاروبار تنزلی کا شکار ہورہا تھا۔ میں کس قدر پریشان تھا، آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ اگرچہ بہت سے لوگ مجھے ایک کامیاب کاروباری شخصیت سمجھتے تھے۔ کوئی مان ہی نہیں رہا تھا کہ میرا کاروبار مندی کا شکار ہوسکتاہے۔ تاہم ایسا ہورہاتھا یا پھر کم ازکم میں ایسا ہی سمجھ رہاتھا۔

بہرحال اس ساری صورت حال میں، میں نے ایک دانش مندانہ کام کیا کہ ایک بزنس کوچ کی خدمات حاصل کیں۔ میراخیال تھا کہ اب معاملات بہتر ہوجائیں گے تاہم مشکلات بڑھتی گئیں جوں جوں دوا کی۔ پھرمیں اپنے ایک دوست کے پاس گیا، اس سے پوچھا کہ ان حالات میں مجھے کیا کرناچاہئے؟ وہ کمپنیوں کو بحرانوں سے نکالنے اور انٹرپرینیورز کو کامیاب سی ای اوز بننے کے لئے رہنمائی فراہم کرتاتھا۔

میرے استفسار پر دوست نے مجھے کہا کہ آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ محنت اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو اگلے چوبیس ماہ تک ایک سی ای او کی طرح کام کرناچاہئے۔ یہ آسان نہیں ہوگا۔ ہوسکتاہے کہ آپ اپنے نئے کردار کو پسند نہ کریں لیکن اس کے نتیجے میں آپ کو وہ سب کچھ مل جائے گا جو آپ چاہتے ہیں۔

ہوسکتاہے کہ اگلے دو سال تک آپ کی زندگی بہت مشکل اور سخت اندازمیں گزرے لیکن اس کے بعد معاملات بہترہوجائیں گے۔ میں نے اس کی بات سنی اور کہا کہ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اگردو سال تک زیادہ محنت کرنے سے میرا کاروبار ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے تو یہ خسارے کا سودا نہیں ہے۔

اس کے بعد میں اور میرے دوست نے مل کر ایک منصوبہ عمل تیار کیا۔ اس منصوبے پر عمل شروع کرنے کے نتیجے میں مجھے ٹیم میں اضافہ کرنا پڑا۔ یوں تنخواہوں کی مد میں چھ لاکھ ڈالرز کا اضافہ ہوا۔ مزید کئی شعبوں میں اخراجات بڑھے۔ کام میں بھی اضافہ ہوا لیکن پریشانی میں بھی۔ چھ ماہ تک میں اس منصوبے کے مطابق عمل کرتارہا۔ ہرہفتے اپنے کوچ کو صورت حال سے آگاہ کرتا رہا۔تاہم ہرہفتے میری پریشانی میں اضافہ ہی ہوتارہا لیکن میرادوست مجھے ایک ہی بات کہتا کہ کام کرتے رہو۔

پھر ایک وقت ایسا آیا کہ جس جوش وخروش سے میں زیادہ کام کررہاتھا، وہ کم ہونے لگا۔ اب میری نیند میں کمی واقع ہوگئی، لوگوں کا کہناتھا کہ تم ہمارے ساتھ گپ شپ بھی کم ہی لگاتے ہو۔

میں نے اپنے دیگرکئی جاننے والوں کے ساتھ بھی اپنی مشکلات کا تذکرہ کیا۔ان میں سے ایک صاحب کئی کتابوں کے مصنف تھے اور ان کی کئی کتابیں خوب فروخت ہوتی تھیں۔ میں نے انھیں ای میل بھیجی، اگلے آدھ گھنٹے میں ان کی طرف سے مجھے جواب موصول ہوا کہ مجھے فون کال کرو، ساتھ ہی انھوں نے مجھے اپنا فون نمبر بھی بھیج دیاتھا۔

ان کے ساتھ بیس منٹ تک گفتگو ہوئی ، اس فون کال نے میرے دل ودماغ کی دنیا ہی بدل ڈالی۔انھوں نے پوچھا کہ آپ نے یہ کاروبار کیوں شروع کیاتھا؟ اس کا سٹرکچر کیسے بنایا؟ کیا اہداف طے کیے تھے؟

”میں اپنے آئیڈیاز کے ساتھ پورے کلچر کو تبدیل کرناچاہتاتھا“، میں نے انھیں جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو آپ کا مشن ہے، یہ آپ کی منزل تو نہیں ہے۔ مشن کے لئے کام کرو گے تو ضروری نہیں آپ کو اس کا صلہ بھی ملے۔

میں نے انھیں بتایا کہ ہم آن لائن کورسز فروخت کرتے ہیں، یہ جن لوگوں سے تیار کراتے ہیں، ہم انھیں معاوضہ دیتے ہیں اور پھر انھیں شائع کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہاں! یہ کاروبار ہے۔ اور پھر پوچھا کہ یہ کاروبار کیوں شروع کیاتھا؟ میں نے انھیں مختصرا ً اپنے مقاصد بتائے۔ پھر انھوں نے ایک ایسی بات کہی جسے میں کبھی بھلانہیں سکوں گا۔
”اپنے کاروبار کو مشن نہ بناؤ بلکہ کاروبار کو کاروبار سمجھ کر کرو“ انھوں نے کہا۔
تب انھوں نے مجھے دو راستے دکھائے کہ ان میں سے کوئی بھی اختیار کرلو۔

اول: اپنے کاروبار کا حساب کتاب لگاؤ،ایک کامیاب سی ای او بننے کے لئے کورسز میں داخلہ لو، کچھ امدادی کاروبار بھی شروع کرو جو آپ کے اصل کاروبار کی مضبوطی کا باعث بنیں، جب اس کا حجم لاکھوں یا کروڑوں ڈالرز کا ہوجائے تو اسے فروخت کردو۔

دوم: اپنے کاروبار کو موجودہ حجم ہی میں رکھو، کاروبار کو بڑھانے کے بجائے صرف منافع کمانے پر توجہ دو، ایک سال میں جتنا منافع بھی کماؤ، اس میں سے آدھا بچا لو۔ فارغ اوقات میں اپنی صلاحیت کو مہارت میں اور مہارت کو بہتر مہارت میں تبدیل کرنے توجہ دو۔

بعض اوقات آپ اس قدر کماسکو گے جتنے کے آپ اہل ہو لیکن بعض اوقات اس قدر نہیں کماسکوگے۔
میں نے پوچھا کہ جب میں اپنی محنت کا صلہ نہ پاسکوں تو پھر کیا کروں گا؟
کہنے لگے :”ایسے ہی وقت میں وہ رقم آپ کو حوصلہ دے گی جو آپ نے بچا کر بنک میں رکھی ہوگی”۔

اگلی صبح میں نے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کے ناشتہ کیا، پھر اپنے دن بھر کے شیڈول پر نظر ڈالی، اس وقت ساڑھے آٹھ بج رہے تھے، ساڑھے گیارہ بجے تک میری کوئی مصروفیت نہیں تھی۔ میں نے اپنے بچوں کو دیکھا، میری بیٹی چھ ماہ کی تھی اور بیٹا چار سال کا۔ ان کے چہرے دیکھتے ہوئے میں نے ایک فیصلہ کیا کہ میں اپنے موجودہ کاروبار کو محدود کروں گا، اسے زیادہ بڑے پیمانے پر لے جانے کی کوشش نہیں کروں گا، چھوٹے پیمانے پر کاروبار ہی بہتر ہے۔

میں نے جان لیا کہ اسی قدر کاروبار بہتر ہے، جتنا آپ سنبھال سکتے ہیں۔ ظاہر کہ اس فیصلے کے نتیجے میں مجھے اپنے بعض اہم ساتھیوں سے معذرت کرنا پڑی، کئی معاہدے منسوخ کرنا پڑے، غیرضروری اخراجات کم کرنا پڑے۔ اس کے بعد صرف اسی قدر کام پر توجہ مرکوز کرلی، جو میں آسانی سے کرسکتا تھا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس سب کچھ کے نتیجے میں مجھے کیا حاصل ہوا؟
جی ہاں! پہلے سے زیادہ خوشیوں بھری زندگی۔

میں اپنی بنیادی ذمہ داریاں زیادہ بہتر طریقے سے ادا کرنے لگا۔ زندگی میں زیادہ آزادی محسوس کرنے لگا۔ میں بحیثیت مجموعی ایک اچھا انسان بن گیا۔ اب میری ایک چھوٹی سی ٹیم تھی، تین ملازمین اور چوتھا میں خود تھا۔ ہم سب نے ایک ایک سیکشن سنبھال رکھا تھا، اگرچہ یہ آسان نہیں تھا لیکن چل رہا تھا۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں ہمارا منافع تین گنا بڑھ گیا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ میں اپنی اس کارکردگی پر مطمئن تھا۔ اب مجھے نقصان ہونے کا کوئی ڈر نہیں تھا۔

میں نے اس ساری صورت حال سے چند سبق سیکھے:
آپ وہ سب کچھ حاصل نہیں کرسکتے جو دوسروں کے پاس ہے الاّ یہ کہ آپ بھی اسی قدر کام کرو، جس قدر وہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس میری خواہش تھی کہ میں ان لوگوں جتنا کام نہ کروں، ان جیسی سرمایہ کاری کئے بغیر زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرلوں۔

بعض اوقات آپ کاروبار میں اس قدر بڑھوتری حاصل نہیں کرسکتے جس قدر آپ چاہتے ہیں۔ میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں اپنی دلچسپیوں میں مگن رہوں لیکن میری آمدن میں اضافہ ہوتا رہے۔

اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ ہار رہے ہیں تو پھر اپنے کھیل میں تبدیلی پیدا کرو۔

آج بہت سے لوگ اپنے اوپر دباؤ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنے کاروبار کو بہت بڑے پیمانے پر لے جائیں۔ تاہم انھیں اپنی خوشیاں اور سکون قربان کرکے ایسا نہیں کرنا چاہئیے۔ جیف گوئنزآج ایک خوشیوں بھری زندگی بسر کررہاہے لیکن کمائی بھی خوب کررہاہے۔ ذرا سوچیں! اگر وہ اس مصنف کے دیے ہوئے پہلے آپشن کو اختیار کرتا تو کیا آج اپنی زندگی کی بنیادی خوشیاں حاصل کرتا؟ وہ بیوی بچوں کے پاس کچھ وقت گزارتا لیکن اس وقت بھی وہ ان سے کہیں دور ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں