دولہا ، دلہن ہاتھوں میں ہاتھ

دلہن

ایک منفرد اردو کہانی جو ہمارے بعض عام مغالطے دور کرتی ہے

حمیرا علیم

“خالہ صفیہ کے بیٹے کیپٹن وصی کی آج شادی ہے” امی نے اطلاع دی ۔
” تو اس میں نیا کیا ہے امی؟ شادی ہی ہے نا کوئی بم دھماکہ تو نہیں ۔” میں نے کہا۔
” ارے دھماکے سے کم بھی نہیں ۔تمھیں پتہ ہے کس سے شادی ہو رہی ہے وصی کی؟” امی نے سوال کیا۔
” کس سے؟” میں نے پوچھا ۔
” وہ بیگم خرم ہیں نا ! ان کی بیٹی سے”۔ امی نے اپنی طرف سے واقعی بم پھوڑا تھا۔

” وہ جو شادی کے کچھ دن بعد ہی بیوہ ہو گئی تھی اور جس کا ایک بچہ بھی ہے۔کیا نام ہے اس کا ؟ ہاں یاد آ گیا شفا نا”۔ میں نے استفسار کیا

” ہاں !ہاں ! وہی شفا سے ۔ کیسا خوبصورت اور آرمی آفیسر بیٹا تھا خالہ صفیہ کا . ایک سے ایک لڑکی پڑی تھی خاندان میں بھی اور خاندان سے باہر بھی . جہاں رشتہ ڈالتیں جھٹ سے ‘ہاں’ ہو جاتی۔ مگر دیکھو ذرا انہوں نے کہاں بیاہ دیا اسے۔” امی کو خاصا افسوس ہو رہا تھا۔جیسے ان کی بیٹی کا حق مارا گیا ہو ۔ جبکہ میرے منگیتر بھی ڈاکٹر تھے۔

” تو کیا ہوا امی یہ تو ثواب کاکام ہے نا ۔ دیکھیں نا لوگ چار شادیوں کی سنت اور قرآنی آیت پر عمل کیلئے تو ہر وقت تیار رہتے ہیں مگر یہ بھی تو سنت ہی ہے نا ، بیوہ اور طلاق یافتہ سے شادی کر کے انہیں سہارا دیا جائے ، ان کے بچوں کی کفالت کی جائے۔” میں نے انہیں سمجھایا۔

” ہاں ہے تو صحیح ۔مگر وصی تو ابھی جوان ہے ، غیر شادی شدہ ہے ۔ کوئی بھی کنواری خوبصورت لڑکی مل جاتی اسے ۔ پھر بیوہ سے کرنے کی کیا ضرورت تھی وہ بھی ایک بچے والی۔” امی کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی تھی۔

” آپ شاید بھول رہی ہیں ۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی تو وہ بھی صرف 25 سال کے تھے اور خدیجہ رضی اللہ عنہا 40 سالہ . دو بار کی بیوہ اور ایک بچے والی خاتون تھیں ۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ تمام امہات المومنین ہی بیوہ یا مطلقہ تھیں ۔

آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ آج کے دور میں کسی مرد نے واقعی سنت کی پیروی کی ہے ۔ پھر شفا بیچاری کی 18 سال کی عمر میں شادی ہوئی تھی ، اس کے کزن سے جو جے ڈی پائلٹ تھا اور طیارہ حادثے میں شادی کے چند ماہ بعد ہی شہید ہو گیا تھا ۔ کیا زندگی کی خوشیوں پر شفا کا حق نہیں ؟ مجھے تو سچ میں یہ سن کر خوشی ہو رہی ہے کہ وصی نے شفا سے شادی کی ہے۔” میں نے جوش و خروش سے کہا۔

” اگر وہ لوگ ہمیں انوائٹ کرتے تو میں ضرور جاتی۔ “
” ہاں جی ! بقول تمھارے انہوں نے ایک اور سنت بھی پوری کی ہے ۔ صرف گھر کے چند افراد ہی گئے تھے اور نکاح کر کے لے آئے ہیں شفا کو ۔ حالانکہ دونوں خاندان ہی کھاتے پیتے ہیں مگر کنجوسی کی بھی حد ہوتی ہے ۔ کل جائوں گی ولیمے پر دلہن دیکھنے۔”
امی نے جلے کٹے لہجے میں کہا۔

” صحیح کہہ رہی ہیں آپ یہ بھی تو سنت ہے کہ سادگی سے شادی کی جائے اور یہ مہندی ، مایوں ، ڈھولکی بارات کا تو اسلام میں تصور بھی نہیں ہے ۔ یہ سب فضول رسمیں تو ہم نے ہندوؤں سے لےلی ہیں ۔جس میں ہر طرح کا حرام کام ہوتا ہے ۔ مخلوط ماحول ، بے پردگی ، ناچ گانا ، غیر مسلموں کی پیروی ، کھانے ، کپڑوں ، میک اپ وغیرہ پر پیسے کا ضیاع یہ سب تو اسلام میں ممنوع ہے ۔ اور ہم اسے بچوں کی خوشی ہے ۔ ” اگر نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے ” کہہ کر اللہ کی خوب نافرمانی کرتے ہیں اور پھر حیرت سے کہتے ہیں “پتہ نہیں گھر میں سکون کیوں نہیں ہے”۔

نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دور میں ایک صحابی کی ملاقات بازار میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہوئی تو ان کے لباس پر ورس کا نشان دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کہا ” لگتا ہے آپ نے شادی کر لی ! ” تو ان کے اثبات میں جواب دینے پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں برکت کی دعا دی اور مبارک باد دی۔ ہماری طرح گلہ شکوہ نہیں کرنے بیٹھ گئے کہ اچھا ہمیں بلایا ہی نہیں ، چپکے چپکے شادی بھی کر لی بلکہ دعا دی ۔ ہم جب تک کم از کم تین فنکشنز پہ سو سے ہزار بندے بلا کر ہلہ گلہ نہ کر لیں ہمیں مزہ ہی نہیں آتا ۔ حالانکہ آپ کتنا ہی اچھا ریسیپشن کیوں نہ دے دیں کھانے میں دس سے سو ڈشز ہی کیوں نہ دے دیں . لوگ خوش ہونے کی بجائے مین میخ ہی نکالتے ہیں تعریف کبھی نہیں کرتے ۔ تو کیا ضرورت ہے پیسے ضائع کرنے کی ! اسی پیسے سے لڑکا لڑکی اپنے گھر کی چیزیں خرید سکتے ہیں ، گھر بنا سکتے ہیں ۔” میں نے بقراطیت جھاڑی۔

” اگر شادی اتنی سادگی سے کی ہے تو جہیز بھی نہیں لیا ہوگا یقینا ” امی کی اپنی ہی ٹینشنز تھیں

” لو جی ایک اور ہندوانہ رسم ! مجھے سمجھ نہیں آتی . جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ کرام نے یہ سب خرافات نہیں کیں تو ہم کیوں ان کی وجہ سے اپنی زندگیاں عذاب بنائے ہوئے ہیں ۔” ابھی میں نے اتنا کہا ہی تھا کہ امی نے ٹوکا۔
” نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز دیا تھا۔”

” جی بالکل دیا تھا۔ایک بستر، چند برتن اور چکی لیکن یہ بھی سارا کا سارا اس پیسے جو علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو دئیے تھے کہ آپ ہی ضروری سامان لے دیں ۔کیونکہ ابو طالب اتنے مال دار نہ تھے تو جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنا کام شروع کیا تو علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ ہی رکھ لیا تھا ۔ تو بجائے اپنے گھر والوں کو کہنے کے علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کو گھر کا سامان لانے کا کہہ دیا۔

اب دیکھیں نا قرآن مرد کو کفیل کہتا ہے عورت کے نان نفقے کی ذمہ داری اسے دیتا ہےتو گھر بنانے کی ذمہ داری بھی تو مرد کی ہوئی نا ۔ دیکھیں تو بلوچوں میں کتنا اچھا رواج ہے ۔ لڑکا ہر چیز کا خرچہ اٹھاتا ہے ، پہلے گھر بناتا ہے ، چاہے کرائے کا ایک کمرہ کچن باتھ ہی کیوں نہ ہو ۔ اس کو فرنش کرتا ہے ۔ پھر لڑکی والے اسے دیکھتے ہیں . کچھ پسند نہ آئے تو تبدیل کرواتے ہیں . پھر شادی کرتے ہیں اور ایک پائی بھی خرچ نہیں کرتے ۔ نہ بارات پر نہ کبھی زندگی کے کسی بھی ایونٹ پر . اور ایک ہم ہیں شادی کے جہیز سسرالیوں کیلئے تحائف سے لے کر عیدین ، بچوں کی پیدائش اور مرنے تک پیسے اور چیزیں دے دے کر ہی مر جاتے ہیں اور سسرالی پھر بھی خوش نہیں ہوتے۔

اللہ تعالٰی مہر خوش دلی سے ادا کرنے کا کہتا ہے ۔ اور کہتا ہے اگر پہاڑ برابر سونا بھی انہیں دیا ہو تو واپس مت لو ۔اگر ماں اپنے ہی بچے کو دودھ نہ پلانا چاہے تو باپ کی ذمہ داری ہے کہ آیا کا بندوبست کرے ۔ اگر عورت اپنے ہی بچے کو فیڈ کروائے اور ایکسٹرا خرچہ مانگے تو مرد پابند ہے اسے ادا کرنے کا ۔ الگ رہائش کی فرمائش کرے یا نکاح نامے میں شرط رکھے تو یہ اس کا حق ہے جو مرد ادا کرنے کا پابند ہے ۔ مگر ہوتا کیا ہے ۔ چار شادیوں کی قرآنی آیت اور سنت پر عمل پیرا ہونے کیلئے بیتاب مرد کو یہ ساری آیات اور سنتیں بالکل پتہ ہی نہیں ہیں ۔ ان شرائط کے ساتھ پہلے تو کسی لڑکی کا نکاح ہی ممکن نہیں اور اگر شادی کے بعد کوئی لڑکی ایسی ایک بھی فرمائش کرنے کی گستاخی کرے تو سیدھی طلاق دے کر گھر بھیج دی جاتی ہے ۔ پتہ نہیں یہ جہالت کب ختم ہو گی۔” میں نے افسردگی سے کہا تو امی نے بھی تفہیمی انداز میں سر ہلایا ۔ آخر کو وہ بھی عورت تھیں اور معاشرے کی انہی فضول رسوم کی ڈسی ہوئی بھی۔

دوسرے دن شام میں امی ابو کیساتھ ولیمہ اٹینڈ کر کے گھر آئیں تو شفا اور وصی کی تعریفیں کر رہی تھیں ۔

” ماشاء اللہ شفا اور وصی کی جوڑی تو چاند سورج کی جوڑی لگ رہی تھی ۔ اور وصی نے شفا کے بیٹے کو تو ایسے اٹھا رکھا تھا جیسے اسی کا بیٹا ہو ۔ آگے پیچھے پھر رہا تھا شفا کے ۔ اور شفا پر تو اتنا روپ آیا تھا جتنا پہلی شادی کے وقت بھی نہیں آیا تھا ۔ اللہ خوش رکھے انہیں ۔”

سمیر بھائی ہلکا سا بڑ بڑائے” ہن زن مرید!”

” کیا کہا آپ نے سمیر بھائی زن مرید ! اگر کوئی مرد بے چارہ اپنی بیوی کو پیار کرے ، اس کا خیال رکھے ، گھر کے کام میں ہاتھ بٹائے تو وہ زن مرید ہوتا ہے ۔ یہاں آپ مردوں کو سنت رسول بھول جاتی ہے ۔ کیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیک وقت 9 بیویاں تھیں مگر آپ اپنے کپڑے خود دھوتے تھے ، جوتے مرمت کرتے تھے ، بکریوں کا دودھ خود دہوتے تھے ، کپڑوں پر پیوند لگا لیتے تھے ۔ اور تو اور بیگمات کے پاس لونڈیاں اور غلام تھے اس کے باوجود انہیں پانی بھر کے لا دیتے ، آگ جلا دیتے ، سبزی بنا دیتے ، آٹا گوندھ دیتے تھے۔

کھانا نہ پکا ہوتا تو لڑنے جھگڑنے نہیں بیٹھ جاتے تھے کہ نو نو بیویاں ہیں اور کھانا نہیں بنا ! یہ بھی کوئی زندگی ہے۔بلکہ کہتے ا چھا چلو میں روزہ رکھ لیتا ہوں ۔ اپنی ازدواج کے ساتھ ہنستے ، کھیلتے ، ریس لگاتے ، انہیں مکمل ٹائم دیتے تھے ۔ سب میں عدل برقرار رکھتے تھے ۔ انہیں خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے ۔ تب بھی اگر کوئی بیگم کسی بات پر بحث کرتیں تو یہ نہ کہتے تھے کہ میں تو نبی ہوں اور آپ مجھے جواب دے رہی ہیں ۔

ایک بار عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بحث کر رہی تھیں , ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر آئے تو یہ دیکھ کر سخت غصے میں آ گئے اور ڈانٹا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے گستاخی کر رہی ہو ۔ اور تھپڑ مارنے کیلئے بڑھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : انہیں کچھ مت کہیں , یہ ہمارا میاں بیوی کا معاملہ ہے۔تو کیا یہ سب سنتیں نہیں ہیں ۔اور ان کی پیروی آپ مردوں پر فرض نہیں ہے ۔ بس ! اپنے فائدے اور مطلب کی سنتیں اور آیات سن لیں آپ لوگوں سے۔” میں نے روٹھے انداز میں کہاتو امی ابو اور سمیر بھائی اور بھابھی سب ہنس پڑے۔سمیر بھائی نے مذاق اڑایا۔

” اللہ رحم کرے ثمال پر ہماری بہن نے تو اس بیچارے کو ڈاکٹر کی بجائے اپنا غلام ہی بنا لینا ہے۔”
ابو جان بولے۔

” ہاں بھئی کہہ تو ہماری بیٹی ٹھیک ہی رہی ہے ۔ اللہ ہماری بیٹی کے نصیب اچھے کرے اور اسے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تمام سنتوں کو پورا کرنے والا شوہر عطا کرے۔”
میں نے زور سے آمین کہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں