Lovebirds 67

قطرے

نصرت یوسف۔۔۔۔۔۔۔

جب وہ بارہ برس کی تھی تو شہر کا دسمبر یخ نہ تھا لیکن اسی دسمبر کی دھندلی سہ پہر جب اسے مایو ملی تو اس کا جسم سرد ، آنکھیں کھلیں اور گلے میں رنگ برنگی موتیوں کی مالا پھنسی ہوئی لگ رہی تھی.
اس نے بڑی دقت سے حلق سے ابھرنے والی چیخ دبائی ، کیونکہ وہ پڑوسیوں کے احاطے میں کھڑی تھی، مایو اس کی پالتو بلی ایک رات اور ڈیڑھ دن کی تلاش کے بعد مردہ حالت میں پڑوسیوں کے گھر کے پچھلے حصہ میں دریافت ہوئی،

نہ جانے مایو پر کب اور کیا بیتی لیکن فق چہرہ بیٹی کو اپنے سے لپٹاتے بابا نے اس کی پیشانی چومی تو دل جیسے ٹہر سا گیا.. کتنے دن تک اس نے مایو کی ایک ایک چیز سنبھال کر رکھی، برس گزر گۓ، تعلیم اور دوسری گھریلو سرگرمیوں سے مایو کی یاد دھندلی تو ہوئی لیکن مٹی نہیں… مایو جیسی ہر بلی پر وہ ٹھٹک جاتی، لیکن امی نے پھر کبھی اسے بلی پالنے کی اجازت نہیں دی.

مایو کی موت زندگی کی سکھائے اسباق میں سے پہلا سبق تھا جو تکلیف دہ تھا.
یہ محبت سے جدائی تھی. اور محبت سے جدائی دل پر ان مٹ نقش ڈال جاتی ہے.
بابا کے بوسے نے اس شام زخمی احساس کو ہمت سے برداشت کرنے کی پہلی ویکسینیشن دی تھی..
وہ بارہ سے پندرہ کی ہوگئی،

بابا نے لوو بڑدز پالے، یہ چھوٹے طوطے سریلی آواز اور دلکش رنگوں والے من کو بھاتے تھے، لیکن ایک عجیب عادت ان میں تھی، خوراک کم ہوتی یا کوئی اور وجہ، جوڑا اپنے بچے سے چاہتا تولا تعلق ہو جاتا.. پھر وہ مرے کھپے، طوطا طوطی بے نیاز ہوتے.

ان کے بڑے سے اونچے پنجرے کے سامنے اس نے بہت محبت سے دیوار پر رنگ برنگا تجریدی نمونہ پینٹ کیا.
وہ حساس تھی، رنگوں کا شغل اسے گھنٹوں مصروف رکھ لیتا..

بابا کی تین بیٹیاں اور تھیں، اور ہر ایک میں ان کا رنگ تھا. حریم میں نسبتاً زیادہ .
ڈاکٹر نے بابا کو بتایا کہ دادا پاپا کو ٹیومر ہے، سرجری ناگزیر ہے،
دادا پاپا جو بے حد ہنستے تھے، بجھتے جا رہے تھے، ان کو اس انکشاف کا نہیں پتہ تھا لیکن اس کا دل پھر سکڑ گیا. دادی امی کی آنکھیں بھی نم سی رہنے لگیں. لوگ کہتے تھے کہ وہ دادی امی جیسی ہے، نومبر کی بادلوں بھری صبح تھی، جب دادا پاپا کی سرجری شروع ہوئی، بابا آپریشن تھیٹر کی انتظار گاہ میں ہاتھ باندھے بیٹھے تھے… حریم کا دل چاہا وہ بھی بابا کے ماتھے پر بوسہ دے، جیسا انہوں نے اس وقت دیا تھا جب مایو کے دکھ سے وہ موت سے خوفزدہ تھی..

بے اختیار بابا نے آنکھیں بند کرلیں اور اس نے دیکھا بند آنکھوں تلے ایک آنسو ٹپکا.
بےقراری سے اس نے قدم بڑھائے اور باپ کا ماتھا چوم لیا.
او ٹی کے بند دروازوں کے پیچھے کیا تھا، وہ نہیں جانتی تھی لیکن باپ کو بند آنکھوں پیچھے کیا تصویر سہما رہی ہے، پندرہ برس جانتے تھے.

دادی امی نے نم آنکھیں یکدم پونچھ ڈالیں، حریم کا بازو تھاما اور ایک طرف چل پڑیں.. وہ ضد کر کے ان کے ساتھ آئی تھی، ان کو فکر تھی کہ پندرہ لمحوں میں پچیس میں نہ بدل جائیں.. ان کی پوتی پر شعور، وقت سے پہلے اپنا در نہ کھول دے. وہ اس کے ساتھ وہاں کھڑی ہوگئیں جہاں رنگ برنگی مچھلیاں تیر رہی تھیں، کچھ فاصلے پر درختوں کے ارد گرد گلہریا‍ں تھیں، یہ سب حریم کو پسند تھا لیکن وہ اس وقت افسردہ تھی…

“دادی امی مجھے اپنا بےبی برڈ یاد آرہا ہے”
“کیا میں گھر جاسکتی ہوں؟ “
دادی امی نے بنا کچھ کہے اثبات میں سر ہلادیا. اس نے جھک کر پانی میں تیرتی اس بڑی سرخ مچھلی کو دیکھا جس کی دم تیز ہل رہی تھی.

“یہ یہاں روحوں اور فرشتوں کو دیکھتی ہوگی نا دادی امی”
دادی کے مبہم سے لب پھیلے اور وہ پارکنگ کی جانب بڑھ گئیں.
دادا پاپا او ٹی سے جب تک واپس نہ آئے حریم گہرے سبز پروں والے چھوٹے سے پرندے کے ہی ساتھ مصروف رہی.. یہ وہ بچہ تھا جسے اس کے ماں باپ مسترد کر چکے تھے اور بابا اس سکڑے سہمے بچے کو پنجرے سے نکال لائے تھے، حریم نے اس انگلی برابر لجلجے سے وجود کو سرنج سے غذا دے کر ہاتھوں کی چھاؤں میں رکھا… جیسے ہی کچھ جان پکڑی تو پورے گھر میں بھاگتا دوڑتا، ڈر لگتا کسی کے پیر تلے کچل کر جان سے نہ گزر جائے.

دادا پاپا او ٹی سے واپس آگۓ تو حریم نے پرندے کے علاوہ ارد گرد دنیا کو دیکھا اور اسے احساس ہوا کہ محبتیں ہمیشہ مانو جیسی نہیں ہوتیں… وہ واقعی پچیس کی ہوگئی تھی.
دادا پاپا سے ملتے وہ اسے بہت کمزور لگے، ہاتھ لرز رہے تھے. مسکراہٹ میں رونق نہ تھی. بابا بھی چپ چپ تھے… اسے ہسپتال کی مچھلیوں، گلہریوں میں بھی غمگین کا احساس ہوا.
اور گھر آکر لپک کر اس نے بےبی برڈ کے لیے بنایا چھوٹے سے لکڑی کے گھر کا دروازہ کھولا، یہ گھر قاسم اس کے بھائی نے بنا کر دیا تھا. پرندہ اس میں بس رات کے اندھیرے میں ٹکتا تھا. سارا دن اچھل کر اس میں بنی روزن سے باہر آجاتا.

اب نومبر کی گدلی شام تھی، سورج ڈوب چکا تھا. پرندہ پنجرے میں نہیں تھا… حریم نے ادھر ادھر نظریں گھمائیں.. وہ کہیں نہ تھا اور نہ اس کی باریک سی چوں چوں.
اس نے آمنہ، زروہ کو پکار کر پوچھا
“بے بی کہاں ہے؟ “

کسی کو نہیں پتہ تھا، وہ پورے گھر میں اسے ڈھونڈتی پھری، کہیں بھی اس کی چوں چوں نہیں ابھری، کہیں بھی وہ پیچھے سے اس کی چونچ کی چبھن کو نہ پائی.
اچانک اس کا حلق سوکھنے لگا، جوتوں کے شیلف کے پاس بے بی موجود تھا، اس کی کھلی چونچ سے چاول کا دانہ باہر آرہا تھا اور وہ پیروں پر کھڑا ہونے کے بجائے لیٹا تھا، اس کے سبز پر جڑے تھے، حریم نے ایک سسکی لی. اور اسے ہتھیلی میں بھر لیا.

یقینی طور پر یہ کسی کے قدم تلے آچکا تھا…
وہ رونا چاہتی تھی اور بابا سے ہمت کی خوراک درکار تھی.
اس نے پلٹ کر دیکھا، امی کچن میں مصروف تھیں اس کی نوزائیدہ بہن کے رونے کی آواز ان کو مضطرب کیے تھی…. باقی بہن بھائی بھی ننھی بہن کو بہلانے کی کوشش میں تھے.

اس نے بابا کو کال ملائی لیکن رابطہ نہ ہوسکا.
امی نے مصروفیت سے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا، لیکن عیشال کے بلکنے سے وہ کچن سے نکل کر اسے سنبھالنے بڑھ گئیں..
بابا کی کال آرہی تھی… حریم نے بے قراری سے فون اٹھایا..
“بابا بے بی مر گیا!! “

بابا خاموش رہے.اسے لگا بابا کو آواز نہیں گئی
بابا!!
بابا نے کیمرہ آن کیا دادا پاپا سامنے تھے، زرد اور نحیف.
“دادا پاپا اور بے بی میں سے کون زیادہ ہماری محبت ہے ہانی؟”
حریم نے آنکھ میں آیا آنسو رگڑ ڈالا تو بابا دھیما سا مسکرا اٹھے.
ہتھیلی میں دھرے پرندے پر اس نے آخری نظر ڈالی اور باہر کیاری کی جانب بڑھ گئی.
ویکسینیشن کی دوسری خوراک مایو کے بعد بےبی برڈ کی جدائی سے مل گئی تھی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں