گلابی نمک

نمک : ایک قدیم آزمودہ نسخہ

شازیہ عبد القادر

بچپن میں والدہ ایک کہانی سنایا کرتی تھیں کہ ایک بادشاہ کی تین شہزادیاں تھیں ۔ سب سے چھوٹی شہزادی اپنی ذہانت اور عقل مندی کی وجہ سے بادشاہ کو بےحد لاڈلی اور پیاری تھی ۔ ایک بار بادشاہ کسی سفر پر روانہ ہونے لگا تو اس نے حسب عادت بیٹیوں سے پوچھا کہ ان کے لئے کیا تحفہ لائے۔

ایک شہزادی نے خوبصورت سوٹ کی فرمائش کی
دوسری نے کسی زیور کی فرمائش کی
سب سے چھوٹی شہزادی سے پوچھا اور خیال کیا کہ وہ ضرور کسی نادر تحفہ کی فرمائش کرے گی۔

جب شہزادی نے والد سے نمک لانے کی فرمائش کی تو بادشاہ کو یہ سخت برا لگا ۔ بادشاہ غضب ناک ہوگیا کہ شہزادی نے اس سے ایک انتہائی کم تر سی چیز کی فرمائش کی ۔ بادشاہ تو پھر بادشاہ ہوتا ہے ۔ ایسا غصہ چڑھا کہ حکم دیا کہ اس کی لاڈلی شہزادی کو دور جنگل میں چھوڑ آیا جائے

شہزادی کو جنگل میں ایک شہزادہ مل جاتا ہے ۔ وہ اسے اپنے ملک لے جاتا ہے اور شادی کرلیتا ہے ۔ عقل مند شہزادی اپنے حسن ، سلیقے اور ذہانت کی بدولت خوب مشہور ہوجاتی ہے ۔ شہزادے کی شادی کی مبارک کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک دن شہزادے نے اسے بتایا کہ فلاں ملک کا بادشاہ آرہا ہے ۔ شہزادی باپ کا نام سن کر چونکی۔

خیر بادشاہ کے شایان شان استقبال ہوا۔ دعوت کا اہتمام شہزادی نے اپنی نگرانی میں کروایا ۔ دسترخوان پر دنیا کے بہترین کھانے لگے تھے ۔ شہزادی نقاب میں خود بھی اپنے شہزادے کے ساتھ موجود تھی ۔ انواع و اقسام کے کھانوں کی خوشبوئیں اشتہا بڑھا رہی تھیں ۔

کھانے کا آغاز ہوتا ہے تو بادشاہ پہلا کھانا چکھتا ہے ، پھر دوسرا ، پھر تیسرا ۔ پیج و تاب کھانے لگتا ہے اور غصے سے کھڑا ہوجاتا ہے ۔
“یہ کیسی دعوت ہے ، کسی کھانے میں نمک ہی نہیں ہے”

شہزادی بولتی ہے : بادشاہ سلامت ! یہ بھی کوئی خفا ہونے والی بات ہے !! نمک تو بہت حقیر سی شے ہے ، جس کی وجہ سے آپ نے اپنی لاڈلی بیٹی کو عاق کردیا تھا ، جدا کردیا تھا ۔ اور نقاب ہٹا دیتی ہے ۔ بادشاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے اور بیٹی کو گلے لگا لیتا ہے ۔

امی جی سے ہم بیسیوں بار یہ کہانی سنتے ، ہر بار دلچسپی سے سنتے اور میرے بچے بھی ان سے یہی کہانی سنتے بڑے ہوئے ۔

نمک کھانوں کی لذت کا لازمہ ہے کم ہو تو مزا نہیں آتا ، زیادہ ہوجائے تو کھانا کھایا نہیں جاتا۔ بلڈپریشر لو ہوجانے والوں کے لئے مفید ہے تو ہائی ہونے والوں کے لئے نقصان دہ . مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ نمک اور نمک والا نیم گرم پانی زخموں کے لئے بےحد مفید ہے .
جسم پر کہیں بھی لگا ہوا زخم ۔ بگڑے زخم ، منہ کے چھالے ، گلا خراب ، آپریشن کے بعد ٹانکوں کے زخم ہر ایک کے لئے مجرب نسخہ ہے

بہت سال پہلے میاں صاحب بائیک کے سلنسر سے ٹانگ جلا بیٹھے زخم ٹھیک ہونے میں نہیں آرہا تھا ۔ روز ڈریسنگ ۔ ایک ڈاکٹر صاحبہ نے آئنمنٹ دی کہا کہ پہلے ایک جگ نمک ملا نیم گرم پانی آہستہ آہستہ گراتے رہیں کہ ٹکور ہوتی رہے پھر آئنمنٹ لگائیں . مہینے بھر سے جو زخم اینٹی بائیوٹک اور روزانہ ڈریسنگ سے ٹھیک نہیں ہورہا تھا ہفتے میں ٹھیک ہوگیا.

پہلی بار مائنر سرجری میں مجھے بھی ڈاکٹر نے یہی تاکید کی مگر توجہ نہ دی اور شدید انفیکشن بھُگتی ۔ پھر کبھی سرجری ہوئی . یہی نسخہ آزمایا . دنوں میں چنگی بھلی ہوگئی ۔ الحمدلله
منہ کے چھالے گلا خراب میں بھی بےحد جلد افاقہ کرتا ہے . سوجن میں بھی مفید ہے ۔ جن کے پاؤں سوجتے ہیں یا پاؤں پر انفیکشن ہوجاتی ہے نمک والے لڑکپن میں کھیلتے ہوئے پائوں میں موچ آ جاتی تھی تو رات کو پائوں پر سرسوں کے تیل کی مالش کرکے ، اوپر زیادہ نمک ملا نیم گرم پانی ڈال کر ، کسی گرم کپڑے سے لپیٹ دیا جاتا تھا۔ صبح پائوں چنگا بھلا ۔نیم گرم پانی میں دن میں تین بار ڈبو کر رکھیں ۔

ایک ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ پرانے زمانے میں دوائیاں نہیں ہوتی تھیں تو یہی نسخہ استعمال ہوتا تھا . جنگوں میں زخمی ہونے والوں کا بھی اسی سے علاج ہوتا ۔ مزید گوگل سے بھی آپ کو اس کے فوائد مل جائیں گے.

سوچا کہ آج افادہ عام کے لئے نمک والے نیم گرم پانی کی ریمیڈی پر لکھا جائے اور ساتھ نمک والی کہانی بھی سنادی جائے۔ جو اس نمک والی ریمیڈی پر عمل کرتے ہیں وہ تائید کریں گے جو نہیں کرتے وہ آزما کر دیکھیں . ہر موسم میں ہر زخم کے لئے نمک والے نیم گرم کھلے پانی سے تھوڑی دیر آہستہ آہستہ گراتے ہوئے دھلائی کریں یا اس میں زخمی حصہ ڈبو کر رکھیں اور اس کے بعد اسے کھلا رکھنا ہے پٹی نہیں باندھنی ۔ ان شاءالله افاقہ ہوگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں