پیلے لباس والی خاتون ڈائری لکھ رہی ہے

امی جان کی رمضان ڈائری ( دوسرا ورق )

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ام محمد عبداللہ

پہلے یہ پڑھیے
امی جان کی رمضان ڈائری ( پہلا ورق )

امی جان ڈائری لکھتے لکھتے اچانک اٹھ گئی تھیں۔
ڈائری میز پر کھلی ہی پڑی تھی . ساتھ پن بھی کھلا اسی کے اوپر رکھا تھا۔
”کھلے پن سے سیاہی نہ گر جائے، میری امی جی کی اتنی پیاری ڈائری خراب نہ ہو جائے ۔“ صہیب نے فکرمندی سے سوچتے ہوئے پن بند کیا۔ ڈائری بند کرنے لگا کہ امی جان کی خوبصورت لکھائی نے اسے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔
رمضان کا مہینہ آتا ہے تو میرا دل چاہتا ہے میں یہ حدیث بار بار پڑھوں۔

”ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لیے ہیں سوائے روزہ کے، بےشک وہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔“

یہ حدیث پڑھ کر مجھے روزہ دار ہونا بہت اچھا لگتا ہے۔ میرا یہ روزہ اللہ پاک کے لیے ہے اوراس کا کچھ حیران کر دینے والا انعام ہے جس کا میں اندازہ بھی نہیں لگا سکتی اور وہ انعام اللہ تعالی مجھے دیں گے۔
بس روزے کے دوران یہ احساس مجھے گھیرے رکھتا ہے کہ میں اپنے رب کی رحمتوں میں ہوں اور کوئی بہت بڑا انعام ہے جو میرے پیارے رب کے فضل و کرم سے مجھے ملنے والا ہے۔


"حیران کر دینے والا انعام! "صہیب نے خوشی سے خود کلامی کی۔ دادا جان سے سفارش کروا کر وہ آج روزہ رکھنے میں کامیاب ہو چکا تھا ورنہ تو امی اور بابا جانی اسے روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔
صہیب کو پیاس لگ رہی تھی۔
وہ ایک بار پھر ڈائری پڑھنے لگا۔

روزے میں جب پیاس کا احساس ہوتا ہے سوچتی ہوں۔
جنت کا وہ دروازہ کتنا شاندار ہو گا جسے ریان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن جب پکارا جائے گا روزے رکھنے والے کہاں ہیں؟ اس وقت میں اللہ کی رحمت سے اس شاندار دروازے سے جنت میں داخل ہو جاؤں گی اور پھر مجھے کبھی بھی پیاس نہیں لگے گی۔

ارے واہ ! روزہ رکھنے پر تو انعامات ہی انعامات ہیں۔ صہیب نے خوشی سے سوچا۔
چلو آگے پڑھتے ہیں۔ صہیب خوش ہو کر پڑھنے لگا۔

اپنے پیارے اللہ تعالی سے اتنے انعامات لینے ہیں
تو
مجھے بہت اچھا سا روزہ صرف اور صرف اللہ کو راضی کرنے کے لیے رکھنا ہے۔
"جی ہاں ! میں نے روزہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے رکھا ہے اس لیے نہیں کہ سب مجھے بہادر بچہ کہیں۔”
صہیب نے اونچی آواز سے کہا جیسے کسی نے اس کی چوری پکڑ لی ہو۔
وہ آگے پڑھنے لگا۔

امام ابن الجوزی نے روزے کے تین درجے بتائے ہیں۔

روزے کے درجے؟

1..عام روزہ
عام روزہ تو یہ ہے کہ خود کو پیٹ بھرنے اور شہوت سے روکے۔
2..خاص روزہ
خاص روزہ یہ ہے کہ نظر، زبان، ہاتھ پاٶں، کان اور تمام اعضاء کو گناہ سے بچائے ۔
3.. خاص الخاص روزہ
اور خاص الخاص روزہ یہ ہے کہ دل کو ردی خیالات اور اللہ تعالی سے دور کرنے والے افکار سے پاک کر دے اور اس کی یاد کے سوا ہر چیز سے رک جائے ۔

میں اس رمضان میں ان شاء اللہ خاص الخاص روزہ رکھوں گی۔ اپنی نظر، زبان اور تمام اعضاء پر نگاہ رکھوں گی، بالخصوص زبان پر۔ غصہ ، چیخنا چلانا ، اونچا بولنا ، غیبت اور چغلی وغیرہ سے خود کو بچاؤں گی۔
اور ہاں جائے نماز، قرآن مجید، ذکر و اذکار کی کتب وغیرہ تو میں نے ایک ہی مقررہ جگہ پر رکھ دی ہیں۔ اس سے مجھے وقت کی بچت ہو رہی ہے اور عبادت میں خوب دل لگ رہا ہے۔

صہیب نے ورق پڑھ کر جیسے ہی ڈائری بند کی۔
اس کی امی جان تیز آواز میں کہتی کمرے میں داخل ہوئیں ۔ ”صہیب ! صہیب آپ نے کتابیں، کھلونے کپڑے ہر چیز اپنے کمرے میں بکھیر۔۔۔۔۔۔
صہیب نے دوڑ کر ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور پھولتے ہوٸے سانس سے کہنے لگا

”امی جان امی جان میں ابھی جا کر سب سمیٹتا ہوں اور آپ پلیز اونچا نہ بولیں
"آخر ہم دونوں نے خاص الخاص روزہ رکھنا ہے۔“

صہیب کی بات سن کر امی جان مسکراتے ہوئے خاص الخاص روزہ رکھنے کے عزم کی تجدید کرنے لگیں۔

( جاری ہے )


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں