محمد اصغر، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان 228

کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟

محمد اصغر:
پہلی جنگ عظیم سے پہلے 1918ءمیں امریکی ریاست کنساس میں ہسپانوی فلو (Spanish Flu) کی وبا پھوٹی جو کم ازکم دوسال بعد ختم ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں اس وبا سے 500ملین انسان متاثر ہوئے یعنی اس وقت کی عالمی آبادی کاایک تہائی حصہ۔

کہاجاتا ہے کہ اس وبا سے 5ملین نفوس لقمہ اجل بنے۔ ہسپانوی فلو کے نتیجے میں سب سے زیادہ تباہی غیر منقسم ہندوستان میں آئی جس میں ایک کروڑ 80لاکھ نفوس اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ یہ کسی بھی ملک میں ہلاک ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔ اس بیماری میں گاندھی اور ان کے رفقاءبھی مبتلا ہوئے۔ اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ برطانوی سامراج کے زیر اثر آبادی کس طرح عدم توجہی اور عدم مساوات کاشکار ہوئی۔

برطانوی سامراج نے ڈیڑھ صدی ہندوستان میں حکومت کی مگر برطانوی نیشنل ہیلتھ سروسز(NHS)کی طرز پر صحت عامہ کاکوئی ایسا نظام نہ بنایا جو حقیقی معنوں میں لاکھوں کی تعداد میں ہسپانوی فلو سے متاثرہ عام انسانوں کا علاج کرسکتا۔ چنانچہ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ ہلاکت خیز فلو سے لاکھو ں انسانوں کو متاثر ہونے سے کیوں نہ بچایاجاسکا۔

مرنے والوں میں نوجوان لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ ہسپانوی فلو انسانوں کے نظام تنفس کو فیل کرتااور پھر ہلاک کردیتا۔ برٹش انڈیا میں اس وسیع پیمانے پر ہلاکتوں سے برطانوی سامراج کا چہرہ پوری دنیا میں نفرت کااستعارہ بنا جو بالآخر 30سال بعد برطانوی تسلط کے خاتمہ اورتقسیم ہند پر منتج ہوا۔

اکیسویں صدی انسانوں کی تباہی وبربادی لے کر آئی۔2001ءمیں 9/11 کا واقعہ ہوا ۔ پھر سقوط کابل ہوا۔ امریکی اور نیٹوفوج کے ہاتھوں لاکھوں افغان اور عرب لوگ لقمہ اجمل بنے۔ مقبوضہ کشمیرجب آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا تو ہندو استعمار نے مقبوضہ کشمیر کا بڑے پیمانے پر لاک ڈائون کرکے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کردیا۔ اس غیر انسانی سلوک پر دنیا ٹس سے مس نہ ہوئی چنانچہ قدرت کو دنیاکی یہ بے حسی پسند نہ آئی ۔اُس نے دنیا بھر کی سرکش قوتوں کو اپنی بالادست قوت سے کورونا وائرس کے ذریعے زیر کردیا۔

کوروناوائرس (کو وِڈ۔ 19)بھی اُسی طرح کی خطرناک وباہے جس طرح ہسپانوی فلو تھا۔ اس میں بھی نظام تنفس شدید متاثر ہوتاہے۔ وینٹی لیٹر پر کئی ہفتے رہنے کے بعد بھی مریض کے بارے میں قطعی طور پر کچھ نہیں کہاجاسکتا کہ وہ زندہ رہے گا یا نہیں۔ اگر وہ صحت یاب ہوبھی جائے تو معلوم نہیں کہ اُس سے جس کو وائرس منتقل ہوگا وہ بھی بچے گا یا نہیں۔

کورونا وائرس کے دنیابھر میں پھیلاﺅ نے صحت عامہ کے دفاعی نظام پر کئی سوال اُٹھا دیئے ہیں تاہم ایک ہی صورت بچی ہے کہ احتیاطی تدابیر اور بڑے پیمانے پر انسان سے انسان کی جدائی اور تنہائی (Isolation) سے انسانی آبادی میں وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔

ہسپانوی فلو کے بعد دنیا بھر میں انسانوں کا انسانوں پر اعتماد ختم ہوگیا۔ اس کے یکے بعد دیگرے جنگ عظیم اول اور دوم برپا ہوئی اورانسانوں کے ہاتھوں انسانوں کے خون کی ندیاں بہیں جس کے بعد پوری دنیا کے اندر بڑے پیمانے پرجغرافیائی ،سماجی ،معاشی اور سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

پہلے سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظاموں کا ایک دوسرے سے مقابلہ ہوا۔ پھر حریت پسندافغانیوں کے ہاتھوں سوویت یونین کوافغانستان میں شکست فاش ہوئی لیکن اس کے بعد چالاک امریکی سامراج اور سرمایہ دارانہ نظام نے مل کر تہذیبی جنگ مسلط کی۔ پھر مسلمان حکمرانوں کے ذریعے مسلمانوں کو آپس میں لڑایا، کئی مسلمان مملکتوں کے اندر عیسائی ریاستیں بناڈالیں۔ بالآخر مسلمانوں کے وسائل اور حکومتوں پر دسترس بھی حاصل کرلی۔

اب کورونا وائرس کی وبا کے پھوٹ پڑنے، پھیلاﺅ اور ہلاکتوں کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر دنیا کاپورا معاشی اور انتظامی نظام تلپٹ ہوگیاہے۔ ہوائی جہازوں ، ریلوں اور گاڑیوں کے پہیے رک گئے ہیں۔ صنعتی کارخانے اورادارے کام بند کرنے پر مجبور ہیں ۔ حکومتیں شہروں اور ملکوں کا لاک ڈائون کررہی ہیں۔ آمد ورفت کم تر سطح پر چلی گئی ہے۔

حد یہ ہے کہ آج انسان ،انسان سے خوف کھا رہاہے۔ پورا سرمایہ دارانہ معاشی نظام جام ہو رہاہے ۔ایک دوسرے پر مذہبی ، لسانی ، علاقائی ، جغرافیائی اور نظریاتی بالادستی ڈھیلی پڑ رہی ہے۔ بہت جلد یہ سرمایہ دارانہ نظام منہدم ہوجائے گا اور اندازہ ہے کہ اس کے اثرات عشروں اور صدیوں تک چیلنج نہیں ہوسکیں گے۔

کئی حکومتیں اور عالمی رہنما گرسکتے ہیں۔ ایک نیا ورلڈآرڈر اور ایک نیا عالمی منظر نامہ اور معاشی نظام تشکیل پانے جارہاہے۔ تاریخی طور پر غیر یقینی اور ہلاکت خیز صورت حال ہے جو انسانوں کی یکجہتی کو توڑرہی ہے۔ اگر انسان خاص طو رپر نوجوان اور صحت مند لوگ اپنا رویہ تبدیل کردیں تو وہ بھی بچ جائیں اوراُن کے بزرگوں ، بوڑھوں اور کمزوروں کے بچنے کابھی امکان ہوگا۔اس لیے یہ وقت سنجیدہ طرز عمل اختیارکرنے کا ہے۔

پاکستان میں تمام حکومتوں نے اللہ کی نا فرمانی کرکے لا تعداد اقدامات کیے۔ یہاں تک کہ اپنا جسم اپنی مرضی کے نعرے لگانے والوں کو ریاست نے لگام نہیں دی۔ حکمرانوں نے عالمی قوتوں کی کاسہ لیسی میں نظریاتی اساس کو کمزور کیا اور اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کو اولیت دی۔ ریاست کے نصب العین اور مقاصد سے روگردانی کی ۔ کرپشن اور نا اہلی ہر حکومت کی پہچان بن گئی ۔ صحت اور تعلیمی نظام میں ناروا غفلت برتی گئی۔آج حد یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان بے بسی سے دنیا کو کہہ رہے ہیں کہ ہم وبا کو کنٹرول کرنے کے قابلیت نہیں رکھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ وباکو کنٹرول کرنے کے لیے لاک ڈاﺅن کیا تو ملک پر بھوک مسلط ہوجائے گی۔

ایسے میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اُمت مسلمہ کی امانت اور اُس کے عوام اُمت کااثاثہ ہیں ۔اس کی حفاظت ضروری ہے۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس وبا کے خاتمے کے بعد دنیا اور اس کاچلن تبدیل ہوجائے گا۔ تابناک مستقبل کے لیے نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام زندگی کی جدوجہد کی نشاة الثانی کی ضرورت ہے۔

ایک عرصہ سے حکومت اور عوام کے درمیان ابلاغی بُعد (Communication Gap)ہے جس کو پُر کرنا ہوگا۔ عوام کادیانتداری اور صلاحیت کے باوجوداپنی امامت کے لیے صادق اور امین قیادت کو منتخب نہ کرناالمیہ ہے جو پاکستانیوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اب اُن کو طرزفکر اور طرز عمل کو نئے طریقوں سے تبدیل کرناہوگا

کورونا وائرس کے خاتمے کے بعد دُنیا اور دُنیاکے لوگوں کی سوچ اور فکرو عمل میں تبدیلی آئے گی جو کسی حد تک نیوٹرل ہوگی۔اس سے فائدہ اٹھاناحکمرانوں اورعوام کے لیے قدرت کی جانب سے ایک انمول تحفہ اور موقع ہوگا۔
(مضمون نگار جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں