ڈاکٹر امتیاز عبدالقادر، سکالر

ہند میں اجنبی(قسط اول)

ڈاکٹر امتیاز عبد القادر ، بارہمولہ
[email protected]

سالِ رواں کے ابتدائی ایام تھے ، جنوری کی اکیسویں صبح ۔’ چلہ کلان‘ کے با وصف آفتاب اپنے جو بن پر تھا اور یخ بستہ ایام کے باوجود موسم خشک ۔ سرما نے تو اس سال وادی کے مکینوں ، بستیوں ،کھیت و کھلیان ، دہقان و کشت ، جُوئے اور خیابان کو پیاسا ہی رکھا۔ بارشیں ہوئی نہ ہی برف باری۔

حالات کی ستم ظریفی کے ساتھ ساتھ انسان کا اپنے ہاتھوں کمایا ہوا اُسے واپس مل رہا ہے۔گرد ونواح پر جب جب انسان اثراندازہوگا ، وہ ہم سے انتقام لیتا رہے گا۔ بہرحال21 جنوری 2018ءکو راقم نے اپنے چچیرے بھائی کی تعلیمی سرگرمی کو مہمیز دینے کے لئے اُس کے ہمراہ چمنِ سرسید کی راہ لی۔

تین بجے کی فلائٹ تھی ۔صبح گیارہ بجے گھر سے نکلے اور سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈّہ جو کہ ہوائی اڈّہ کم البتہ فوجی چھاﺅنی زیادہ ہی لگتی ہے، قبل از وقت ہی پہنچے۔ جوں جوں بابِ شیخ العالم سے ہم آگے بڑھتے گئے ، احساس پختہ ہو تاگیاکہ

موت ہے اِک سخت ترکہ جس کا غلامی ہے نام!

سری نگر ہوائی اڈّے میں حسبِ معمول مسافروں کا اژدھام تھا۔ وادی سے جانے والا ، ہند و بیرونِ ہندسے وارد ہونے والے کالے ، گورے ، گندمی رنگ کے سیّاح باہم گتھم گتھا ہو رہے تھے اور ہم کرسی پر بیٹھ کرvistara جہاز کی ٹوہ میں لگ گئے۔ چند لمحوں بعد مذکورہ جہاز اپنے مہمانوں کی میزبانی کے لئے فلک سے فرش کا سفر طے کر رہا تھا ۔ ضروری و ’ غیر ضروری‘ لوازمات پُر کر کے ہم جہاز میں سوار ہوئے اور مقررہ وقت پر جہاز نے پرواز بھر دی ۔

ابتداء آہستہ خرامی سے بعد ازاں بہت تیزی سے آسمان سے باتیں کرتے ہوئے جہاز منزل کی طرف محوِ پرواز ہوا ۔ پلک جھپکتے ہی جہاز بادلوں پر تیر رہا تھا اور دیدہ شوق قدرت کی صناعی ، اس صنعت میں توازن ، خوبصورتی اور ہم آہنگی کو دیکھ کر اش اش کرنے لگا۔ زبان اللہ کی بے عیب تخلیق کو دیکھ کر بار بار ’سُبحان اللہ ‘ کا وِرد کر رہی تھی۔ بادلوں کے اوپر سے فرش پر ’ رینگتے‘ انسان ، دیوہیکل پہاڑ، ندی نالے، بہتے دریا ، منجمد جھیلیں ، سڑکوں پر بہتی گاڑیاں اولوالالباب کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ خالق نے یہ سب عبث پیدا نہیں کیا بلکہ ایک مقصد کے تحت ہی فرشِ زمیں اور فلک نا پیدا کنار کو مخلوقات سے بھر دیا گیا ہے۔

بلندی پر جاکر بادلوں کی طرف دیکھیں تو جابجا وہ پہاڑوں کی مانند ایستادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ کے حکم سے جیسے ساکن اور منجمد پربت ہوں۔ وہ نظارہ بہت ہی دل فریب ہوتا ہے۔ آسمان کو بغیر ستون کے پیدا کرنے والی ذات بادلوں کو جہاں چاہے ہانک دے اور جہاں چاہے برسنے کا حُکم کرے۔ اس پردہ سحاب کے پیچھے چاند بھی اکثر و بیشتر ہم اہل زمیں کے ساتھ آنکھ مچولی میں مصروف رہتی ہے۔ یہ پوری کائنات صاحبِ خرد کو دعوتِ فکر دیتی ہے۔

موقع دیکھ کر راقم نے بادلوں کے قریب جا کراُن سے’ مکالمہ‘ کیا اور وطن عزیز کے سُوکھے ہونٹوں اور پیاسی زمیں کی شکایت پہنچائی ۔ میں نے پوچھا تو کیسا ابر ہے جس کے برسنے کی ہر پل امید لگائے آنکھیں تشنہ طلب رہتی ہیں ۔ کشمیر کی مٹی میں ’ جنموں‘ کی پیاس ہے ۔ ہر سُو سوکھا ہے ، ہر دل مضطر…. زندگی اِک بُوند کو ترستی ، ہر لب تشنہ ہے، ہر دل سوختہ…. !

پردہ سحاب سے ندا آئی کہ یہ نالہ و فریاد کیونکر؟ تم ضمیر فروش ، ایمان فروش ، سیاہ دل…. اپنوں کے بہتے بوندوں سے تشنہ نہیں ہوئے؟ ایک لال رنگ کا بوند جو’ صدیوں‘ سے وہاں ارزاں ہیں اور ایک آنکھوں سے بہتی بوند جو ہر ماں کا شکوہ ہے…. تم دل چاک، بدن چاک ، گریباں چاک شکر کے بوند کے لائق نہیں ۔ تم کو مجھ سے گلہ نہ ہو۔ تم لوگ تو وہاں اپنے ہی لخت جگر وں کے خون سے شادکام ہو ، تمہاری مٹی کو اب میری بوندوں کی حاجت نہیں۔

سینچائی کے لئے اب تم لوگوں کے وہ ’ دو قطرے‘ ہی کافی ہیں، جو بوند بوند ٹپکتے ہیں ۔ ہر گلی ، ہر نُکڑ، گام و شہر ، بازار ، دہقاں ، کشت و خیاباں میں ۔ اِک بیکراں آبِ جو…. گرم و تازہ سُرخ رنگ…. تو یہ شکوہ و فریاد کیسا؟ یہ سماعت کرنے کے بعد نالہ و فریاد کے لئے اُٹھی میری گردن جُھک گئی اور ہو نٹ سی لئے….!

اندرا گاندھی ائیر پورٹ ، دہلی ، بھارت

لمحوں میں ، ہوا سے باتیں کرتے ہوئے جہاز ہندوستان کے دار السلطنت دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈّے کے ٹرمنل تین پر آہستہ خرامی سے اُتر تا چلا گیا ۔ قریباً ساڑھے چار بجے شام ہم ہوائی اڈّے سے نکلے ۔ موسم خوش گوار تھا۔ سرما نے وہاں کی گرمی کو بھی زیر کر دیا تھا ۔ لُو نے بھی سپر ڈال دئیے تھے۔ ٹیکسی میں سامان لاد کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی راہ لی ، جہاں رات محمد شاہد لون صاحب کے پاس گزار کر اگلی صبح علی گڑھ کے لئے عازم سفر ہوئے۔ شاہد لون صاحب خواجہ باغ بارہمولہ کے رہنے والے قابل اور ہونہار اسکالر ہیں۔

‘Political Economy of Islam’ عنوان کے تحت پی ایچ ڈی کا مقالہ ترتیب دے رہے ہیں۔گزشتہ سال جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اسکالرشپ پر آکسفورڈ یونیورسٹی لندن میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا اور وہاں کی دیگر چند جامعات میں مختلف موضوعات پر محاضرات (lectures) بھی دئیے ۔ زُود نویس بھی ہیں۔ قومی وبین الاقوامی انگریزی اخبارت ورسائل میں ان کی نگارشات شائع ہوتی رہتی ہیں۔ موصوف نے بڑے تپاک سے ہمار ا استقبال کیا۔ رات بھر میزبانی کی اورصبح ’حمّال‘بن کر ہمارا سامان ’ناتواں ‘ کندھوں پر لادکر علی گڑھ جانے والی گاڑی تک پہنچایا۔

علی گڑھ کو برصغیر میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ سن اٹھارہ سو ستاون میں جب مسلمانوں کی عظمت کا ’ جنازہ ‘ نکل رہا تھا ۔ ٹمٹماتے چراغ گوروں کی آندھی سے بُجھ گئے تو سرسید احمد خان نے بھارت کے اس شہر سے توقعات وابستہ کیں ۔ انہوں نے علی گڑھ ہی کو تعلیمی ، ادبی اور سیاسی تحریک کا محور بنایا ۔

فی الوقت یہ شہر اپنے تالوں کی صنعت کی وجہ سے بھی بہت مشہور ہے۔ اٹھارہویں صدی سے قبل علی گڑھ کا نام ’کول‘ (kol ) تھا۔ مورخین کے مطابق یہ نام اس شہر کو بلراما نے دیا تھا۔ ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفرنامہ میں اس شہر کو اسی نام سے یاد کیا ہے۔ بالآخر مختلف ’ نام کرن‘ کے بعد ستارہویں صدی میں ایک شیعہ کمانڈر نجف خان نے اس شہر کو فتح کر کے اس کانام ’ علی گڑھ‘ رکھا۔

دوپہر کے قریب ہم چمنِ سرسید میں داخل ہوئے ۔ رکشا پر سوار پانچ سال قبل کا منظر آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگا۔ جب راقم ریسرچ کے لئے علم کی اس وادی میں پہلی دفعہ داخل ہو ا تھا ۔ اس بار کافی تبدیلی دیکھنے کو ملی ۔ علی گڑھ میں کیمپس کے احاطے میں عزیزانِ من وسیم مکائی صاحب اور عبدالحسیب میر صاحب کے پاس مسافرت کے یہ ایام گزارنا طے پایا تھا۔

برادر وسیم مکائی صاحب چھٹیوں میں جب کشمیر میں تھے تو کہا کرتے تھے کہ علی گڑھ میں کیمپس کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ صفائی ستھرائی کا خیال نہیں۔ کلاسز میں موجود’ بارِ تشریف‘ کو اٹھانے والے بینچز اور کرسیوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو سر سید احمد خان مرحوم نے اپنے زمانے میں خود اپنے ہاتھوں سے صاف کیا ہے ، تب سے اب تک کسی کی مجال جو انھیں ہاتھ لگائے لیکن راقم کا مشاہدہ اس سے اِبا کر رہا تھا ۔

منظرنامہ تبدیل ہو چکا تھا۔ خوشگوار تبدیلی آچکی تھی ۔ پانچ سال قبل کی ناپختہ سڑکیں ، پختہ ہو چکی تھیں۔ صفائی سُتھرائی کا اعلیٰ انتظام تھا ۔ عمر رسیدہ ’ بوڑھی‘ عمارتوں کو رنگ روغن کے ذریعے ’جوانی ‘ کا لیپ چڑھایا گیا تھا۔ بعض نئی عمارتیں بھی منصہ شہود پر آچکی تھیں۔ غرض ان پانچ سالوں میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے کافی ترقی کر لی ہے۔

رکشا ’محسن الملک ہال‘ کے مولانا محمدعلی جوہر ہاسٹل کی دہلیز پر رُکا اور ہم تھکاوٹ سے چُور ، بھوکے ، پیاسے وسیم مکائی صاحب اور عبدالحسیب میر صاحب کے آشیاں میں جا گُھسے۔ وسیم مکائی صاحب نے خندہ پیشانی سے پُر تپاک استقبال کیا۔ نماز کے بعد تسکینِ شکم کا سامان ہوا اور دراز ہو کر تھوڑی دیر قیلولہ کیا۔( جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں