جو

انسانی صحت پر ” جو ” کے حیرت انگیز کمالات

حکیم نیاز احمدڈیال [email protected]

انسان کی تخلیق میں چار عناصر آگ، پانی، مٹی اور ہوا شامل ہیں۔ انسان کا پورا وجود انہی چاروں عناصر سے جڑے لوازمات کے تحت ہی تن درست رہتا ہے اور بیمار ی کے اثرات بھی انہی عناصر سے وابستہ اجزاء ہی سے ظاہر ہوتے ہیں۔آگ صفراء، پانی بلغم، مٹی سودا اور ہوا خون کے اخلاط کی ماہیت کیفیت اور حالت کو ترتیب دیتے ہیں۔

تمام تر جدید تحقیقات، ایجادات اور دریافتوں کے باوجود انسانی جسم کا مزاج آج بھی انہی اخلاط کے مرہون گرمی سردی خشکی اور تری کے احساسات کا اظہار کرتے دکھائی دیتا ہے۔

ہمارے مشاہدے میں یہ بات اکثر و بیشتر آتی ہے کہ بعض لوگوں کو گرمی میں پیاس گھبراہٹ اور گرمی قدرے زیادہ محسوس ہوتی ہے جبکہ کچھ لوگ اس موسم میں بھی بہترین اور اچھا محسوس کرتے پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح بعض افراد کو موسم گرما میں بہت بہتر محسوس ہونے لگتا ہے اور ان کے اکثر بدنی مسائل خود بخود ہی ختم ہوجاتے ہیں۔

طب کی رو سے صفراوی مزاج کے حامل افراد کو گرمی کے موسم میں پیاس،گھبراہٹ اور تلخی کا زیادہ احساس ہونے لگتا ہے جبکہ یہی لوگ موسم سرما میں بہتر محسوس کرنے لگتے ہیں اور ان کے گرمی سے متعلقہ مسائل حل ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس بلغمی مزاج کے حاملین گرمی کے موسم میں بہت بہتر محسوس کرتے ہوئے بلغم سے وابستہ امراض جیسے دمہ تنگی سانس ، سستی ، تھکاوٹ اور بھاری پن سے نجات پالیتے ہیں۔ موسم بدلتے ہی تمام علامات دوبارہ ظاہر ہوکر مذکورہ مسائل سر اٹھانے لگتے ہیں۔

گرمی کے موسم میں پیاس کی زیادتی حلق کی خشکی اور گھبراہٹ و تلخی کا سامنا اکثر افراد کو کرنا پڑتا ہے۔ بار بار پانی پینے کے باوجود پیاس کو تسکین نہیں ملتی بلکہ پیشاب کی زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض افراد بار بار پیشاب کی حاجت ہونے سے تنگ آکر کسی معالج سے رابطہ کرتے ہیں تو معالج ”شوگر“ جیسی مہلک اور منحوس بیماری لاحق ہونے کے امکانات سے ڈرا دیتا ہے۔ یوں ایک اچھا خاصا صحت مند انسان صحت و مرض کے تذبذب میں الجھ کر دن کا چین اور رات کی نیند برباد کربیٹھتا ہے۔

زیر نظر مضمون میں ہم آپ کونہ صرف پیاس ، گھبراہٹ ، مزاج کی تلخی اور بار بار پیشاب کی اکتاہٹ سے نجات کے لیے قدرتی اناج سے متعلقہ گھریلو ترکیب سے آگاہ کریں گے بلکہ انسانی بدن کو تن درست رکھنے میں اس کے کمالات کے بارے میں بھی بیان کریں گے۔ ہماری معروضات پر عمل پیرا ہوکر آپ بدن سے جڑے بہت سے مسائل سے محفوظ ہوجائیں گے۔

گرمی کے موسم سے جڑے بہت سارے بدنی مسائل سے چھٹکارا حکیم کائنات نے معروف اناج ’جو‘ میں رکھ دیا ہے۔ ’جو‘ جسے انگریزی زبان میں بارلے (Barley) کہاجاتا ہے ۔ اکیلا ’جو‘ کئی بدنی عوارض سے انسان کو محفوظ بنانے میں معاون ومددگار ثابت ہوتا ہے۔

طب کی رو سے ’جو‘ کا مزاج سرد خشک اور اس کاستارہ عطارد ہے۔ اس میں کاربوہائیڈریٹس ، کیلشیم ، وٹامن سی ، نائٹروجنی مادے ، فولاد اور فاسفورک ایسڈ کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔’ جو ‘ بدن کی غیر ضروری حرارت کو تسکین، خون کے جوش کو متوازن رکھتا ہے، پیشاب آور ہے، پیاس کی زیادتی کو معتدل اور گرمی کے باعث ہونے والے بخار کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے بہترین قدرتی دوا ہے۔

’جو‘ ایک کثیر الغذا اناج ہے جس کی روٹی اور دلیہ بیماروں کو فوری طاقت و توانائی مہیا کرنے میں بہت مشہور ہے۔صفراء کا زور توڑنے اور حد سے بڑھی ہوئی تشنگی کی تسکین کے لیے ’جو‘ کے ستو اور آب جو جسے طبی اصطلاح میں ’آش جو‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ’آب جو‘ اپنی مثال آپ ایک کثیرالفوائد قدرتی مشروب ہے۔

جو کا دلیہ ، تلبینہ

’جو‘ شوگر ، موٹاپا ، یورک ایسڈ،کولیسٹرول ، بلڈ پریشر ، ذہنی امراض ، السر، امراض معدہ اور اعصابی کمزوری سے نجات دلانے کے لیے بہترین غذا اور دوا ہے۔ جو کے دلیے میں السی کا ایک چمچ ملا کر کھانا یورک ایسڈ اور کولیسٹرول سے چھٹکارا دلاتا ہے۔’جو‘ کے دلیے کا متواتر استعمال بدن سے چربیاں ختم کرکے بڑھے ہوئے پیٹ اور وزن دونوں کو متوازن بناتا ہے۔

تلبینہ کے فوائد

طب نبوی ﷺ میں ’جو‘ کی افادیت اور استعمال کے بارے میں بہت سی احادیث مبارکہ منقول ہیں۔
”رسول اللہﷺ کے اہل خانہ میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تھا تو حکم ہوتا کہ اس کیلئے تلبینہ تیار کیا جائے۔ پھر فرماتے تھے کہ تلبینہ بیمار کے دل سے غم کو اْتار دیتا ہے اور اس کی کمزوری کو یوں اتار دیتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر اس سے غلاظت اْتار دیتا ہے۔“ (ابن ماجہ)

”رسول اللہﷺ نے حضرت جبرئیل ؑ سے فرمایا: جبرئیلؑ میں تھک جاتا ہوں۔ حضرت جبرئیلؑ نے جواب میں عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ آپ تلبینہ استعمال کریں۔“

آج کی جدید سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ جو میں دودھ کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ کیلشیئم ہوتا ہے اور پالک سے زیادہ فولاد موجود ہوتا ہے، اس میں تمام ضروری وٹامنز بھی پائے جاتے ہیں۔

پریشانی اور تھکن کیلئے بھی تلبینہ کا ارشاد ملتا ہے۔
”نبی ﷺ فرماتے کہ یہ مریض کے دل کے جملہ عوارض کا علاج ہے اور دل سے غم کو اْتار دیتا ہے۔“ (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، احمد) . حکیم اعظم حضرت محمد ﷺ مریضوں کو ’جو‘ شہد اور کھجور سے تیار تلبینہ کھانے کی تلقین فرماتے تھے۔

تلبینہ بنانے کا طریقہ

تلبینہ غذائیت وتوانائی سے بھرپور خوراک ہے جو بیماری سے ہونے والی کمزوری دور کرنے میں بے حد مفید ہے ۔ بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ تلبینہ کیسے بنتا ہے ؟ آئیے ! ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ تلبینہ کیسے بنائیں؟

’جو‘ کا دلیہ دودھ میں بنا کر اس میں حسب ضرورت شہد اور کھجوریں شامل کرکے استعمال کیاجاتا ہے۔ فی زمانہ بدنی ضروریات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر سمجھدار معالجین تلبینہ میں بادام روغن یا روغن زیتون کی مخصوص مقدار کا اضافہ کرنے کی تجویز بھی دیتے ہیں جو اس کی غذائی افادیت مزید بڑھادیتی ہے۔

’جو‘ کا دلیہ بناتے وقت اس میں سونف کی ایک چٹکی، ایک دو عدد الائچی سبز یا دوتین عدد لونگ شامل کرنے سے نہ صرف دلیہ خوش ذائقہ ہوجاتا ہے بلکہ اس کی غذائی افادت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

’جو‘ کی روٹی بناکر کھانے سے جسم کو بھرپور توانائی میسر آتی ہے اور بدن کی اضافی چربی سے نجات مل کر موٹاپے سے بھی چھٹکارا ملتا ہے۔’جو‘ کو نمی میں رکھیں جب جو کے بیج اگنے پہ آجائیں تو انہیں کڑاہی میں بھونتے ہوئے خشک کر کے آٹا بنا لیں۔ یوں ان میں وٹامن سی کی اضافی مقدار پیدا ہوکر غذائیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ جو کے ستو بنانے کے لیے جو کو کڑاہی میں ادھ بھنا کرکے انہیں پیس کر ستو بنائے جاتے ہیں۔ دیسی شکر کے شربت میں جوکے ستو ملا کرپینے سے پیاس پسینے گھبراہٹ اور مزاج کی تلخی کو سکون ملتا ہے۔

جو کا دلیہ بعض اوقات نفخ، بھاری پن اور قبض کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں دلیہ دودھ کی بجائے پانی میں بنا کر اس میں کشمش ، کیلے ، انگور ، سیب ، روغن بادام ، کھجور ، روغن زیتون یا مختلف موسمی پھل حسب ضرورت شامل کرکے استعمال کریں۔ یوں ’جو‘ کا دلیہ بہترین لذت سے بھرپور ہوکر مفید بن جائے گا۔ موسم کی مناسبت سے ’جو‘ کا استعمال، فوائد اور اثرات میں تبدیلی واقع ہونا فطری امر ہے۔

جو کا پانی بنانے کا طریقہ

اسی طرح ’آب جو‘ سے بھی بدن کی تلخی پیاس اور گھبراہٹ سے نجات ملتی ہے۔ آب جو بنانے کا عام اور مشہور طریقہ یہ ہے کہ ایک حصہ ’جو‘ دس حصے پانی میں اچھی طرح پکائیں۔جب پانی چوتھائی رہ جائے تو پانی کو چھان کر محفوظ کرلیں۔’آب جو‘ تیار ہے۔ اس میں شکر ملا کر پئیں یا سادہ بھی پیا جاسکتا ہے۔دھیان رہے کہ مذکورہ طرز پر تیار شدہ ’آب جو‘ پیٹ میں بھاری پن، نفخ اور ریح پیداکرنے کا مبینہ طور پر سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان کے معروف معالج روحانی وطبیب جسمانی اور ولی کامل و عارف باللہ ڈاکٹر اشرف علی فاضلیؒ ’آب جو‘ بناتے وقت ایک حصہ’جو‘ پانچ حصے پانی میں پکاتے۔ جب پانی نصف رہ جاتا تو پانی بہاکر نیا پانی شامل کرکے پکاتے۔ یوں چھٹی بار یہی عمل دہرانے کے بعد ساتویں بار جب پانی پک کر نصف رہ جاتا تو اسے بطور ’آب جو‘ استعمال کرتے اور مریضوں کو کرواتے۔ اس ترکیب سے تیارشدہ ’آب جو‘ انتہائی لطیف اور ہلکا ہوتا ہے جو ہر مزاج کو موافق آجاتا ہے۔ پانی میں ’جو‘ کئی بار پکانے سے ان کی کثافت لطافت میں بدل جاتی اور مضر اثرات بھی ختم ہوجاتے۔

فی زمانہ شوگر کے مریضوں کی شوگر متوازن رکھنے کے لیے معالجین ایک مرکب ’آٹا‘ بڑے وثوق سے تجویز کرتے ہیں۔ ’جو‘، ’چنے‘ اور ’گندم‘ ہم وزن پیس کر آٹا بنالیں اور روٹی پکاکر سیاہ یا سفید چنے دیسی گھی میں شوربہ بنا کر بطور ’ثرید‘ استعمال کرنے سے کمال فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں