کورونا وائرس 351

کورونا: مہلت عمل یا آخری وارننگ؟

قانتہ رابعہ:
لوگ تو کئی طرح کے ہوتے ہیں لیکن صرف ان کی بات کریں گے جو زندگی میں اپنی اور گھر والوں کی زندگی کے اسباب پیدا کرتے ہیں، زندگی کے لئے جیتے ہیں، اسی کی خاطر دن رات کی مشقت بھی کرتے ہیں، مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، اسی کی خاطر ہرطرح کی راحت کے حصول میں مصروف رہتے ہیں۔

ان کے اہداف بھی اسی زندگی کے لئے اور تعلقات بھی۔ وہ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کی تفریحات بھی اسی زندگی کے لئے۔ وہ اس کے لئے بہت نام کمانا چاہتےہیں اور بے شک کمالیتے ہیں۔ وہ جو ڈگریاں، عہدے حاصل کرنا چاہتے ہیں حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کی یہ سعی اس لئے بے کار ٹھہرے گی کہ انہیں اگلی زندگی کے بارے میں علم ہی نہ تھا اور اگر علم بھی تھا تو دنیا نے ان کو اپنے مقصد زندگی تک پہنچنے نہیں دیا،

ایسے لوگ بہت زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں جب یہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو کچھ عرصہ ان کی یاد میں پروگرام ہوتے ہیں، تعزیتی ریفرنسز ہوتے ہیں بالآخر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ارد گرد کے لوگوں کو ان کا نام تک بھول جاتا ہے

جبکہ دوسری قسم کے لوگ انہی گلیوں محلوں میں رہنے والے ہوتے ہیں، انہی کے سماج سے تعلق رکھتے ہیں لیکن یہ وہ منتخب لوگ ہوتے ہیں جو بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت سے مالا مال ہوتے ہیں، ان کی سرگرمیاں مصروفیات وہی ہوتی ہیں جو پہلی قسم کے لوگوں کی مگر ان کی نیت اور ترجیحات میں فرق ہوتا ہے۔

یہ زمین پر اللہ کے نائب بن کے زندہ رہتے ہیں، یہ بولتے ہیں تو آخرت میں لفط گنے جانے کا سوچ کے یہ خدا اور اس کی مخلوق دونوں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ مخلوق کی بھلائی کے لیے الہامی کتاب سے ان کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ یہ رب کی رضا کے لئے وہ کام بھی کر گزرتے ہیں جو عام حالات میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔

ہلکی سی آزمائش یا تکلیف پر ان کا رویہ پہلی قسم کے لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔ پہلی قسم کے لوگ اس مصیبت یا تکلیف پر ’فلاں کے ساتھ بھی ایسے ہوا تھا‘ اور دوسری قسم کے لوگ رب کی طرف سے تنبیہہ سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید میں ان کی صفت ’چوکنا ہونا‘ بتائی گئی ہے۔ وہ دلِ غافل نہیں رکھتے، وہ سمجھتے ہیں اگر اللہ کی نافرمانی کی تو وہ ناراض ہو جائے گا اور اگر کسی پر بھی کوئی تکلیف آئے تو سنبھل جاتے ہیں۔

انہیں خوف لاحق ہوتا ہے کہیں وہ بھی اس میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ وہ حالات حاضرہ کو اخبارات یا سوشل میڈیا کی نظر سے نہیں بلکہ قرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ سورہ فرقان کے آخری رکوع میں ان کی دعائوں میں ایک دعا نار جہنم سے بچنا بھی ہے۔ دنیا میں بھی ان کو ہر چھوٹی بڑی مصیبت میں نار جہنم نظر آتی ہے اس لئے وہ رب سے مزید جڑ جاتے ہیں۔

اللہ کی طرف سے زلزلہ سیلاب یا کوئی بھی آفت خواہ وہ دنیا کے کسی خطے پر نازل ہوئی ہو انہیں ہلا کے رکھ دیتی ہے، وہ اپنا جائزہ لیتے ہیں، محاسبہ کرتے ہیں جیسے آج کل کرونا کا وائرس انہیں سورہ توبہ کے اس مقام پر لے گیا ہے، جب ان صحابہ کرام کی معمولی سی کوتاہی اور سستی نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مجرم بنا دیا تھا ۔ سوئی کی نوک جتنی غلطی پر اللہ نے ان کی پکڑ کی۔

ان کا پوری مسلم کمیونٹی کی جانب سے سوشل بائیکاٹ ہوا، ان کے ساتھ سلام دعا، کلام طعام کا تعلق بھی خدا کے حکم پر ختم کر دیا گیا۔ وہ کیفیت جب بیوی بچے جدا کردئیے جائیں، لوگ شکل دیکھ کے منہ موڑ لیتے، ان سے بول چال بند کردی گئی۔

شعب ابی طالب والے بائیکاٹ میں ان محصورین کو یہ علم تھا وہ حق پر ہیں، ان کو علم تھا، خدا ان کے ساتھ ہے، ان کو علم تھا انہیں قید کرنے والے رب کی نظر میں بدترین مجرم ہیں۔ ان کو یقین کامل تھا کہ حق ایک نہ ایک دن غالب آکے رہے گا، انہیں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بھوک پیاس برداشت کرتے ہوئے یہ روحانی طاقت میسر تھی کہ ان کا رب انہیں صرف دیکھ ہی نہیں رہا بلکہ ان سے سراپا راضی ہے۔

سورہ توبہ کے تینوں یہ مرکزی کردار اپنے سے سوشل بائیکاٹ میں اس یقین سے محروم تھے، انہیں یہ علم تھا کہ ان کا پیدا کرنے والا رب ان سے ناراض ہوگیا ہے، وہ راضی ہوگا بھی یا نہیں انہیں قطعی طور پر اس کا علم نہیں تھا۔ پچاس دن ان کا محبوب خدا اور صحابہ کرام نے بائیکاٹ کیا۔

یہ گنتی کے پچاس دن نہیں تھے، پچاس سال تھے، پچاس صدیاں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم روٹی کا لقمہ منہ میں ڈالتے تھے تو حلق میں پھنس جاتا تھآ۔ ہم گھر سے باہر نکلتے تھے تو زمین ہم پر تنگ ہو جاتی تھی، ہمیں کائنات کی ہر جاندار اور بے جان چیز خفا نظر آتی۔ محبوب رب روٹھ جائے تو کھانا پینا کیسے اچھا لگے۔

فانی نے جو محبوب کے ناراض ہونے پر شعر کہاتھا:
ہم نے فانی ڈوبتے دیکھی ہے نبض کائنات
جب مزاج یار برہم نظر آیا مجھے

پھر ان کا محبوب مان گیا، بے شک وہ بندے کا امتحان لیتا ہے، وہ تینوں صحابہ کرام کامیاب ہوئے، ان کو معافی مل گئی۔ اہل مدینہ کے لئے بلا شبہ یہ عید کا دن تھا
مگر ٹھہریے
ہم سب پر جس ’کرونا‘ نے رب کی ناراضی کا اعلان کیا ہے، ابھی بھی پہلی قسم کے لوگ اسے وائرس کہہ رہے ہیں، آئسولیشن کی پناہ گاہ ان کی محافط ہے، ویکسی نیشن ان کا یقین ہے، زلزلہ آجائے تو وہ قہر خداوندی سمجھننے کی بجائے ریکٹر سکیل پر شدت ناپتے ہیں، زلزلے کے بعد کے جھٹکوں کو آفٹر شاکس کی خوبصورت سائنسی اصطلاح سے مطمئن کر لیتے ہیں۔

دوسری قسم کے لوگ کلام الہی میں
’پس جب انہوں نے نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالی کے دروازے ان پر کھول دئیے۔ یہاں تک کہ جب وہ ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں، خوب مگن ہوگئے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیااور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے‘
توبہ پر مجبور کرتی ہے

یہ لاک ڈائون نہیں، یہ کرونا وائرس نہیں، یہ اللہ کی طرف سے اظہار ناراضی ہے۔ پس! جو پہلی قسم کے لوگ ہیں ان کے لئے وجہ اطمینان جدید مشینری، ویکسین ہو سکتی ہے مگر دوسری قسم کے لوگوں کو اب یہ ربی وارننگ محسوس ہوتی ہے
اب تم حالت ناراضگی میں ہو، تمہارے لقمے جب تک حلق میں نہیں اٹکیں گے، زمین تم پر تنگ نہیں ہوگی، تم اپنی اصلاح کے ساتھ خیر امت نہیں بنو گے، رب کیسے راضی ہو سکتا ہے!

اس نے عرشوں پر توبہ کا دروازہ ضرور کھلا رکھا ہے لیکن روئے زمین پر اپنے اور اپنے محبوب کے در بند کردئیے ہیں۔
یہ آپ کی چوائس ہے لوگوں کی کس قسم میں شامل ہونا ہے۔ بس! یہ یاد رکھیے پہلی قسم زمین کا بوجھ اور دوسری قسم کے لوگ زمیں کا خزانہ ہیں۔
وما توفیقی الا باللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں