پاکستانی دلہن 97

محبت کے پامال مضامین میں ایک گھسی پٹی کہانی

جویریہ سعید۔۔۔۔۔
محبت کے پامال مضامین میں ایک بڑی گھسی ہوئی کہانی کچھ یوں بھی ہوتی ہے کہ ایک لڑکی کو کسی بندے سے “محبت” ہوجاتی ہے۔

یہاں یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ محبت ہرگز اندھی وندھی نہیں ہوتی۔ خوب چھان پھٹک کر سرخ و سفید، یا گندمی رنگت میں چاندنی گھلی ہوئی، شنگرفی لب اور غزالی آنکھوں والی ایسی لڑکی کا انتخاب کرتی ہے جس کے حسن و ادا پر ویسے بھی ہر کوئی دل و جان لٹانے کو تیار بیٹھا ہوتا ہے۔

یہ اور بات کہ کہانی کہنے والے مبینہ مقاصد کے تحت ان سب امیدواروں میں سے کسی ایک کو “جائز” عاشق، کسی دوسرے کو “ہوس پرست ولن” اور تیسرے بے چارے کو ایک شریف اور مسکین کردار بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ تیسرا والا اوپر سے بھائی نما کزن اور اندر سے سلگتا ہوا عشق چھپائے بے قرار عاشق ہوتا ہے۔

اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اسے بالآخر تو اپنے چھپائے ہوئے کینسر کے ساتھ مرنا ہوتا ہے لیکن بوقت ضرورت وہ اپنی کزن جیسی بہن یعنی کنفیوزڈ محبوبہ کو کسی مشکل سے بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار رکھا جاتا ہے۔

مرد بھی کوئی میاں شریف الدین بھائی جان کی قسم کا ایسا کلرک ہرگز نہیں ہوسکتا جو اپنی مسکین صورت کے ساتھ سفاری سوٹ پہنے تھیلی میں دہی اور ہرا دھنیا ہری مرچ سنبھالے امی اور بھابیوں کی ڈانٹیں سنتا پھرتا ہو۔

وہ تو مرادنہ وجاہت کا شاہکار، لمبا چوڑا، خوش رو، بھاری آواز اور گھمبیر لہجے والا ایسا ارتغل قسم کا بندہ ہوگا جو یا تو مزاجاً شوخ ہوگا یا سخت مزاجی کے لبادے میں محبت بھرا انسانیت پسند دل چھپائے پھرتا ہے۔

وقتاً فوقتاً ایسی خوبصورت گفتگو کرے گا کہ آس پاس موجود سب ہی لڑکیاں دل اور آنچل سنبھالنے لگیں گی البتہ اپنی کنوینینس کے اعتبار سے یہاں بھی کوئی تو چھوٹی بہن، کوئی “جسٹ فرینڈ” کوئی “چپکو اور چیپ امیر یا غریب کزن” کوئی “پروفیشنل کولیگ” اور کوئی ایک ،صرف ایک یا پھر زمانہ جدید میں اور زیادہ conflict کا ماحول تخلیق کرنے کو دو عدد سچی محبوبائیں بنا دی جائیں گی۔

موقع میسر آنے پر یہ مرد جری ،اللہ معاف کرے، ایسی والہانہ نظروں سے لڑکی کو دیکھے گا کہ اسے دیکھتا دیکھ کر ہر ناظر کے جسم میں جھرجھری سی دوڑ جائے۔ پہلا ردعمل تو “استغفر اللہ!” کی صورت میں ظاہر ہو اور وہ فیز گزر جانے کے بعد حسرت و رشک کی ایسی ملی جلی کیفیت سارے وجود پر طاری ہوجائے کہ پرستار خواتین اس روز مارے بدمزاجی کے روٹی سالن شوہر نامدار کے سامنے پٹخ پٹخ کر اور “خیر تو ہے؟ کسی نے کچھ کہہ دیا؟” کے جواب میں تڑخ تڑخ جواب دیتی اپنی اس حسرت و یاس کا مظاہرہ کرتی پائی جاتی ہیں۔

بہر حال، ہوتا یوں ہے کہ فریقین اور ناظرین کو کچھ عرصے تک سورج زیادہ روشن، چاند زیادہ رومانٹک، پھول زیادہ خوش رنگ اور دنیا زیادہ حسین نظر آتی ہے۔
یہ وہ دورانیہ ہوتا ہے جب فریقین کو “ظالم سماج” کے ہونے کے باوجود باہم پیار کی پینگیں بڑھانے کے کم از کم اتنے ٹھیک ٹھاک مواقع میسر آجاتے ہیں کہ پسندیدگی کا گمان۔۔۔۔ نہ مل سکنے کی صورت میں جان سے جانے کے یقین محکم میں بدل چکا ہوتا ہے۔

اچھا دلچسپ بات یہ کہ ظالم سماج گزشتہ پندرہ بیس اقساط تک شیعہ سنی، جاگیردار اور مزارعے ،شہری دیہاتی، گورے کالے غرضیکہ ہر قسم کے تعصبات کے باجود فریقین کو “کھل کھیلنے” کے پورے پورے مواقع فراہم کرتا رہتا ہے۔

کہانی نویس اور خود فریقین کے نظریات اور تشنہ کام آرزوؤں کے لحاظ سے اور ان کے نظریات کے معیار کے مطابق لبرلزم اور اسلامی محبت کی جائز حدود کے تعین کے لحاظ سے جب باہم اختلاط کے تمام ممکنہ اقدامات اسی ظالم سماج کی عین ناک کے نیچے اٹھا لیے جاتے ہیں تو المیہ انجام کی طرف لے جانے والا ایک عجیب موڑ یا کلائمکس آجاتا ہے۔

اور وہ یہ کہ لڑکی کو زیادہ امیر کزن ، یا ابو کے بچھڑے ہوئے دوست کا کروڑپتی بیٹا مل جاتا ہے۔

اب کہانی کشمکش کے نئے دور میں داخل ہوتی ہے اور انجام اس پر ہوتا ہے کہ لڑکی تڑپ تڑپ کر روتے رہنے کے بعد بڑی سی بی ایم ڈبلیو میں کروڑ پتی کے ساتھ بیاہ کر چلی جاتی ہے۔ امریکہ یا سوئٹزرلینڈ یا یو کے زیادہ ان ہے۔ کینیڈا کو اپنی دگرگوں معاشی صورتحال اور آسانی سے مل جانے والے امیگریشن کی وجہ سے زیادہ لفٹ نہیں کروائی جاتی۔

کچھ عرصے میں ہی نئی دنیا کی چکا چوند اور گول مٹول پیارے پیارے بچوں کے ساتھ پیرس اور ڈزنی کی سیریں کرتی ہیروئن شکر کرتی ہے کہ اس غریب سے اس کی شادی نہ ہوئی۔ میڈیا انڈسٹری میں ڈیڑھ لاکھ تک ہی تو کماتا ہے۔ اور سیریں کرانے کو کبھی کبھی مری یا اب حالات سازگار ہونے کی بنا پر شوگراں اور کاغان تک ہی لے جاسکتا ہے۔ البتہ جب بال چاک سے ہی سہی، سفید ہونے لگتے ہیں تو ماضی کی ہر شے کی طرح بھولی بسری “محبت” بھی یاد آتی ہے۔ اس موقع کے اپنے سینز اور اپنے اشعار اور گانے تیار کیے جاتے ہیں۔

بلکہ ان تمام مواقع کے لیے بے شمار شاعروں نے غزلیں اور گیت کہہ رکھے ہیں۔ گلوکاروں، موسیقاروں ، فلم سازوں کا دھندہ بلکہ روزی روٹی ایسی ہی کہانیوں سے وابستہ ہے۔

مگر حسب معمول ایک بے رحم اور بدذوق بزرگ روح جس کی بزرگی اس کی سیاہ برقعے میں جھریوں بھرے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ والی ڈی پی سے عیاں ہے ، رنگ میں بھنگ ڈالنے کو منہ ٹیڑھا کر اور ابرو تان ایک ہی سوال کرتی ہے۔
” یار اتنے کروڑ پتی ہوتے کہاں ہیں جو ہر “افئیر” چلانے والی لڑکی کو مل جاتے ہیں اور اس کا وصل اس بندے سے نہیں ہونے دیتے جس سے اس کا افئیر چل رہا ہوتا ہے؟

اور وہ بے چاری سادہ اور شریف لڑکیاں کیا کریں جو محبت کے نام پر ایسے افئیر نہیں چلاتیں؟ ان کے لیے کروڑ پتی بھی نہیں کیونکہ وہ تو اس بندی کو ملے گا جو پہلے سے ایک عدد افئیر چلارہی ہے ۔ تو جیسا کہ پروفیشنل دنیا کا اصول ہے کہ نئی جاب آفرز بھی انھی کو آتی ہیں جو پہلے سے اچھی پوزیشن پر ہوں۔ بے کاروں کو کوئی نہیں پوچھتا۔
اب ان بے چاریوں کے ساتھ کیا ہو؟

اگر یہ اس قسم کی کہانیوں میں پائی جائیں تو وہاں ان استعمال شدہ مردانہ وجاہت aka ہیروز سے ان کی شادی ہوجاتی ہے۔ پھر کہانی میں ان کا کردار اس بوجھ کا سا ہوتا ہے جسے ان ہیرو نما استعمال شدہ مردوں نے سچے وفادار کے روپ میں ایک بوجھ، ایک مصلحت، ایک سمجھوتے کے طور پر سفید ہوتے بالوں تک برداشت کرنا ہوتا ہے اور سردیوں کی راتوں میں ان کے ہاتھ کا گرما گرم ساگ آلو، پھلکے اور گاجر کا حلوہ ڈکار کر کاندھے پر بھاری چادر لیے باہر اس “کامیاب ” عورت کے غم میں شاعری کہنے کو سڑکوں پر نکل جانا ہوتا ہے۔

آپ کہہ دیجیے کہ اماں جی جل گئی ہیں۔
ہاں جی!
اماں جی کو اس پر حسرت نہیں ہے کہ کوئی ان پر عاشق کیوں نہ ہوا، مگر یہ الجھن ضرور ہے کہ کچھ بنیادی لوازمات میسر ہونے کے باجود یہ افئیر والا کام کرنا کیوں نہ آیا جسے سیریس فینز قسم کے لوگ محبت کہا کرتے ہیں۔
اس لیے ان سادہ دل بندوں کی حسرت سمجھ سکتے ہیں کہ جن کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں