روضہ اقدس پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم

عقیدہ ختم نبوت : خواتین کو کیا کردار ادا کرنا چاہئیے ؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ڈاکٹر خولہ علوی

پاکستان کے آئین میں مسلمان کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ
"مسلمان وہ ہے جو اللہ پر، یوم آخرت پر اور نبی کریم ﷺ پر آخری نبی کی حیثیت سے ایمان رکھتا ہو۔”

ختم نبوت کے دفاع اور تحفظ کے سلسلے میں 7 ستمبر مسلمانوں کے لیے اور خصوصاً پاکستانیوں کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے ہے کیونکہ اس دن پاکستان میں قادیانیوں کو بھرپور قانونی کارروائی کے بعد، قانونی لحاظ سے غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
ترجمہ: "( مسلمانو ) محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ ﷲ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں اور ﷲ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔”

عقیدہ ختم نبوت نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
اللہ رب العزت نے اس کے ذریعے امت مسلمہ پر احسان عظیم کیا ہے کہ عقیدہ توحید کے ساتھ ساتھ عقیدہ ختم نبوت نے دنیا کے پونے دو ارب مسلمانوں کو وحدت کی لڑی میں پرو رکھا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: "میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا ہو اور اس میں ہر طرح کا حسن و خوب صورتی پیدا کی ہو لیکن ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی ہو، اب تمام لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے گھوم پھر کر دیکھتے ہیں اور حیرت زدہ رہ جاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔” ( صحیح بخاری)

حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ
ترجمہ: "میں خاتم النبیین (ﷺ) ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔” (سنن ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ، باب مایکون من الفتن)

خاتم النبیین ﷺ کی ناموس، دفاع ختم نبوت اور تحفظ ختم نبوت کے لیے یہ ایک تاریخی آئینی اور قانونی قدم تھا جو اس تاریخی دن میں پاکستانی حکومت نے پورے حوصلے اور دبدبے سے اٹھایا۔

یہ دن ہماری تاریخ میں نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کی ناموس کا علم بھی سر بلند کیا گیا۔

ختم نبوت اسلام کا لازمی تقاضہ اور حصہ ہے۔ ہمارا ایمان ناقص ہوگا اگر ہم ختم نبوت پر ایمان نہ رکھتے ہوں کیونکہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والا بندہ کافر و مرتد ہو جاتا ہے۔

نبو ت ختم ہے تجھ پر، رسالت ختم ہے تجھ پر​
ترا دیں ارفع و اعلی، شریعت ختم ہے تجھ پر

برصغیر میں مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزوں کے ماتحت رہتے ہوئے اور ان سے تربیت پا کر، ایک مسلمان کی حیثیت سے ختم نبوت پر ایمان اور یقین رکھنے کے بجائے خود نبوت کا جھوٹا دعوی کر دیا۔

قادیانی غیر مسلم اور کافر ہیں۔ پاکستان میں دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی طرح وہ اقلیت قرار دیے گئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کے دشمن کبھی اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح قادیانی پاکستان اور پاکستانیوں کے خیر خواہ بھی نہیں ہیں۔

دنیا کا واحد ایٹمی اسلامی ملک پاکستان سازشیوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ پاکستان عقیدہ ختم نبوت کے خلاف قادیانیوں کی سازشوں کا مرکز رہا ہے۔ اور ان کے توڑ کے لیے بھی سچے اور مخلص مسلمان مصروف عمل ہیں لیکن جب ان کو سرکاری سرپرستی حاصل ہو جائے تو معاملات بہت گھمبیر ہو جاتے ہیں۔ اہم کلیدی حکومتی عہدوں پر قادیانیوں کی وقتاً فوقتاً تعیناتی کی خبریں ہر پاکستانی کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

ختم نبوت کے حوالے سے معاشرے میں خواتین کا کردار بھی اتنا اہم ہے جتنا کہ مردوں کا۔ختم نبوت اور دفاع ختم نبوت کے لیے لیے تاریخ میں صحابیات اور بعد میں دیگر خواتین نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اور اب بھی غیور خواتین یہ فریضہ منصبی سر انجام دے رہی ہیں۔

خواتین اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اقدامات کے ذریعے اس عقیدے کی پاسداری اور نگہبانی کر سکتی ہیں۔

مائیں اپنے بچوں کو، خواتین اساتذہ اپنے طلباء وطالبات کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت اور ضرورت کے بارے میں ضرور آگاہ کریں ۔

ختم نبوت والی آیت یا اس کا ترجمہ اور کم از کم چند چھوٹی چھوٹی احادیث اور ان کے تراجم ضرور یاد کروائیں۔

معیشت کے میدان میں تمام قادیانی مصنوعات (products) کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ اور پھر اس بائیکاٹ کو جاری رکھا جائے۔ تاکہ انہیں بھرپور خسارے اور امت مسلمہ کی مدافعت اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑے۔ اور ان کا مال و دولت ختم نبوت کے خلاف کارروائیوں میں خرچ نہ ہو۔

مشن نبوت اور ختم نبوت کو آگے بڑھائیں۔ اور اسلام کی تعلیمات کو عام کریں۔ اور سارا سال یہ ذکر خیر جاری رکھیں۔

نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ اور ان کی تعلیمات لوگوں میں عام کریں۔

ہر گھر میں اسلام اور خاتم النبیین ﷺ کی تعلیمات اور ان کی سیرت کے مطالعے کو عام کریں۔ خواہ روز صرف ایک دو صفحات کا مطالعہ کیا جائے۔

خواتین انفرادی یا اجتماعی طور پر سیرت کی کسی کتاب کے چند صفحات کے مطالعہ کی عادت مستقل طور پر پیدا کریں۔ ایک کتاب مکمل ہو جائے تو سیرت کی دوسری کتاب شروع کرلیں۔ اور سیرت النبی کے مطالعہ کا یہ خوبصورت سلسلہ تا حیات جاری رکھنے کی کوشش کریں۔

خواتین اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی اولاد کو، خواتین اساتذہ اپنے طلبہ و طالبات کے دلوں میں نبی کریم ﷺ کی سیرت، محبت اور اطاعت و اتباع کے واضح تصورات راسخ کریں۔

خواتین اپنی اولاد کو سیرت اور ختم نبوت کی صحابہ کرام اور دیگر محبان رسول ﷺ کی سچی کہانیاں اور واقعات سنایا کریں۔
انہیں سیرت النبی کے سانچے میں ڈھلنے اور عمل پیرا ہونے کے لیے مسلسل آمادہ کرتی اور ترغیب دلاتی رہیں۔

خواتین صرف زبانی کلامی محبت کا دعویٰ نہیں کریں بلکہ اپنے عمل اور سچی اطاعت و فرمانبرداری سے ثابت کریں کہ جن سے محبت ہوتی ہے، ان کی کامل اتباع کی جاتی ہے۔

خواتین اپنے بیٹے بیٹیوں کے رشتے کبھی قادیانیوں سے نہ کریں۔

بوقتِ ضرورت یا مجبوری، قادیانی ہمسایوں یا عزیزوں کی مذہبی عبادات، تہواروں اور شادیوں وغیرہ میں کبھی بھی شامل نہ ہوں۔ تاکہ خصوصاً مسلمان بچے اور بچیاں ان کے کلچر، تہذیب اور رہن سہن سے متاثر نہ ہو جائیں۔

خواتین پر بھی تمام مسلمانوں کی طرح حسب استطاعت ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ کا دفاع لازم ہے ۔

خواتین بچوں کو اور خصوصاً طلبہ و طالبات کو سیرت اور ختم نبوت کے خوبصورت عقیدہ سے جوڑنے کے لیے سیرت النبی کے مختلف عنوانات پر گھروں اور تعلیمی اداروں میں ( جیسے ممکن ہو ) ڈسکشن، تحریری و تقریری مسابقات (competitions) رکھیں اور کوئز مقابلہ جات وغیرہ منعقد کریں۔

سوشل میڈیا پر بھی خواتین عقیدہ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کو اجاگر کرتی رہیں کیونکہ یہ کوئی وقتی مسئلہ نہیں ہے۔

خواتین گھروں میں عقیدہ ختم نبوت کی آیات اور احادیث والے چارٹس یا فلیکسز آویزاں کریں۔

اس کے علاوہ، دینی مدارس و مساجد کے ساتھ ساتھ اسکولوں، کالجوں، جامعات، دفاتر، شاپنگ سینٹرز، دکانوں، فیکٹریوں اور رفاہی تنظیموں کے دفاتر میں بھی ختم نبوت کی آیات اور احادیث کی فلیکسز، اور چارٹس وغیرہ دیواروں اور اہم و نمایاں جگہوں پر لگائے جائیں تاکہ ختم نبوت کی بار بار یاد دہانی ہوتی رہے۔

بلاشبہ عقیدہ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے لیے جو مرد و زن بھی کوشش کریں گے ، اللہ تعالیٰ ان کا اجر ضائع نہیں کریں گے۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں