ڈاکٹر امتیاز عبدالقادر ، سکالر ، ریاست جموں و کشمیر

نوشتہ دیوار

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ڈاکٹر امتیاز عبدالقادر ، بارہمولہ

ہم سیل ِ زماں میں ایک لمحہ حاضر کی حیثیت رکھتے ہیں۔’کل‘ کبھی آتاہی نہیں۔انگریزی کا ایک مقولہ بڑا مشہور ہے کہ’Tomorrow never comes‘کیونکہ جب’کل‘ آئے گا وہ’آج‘ ہو چکا ہوگا ، اس لیے ہمارے ہاتھ میں ’کل‘ کبھی نہیں آتا ۔ منٹوؔ نے بھی کہا ہے”مجھے ہمیشہ آج سے غرض رہی ہے ۔ گزرے ہوئے کل یا آنے والے کل کے متعلق میں نے کبھی نہیں سوچا ۔ جو ہونا تھا ہو گیا ، جو ہونے والا ہے ہو جائے گا۔“

زندگی دریا کی مانند ہے جو رواں دواں ہے ، پتھروں ، چٹانوں ، کہساروں سے الجھتا ہوا آگے بڑھتا رہتا ہے ۔ جو اپنا سمتِ سفر نہیں بھولتا ، رفتار نہیں کھوتا ۔ ہر کولس ؔکہتا ہے کہ ایک بہتے ہوئے دریا میں آپ دوسری بار پیر نہیں ڈال سکتے کیونکہ جس دریا میں آپ نے پیر ڈالا وہ تو جاچکا ۔ اسی طرح زندگی بھی ایک بار عطا کی گئی ہے کچھ کر گزرنے کے لئے ۔

با مقصد زندگی ہو تو کل ماضی کا غم ہوگا اور نہ ہی مستقبل کا اندیشہ۔تمام ماہرین عمرانیات اس پر متفق ہیں کہ ایک فرد ہی کسی قوم کی بنیادی اکائی ہوتا ہے ۔ اس لئے فرد کی کامیابی اور ناکامی پر جو اصول منطبق ہوتے ہیں ، وہی اصول قوموں کے عروج اور تباہی پر بھی لاگو ہوتے ہیں ۔

فرد کی فتح یابی کے لئے جس شعلہ سوزاں کی ضرورت ہے ، قوموں کو عظمت بخشنے کے لئے بھی اس کی ضرورت پڑتی ہے ۔ کچھ کر گزرنے کا عزم ، کچھ کر دکھانے اور خود کو منوانے کا جنون ۔۔۔۔ اس کے بغیر فرد ہو یا قوم ، وہ مٹی کے ڈھیر کی مانند ہے ، ایسا حقیر ڈھیر جو بچوں کی دل بستگی کا باعث تو بن جائے گا ، لیکن اقوام عالم میں عزت و سر بلندی نہیں دے سکتا۔

فرد اگر تربیت یافتہ ہو ، اپنے سماج ، قوم و ملک کے لیے مفید ہو تو پوری دنیا اس کی عظمت کی قائل ہوتی ہے ۔ برطانیہ عظمیٰ کے دور عروج میں ، جبکہ کہیں بھی اُن کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا ، کسی صاحبِ خِرد نے اُن سے پوچھا کہ ایک طرف یہ پوری سلطنت جو کہ مشرق و مغرب ، جنوب و شمال تک پھیلی ہوئی ہے اور دوسری طرف شیکسپیرؔ۔۔۔۔کس کا انتخاب کرو گے؟

سفید و سیاہ کے آقاؤں نے جواب میں کہا کہ ’یہ ساری سلطنت ، شیکسپیرؔ پر قربان ۔‘ قدرت ایسے ہی اقوام کو عروج عطا کرتی ہے ، جو افراد پیدا کرتے ہیں جو قوموں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں ۔ جو صرف لینے والے نہ ہوں بلکہ قوم کو کچھ دینے والے بھی ہوں۔ایام اپنی گردش میں ہیں ۔ کبھی عالم اسلام کی زندگی میں تحرک تھا ، تبدل تھا ، افادی اذہان تھے ، آج ان کی جگہ یورپ نے لے لی اور عالم اسلام مصلحت کی چادر تانے صدیوں سے غفلت کی نیند میں پڑے ہیں ۔ بیسویں صدی کے ایک بڑے مورخ ٹائن بی (Toynbee) نے اپنی زندگی بھر کی تحقیق کا نچوڑ ایک فقرے میں بیان کیا تھا ، وہ یہ کہ ” تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا “۔

یہ ڈھائی ہزار سال پہلے کی بات ہے ، بابل کا آخری بادشاہ بیلشفرؔ اپنے درباریوں کے ساتھ محفلِ نشاط سجائے بیٹھا تھا ۔ یروشلم کے معبد سے لوٹے ہوئے مقدس طلائی برتنوں میں شراب پی جارہی تھی ۔ اچانک غیب سے ایک ہاتھ نمودار ہوا اور اس نے دیوار پر چند لفظ لکھے ۔ بادشاہ یہ دیکھ کر خوف اور حیرت سے تھر تھر کانپنے لگا۔غیبی ہاتھ نے چار الفاظ لکھے اور پھر آنکھوں سے اوجھل ہوگیا ۔ وہ الفاظ یوں تھے:
(Mene-mene-takel-Peres)

یہ کسی اجنبی اور نامانوس زبان کے الفاظ تھے ۔ بادشاہ اور درباریوں نے انہیں سمجھنے کی تمام تر کوشش کی ۔ ناکام ہونے پر انہوں نے بابل کے بڑے بڑے عاملوں ، نجومیوں اور روحانی پیشواؤں کو بلوایا ۔ شاہ نے پیشکش کی کہ جو اس عبارت کو پڑھ کر اس کا مطلب سمجھائے گا ، اُسے سونے میں تولا جائے گا ۔

عامل اور نجومی کوشش کرتے رہے مگر وہ الفاظ کا راز نہ جان سکے۔ بادشاہ کی راتوں کی نیند اڑ گئی ۔ وہ ہر وقت سوچتا رہا کہ اس غیبی ہاتھ نے آخر کیا پیغام دیا ہے ؟ ایک دن اس کی ملکہ نے اسے مشورہ دیا کہ بابل میں دانیالؔ نامی ایک شخص رہتا ہے ، جس کا جسم تو انسان کا ہے لیکن روح کسی دیوتا کی ہے ؛ اسے بلا کر اس کا مفہوم پوچھا جائے ۔

یہ حضرت دانیال تھے اپنے عہد کے سب سے برگزیدہ شخص ۔ بادشاہ نے حضرت دانیال کو بلایا اور کہا، ”سنا ہے کہ تم ہر قسم کی گھتی سلجھا لیتے ہو ؟ اگر تم دیوار پر لکھی ہوئی عبارت کا مطلب مجھے سمجھانے میں کامیاب رہے تو خلعت ِ فاخرہ کے ساتھ تمہارے گلے میں سونے کی مالا ڈالی جائے گی اور تمہیں سلطنت کا تیسرا بڑا عہدہ بھی سونپا جائے گا “ ۔

حضرت دانیال نے کہا کہ مجھے تمہارے سونے چاندی کی حاجت نہیں ، مگر میں یہ مسئلہ حل کر دیتا ہوں ۔ انہوں نے چند لمحوں کے لیے غور کیا اور پھر بادشاہ سے کہا ” تمہارا باپ بھی اس سلطنت کا فرمانروا تھا لیکن اس نے عیش و عشرت کا راستہ اپنا کر خود کو تباہ کرلیا ۔ اب تم نے بھی اس کی پیروی کی ، اسی لئے تباہی اور بربادی تمہارا مقدر ہے“۔

اس کے بعد حضرت دانیال نے یہ معمہ حل کرتے ہوئے بتایا ’Mene‘کا مطلب ہے کہ تمہاری بادشاہی کے دن پورے ہوگئے ہیں۔’Takel‘ کا مطلب ہے تمہیں کسوٹی پر پرکھا گیا ، لیکن تم ناقص اور ہلکے نکلے۔’Peres‘سے مراد ہے کہ تمہاری سلطنت عنقریب دشمنوں میں تقسیم ہوجائے گی“۔

یہ قصہ بائبل میں بیان کیا گیا ہے ۔ کہانی کے مطابق اسی رات بادشاہ قتل کر دیا گیا اور جلد ہی اس کی سلطنت دو دشمن ریاستوں کے قبضے میں چلی گئی۔ اس کہانی سے انگریزی میں ضرب المثل’writing on the wall‘بنی ۔ اردو میں اسے ’نوشتہ دیوار‘ کا نام دیا گیا۔تاریخی قصوں کے اثرات صدیوں تک برقرار رہتے ہیں ۔ گزشتہ دو ڈھائی ہزار سال کی تاریخ کا جائزہ لے کر مورخین نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہر سلطنت اور حکمران کو خواہ وہ جس قدر عظیم ہو ، ایک نہ ایک دن ضرور نوشتہ دیوار سے واسطہ پڑتا ہے۔
٭٭٭


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں