ڈاکٹر عارف علوی ، صدر پاکستان.jpg

ذیابیطس کی روک تھام کیسے ممکن ؟ پاکستان کے صدر مملکت نے حل بتادیا

اسلام آباد۔15نومبر ( اے پی پی ) : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ذیابیطس کی بیماری کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک صحت مند اور تعلیم یافتہ قوم ہی ترقی کرسکتی ہے، باقاعدگی سے ورزش، وزن پر قابو پانے، زیادہ کھانے سے گریز سمیت صحت مند طرز زندگی کو اپنانے سے ذیابیطس کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے جو ایک خاموش قاتل ہے، اس کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بیماری کی تشخیص اور اس کا مناسب انتظام ناگزیر ہے، چین اور بھارت کے بعد دنیا کی تیسری بڑی آبادی ذیابیطس کے مریضوں کی ہے ۔

صدر مملکت نے خیالات کا اظہار منگل کو یہاں ایوان صدر میں ذیابیطس کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پاکستان میں ڈنمارک کے سفیر جیکب لنلف، ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان، ماہرین صحت اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

صدر مملکت نے ملک میں ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے مرض پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ذیابیطس کے پھیلائو کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ذیابیطس کے مریض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال چار لاکھ افراد ذیابیطس اور بیماری کی دیگر پیچیدگیوں کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

صدر مملکت نے ذیابیطس کی روک تھام کے لئے روایتی اور سوشل میڈیا کے ذریعے موثر، بامقصد اور مسلسل آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سمپوزیم، ورکشاپس، کانفرنسز اور عوامی میٹنگز کے انعقاد کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے واٹس ایپ چیٹ بوٹس، ویب اور سیل فون پر مبنی ایپلی کیشنز کے علاوہ کال اور ٹیکسٹ پیغامات سے لوگوں میں آگاہی پیدا کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کی ترقی اور خوشحالی اس کے انسانی وسائل کے معیار پر منحصر ہے جو تب ہی ممکن ہے جب قوم تعلیم یافتہ اور صحت مند ہوگی۔صدر نے کہا کہ ذیابیطس کی روک تھام کے نتیجہ میں دیگر بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کیا جاسکتا ہے، ذیابیطس کی خطرناک صورتحال اندھے پن، متاثرہ حصوں کو کاٹنے، گردوں کے فیل ہونے، دل کا دورہ پڑنے، ڈپریشن اور بعض صورتوں میں خودکشی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت کو لوگوں کے صحت مند طرز زندگی کے لیے تخلیقی اور بامعنی ترغیبات متعارف کرانے پر غور کرنا چاہیے جبکہ لوگوں کو تمباکو نوشی، مصنوعی مشروبات، جنک فوڈ اور بہت زیادہ پراسیسڈ کھانوں سمیت غیر صحت بخش عادات سمیت چینی اور نمک کی مقدار کو کم کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اپنے آنے والے کل کو بچانے کے لیے بلڈ شوگر کے مو¿ثر انتظام اور بہتر صحت کی خاطر ایک صحت مند طرز زندگی اور صحت مند غذا کو اپنانا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ محدود مالی اور اقتصادی وسائل کی حامل قوم ہونے کی وجہ سے ہم مہنگے علاج معالجے کے متحمل نہیں ہوسکتے جبکہ تمام مریضوں کو علاج معالجہ فراہم کرنے کے لئے ہمارے پاس صحت کی ناکافی سہولیات اور تربیت یافتہ انسانی وسائل کا فقدان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ بیماری سے بچائو پر ہونی چاہیے جس سے آگاہی پیدا کرکے نجات حاصل کی جاسکتی ہے، 33 ملین سے زائد پاکستانی ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں لیکن ان میں سے صرف 10 فیصد کو اس بات سے آگاہی ہے کہ وہ اس مہلک مرض میں مبتلا ہیں۔ صدر نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ پولیو ویکسینیشن مہم اور کورونا کی وباءکے دوران صحت کے شعبہ میں حاصل ہونے والے تجربے سے استفادہ کریں جہاں پاکستان نے” آئوٹ آف دی باکس“ حل اپنائے اور وہ لوگوں کی زندگیوں اور معاش کو بچانے میں کامیاب رہا۔

انہوں نے کہا کہ کہ یہ تجربہ ہمیں ذیابیطس سے بچائو اور اس کے مناسب اور معقول انتظام میں مدد دے سکتا ہے۔ قبل ازیں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے پاکستان میں ذیابیطس کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غیر متعدی امراض بھی بڑھ رہے ہیں، پاکستان ذیابیطس کے سب سے زیادہ مریضوں کے ساتھ دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں تقریباً 33 ملین افراد ذیابیطس کے مریض ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں اور متعلقہ فریقوںکے اشتراک سے عام لوگوں میں ذیابیطس سے بچائو کی آگاہی مہم شروع کرنے اور مریضوں کو سستے علاج و معالجے کی فراہمی کے لیے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈنمارک کے سفیر جیکب لنلف نے کہا کہ ذیابیطس صحت کا ایک سنگین چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنے طرز زندگی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک اس بیماری کے حوالے سے ہمیشہ پاکستان کی حمایت اور اپنے تجربات کا اشتراک کرے گا۔ قبل ازیں صدر مملکت نے تقریب میں شریک صحت کے ممتاز ماہرین کو تعریفی شیلڈز بھی دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں