پھیپھڑوں کے مرض کی شکار باحجاب نوجوان خاتون

پھیپھڑوں کے امراض سے کیسے محفوظ رہیں؟

ڈاکٹر حکیم وقار حسین

جس طرح انسان ہر جانب سے احاطے میں ہے یعنی اوپر آسمان ، دائیں بائیں ، آگے پیچھے ہوا اور نیچے زمین۔ اسی طرح اعضاء مرؤس (خادم عضو جو قلب کو صاف خون مہیا کرتا ہے ) چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے، جسے عمومی طور پر ’ پھیپھڑا ‘ اطباء کی اصطلاح میں ’ رئیتین ‘ کہتے ہیں ۔

پھیپھڑے سامنے اور پچھلی جانب اضلاع ( سینے کی ہڈیوں ) سے جہاں محیط ہے وہاں اوپر سے دماغ نچلی طرف جگر و معدہ کے احاطے میں ہیں ، پہلو میں قلب ہے ، جسے سرخ اور آکسیجن ( ہوائے نسیم ) سے بھرپور خون بہم پہنچاتے ہیں۔

پھیپھڑے میں درد محسوس کرنے میں اعصاب بہت تھوڑے ہیں، اس لیے اس کے امراض میں مبتلا حضرات درد سینہ کے بجائے دوسرے عوارض کا شکار ہوتے ہیں ۔ اسفنجی اور نازک ساخت کی وجہ سے جلد متاثر ہوتے ہیں ۔ پھیپھڑوں میں چھلنی والے کام انجام دینے والے دینے والے اجزاء ’ سیلیا ‘ کافی نازک ہیں ، مگر کچھ اجسام ِ غریبہ ( بیکٹیریا ، وائرس ، فنگس ) ان سیلیا کے چھاننے میں نہیں آتے بالکل جیسے قہوے بناتے ہوئے کچھ اجزاء چھلنی سے باہر آجاتے ہیں۔

پھیپھڑوں تک ہوا پہنچانے کا کام ہوائی نالی ( ٹریکیا ) انجام دیتا ہے ، اب ہوا ہوائی نالی سے پھیپھڑوں کے اندر پائی جانے والی عروق ِ خشنہ ( برانکیولز ) تک پہنچاتی ہے ، جو تعداد میں دو عدد ہیں ، ایک دائیں اور دوسرے بائیں پھیپھڑے کو یہ ہوا منتقل کرتی ہے۔ آخر میں یہی ہوا چھنتے چھنتے ہوائی کیسوں ( ایلوویلائی ) تک پہنچتی ہے، ان ہوائی کیسوں سے متصل ( ملی ہوئی ) بہت سی باریک شریانیں ہیں جو ایک خاص طریقے ’ ڈفیوژن ‘ سے اسی صاف شدہ ہوا کو خون تک پہنچاتی ہے ۔

بیماری اور عوارض جن سے پھیپھڑے اذیت اُٹھاتے ہیں، بنیادی طور پر یہیں سے شروع ہوتے ہیں۔ اب اگر آلودہ ہوا ہوائی کیسوں تک پہنچے گی تو یقینا خون میں بھی آلودگی پہنچے گی، اب اگر کوئی جرثومہ پہنچ گیا تو وہ اپنی تاثیر ضرور آشکار کرے گا ، اسی لیے بعض لوگوں کو بخار کی شکایت ہو جاتی ہے تو بعض کو نہیں ہوتی، مگر خرابی کی وجہ پھیپھڑے کا جراثیم ہی ہوتا ہے۔

پھیپھڑے کب بیمار ہوتے ہیں؟

پھیپھڑوں کے اذیت ناک ہونے کے تین درجات ہیں۔ (الف) جراثیم (ب) حساسیت (ج) مزاج کی خرابی۔

(الف) جراثیم اگر پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو پہلے ماحول کا مشاہدہ کرنا ہوتا ہے، اردگرد کوئی بیمار تو نہیں، یا کوڑا کرکٹ کا ڈھیر تو نہیں یا نالہ تو نہیں بہہ رہا. ایک علامت سڑی ہوئی بدبو ہے کہ یہ جہاں محسوس ہو ، وہاں سے دور رہنا چاہیے ، کیونکہ یہاں ایسے جراثیم کی افزائش ہے جو ناک کے خلیات محسوس کر رہے ہیں۔ اگر ان کا تعلق ناک سے نہ ہوتا تو ناک بدبو نہ محسوس کرتی ، یہی جراثیم بذریعہ ناک پورے ہوائی آلات تک رسائی کرتے ہیں۔

(ب) حساسیت: بعض اشخاص میں کچھ خاص اجزاء جو ہوا میں پائے جاتے ہیں ان سے حساسیت ہوتی ہے یعنی جیسے ہی ناک کے خاص آخذ خلیات ( ری سیپڑرز ) انہیں محسوس کرتے ہیں تو خاص کیمیاوی اجزاء ( ہسٹامینز ) افراز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان حضرات کی آنکھ سے آنسو نہیں رکنے پاتے اور چھینکوں کی قطار بن جاتی ہے ، جس پر سر درد مزید تکلیف پہنچاتا ہے تو دوسری جانب ناک بہنے کا عارضہ الگ لاحق ہوجاتا ہے۔

یہ آثار صرف پولن الرجی تک ہی محدود نہیں بلکہ بلّی کی جلد، شہتوت کے درخت سے اُڑنے والے اجزاء تو کہیں گندھک (سلفر) ملے اجزاء بھی اذیت پہنچاتے ہیں۔ آخر یہ آخذ خلیات مخصوص حضرات کو ہی کیوں متازی کرتے ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ ان حضرات میں یہ خلیات دوسروں کی نسبت زیادہ چست ہوتے ہیں خواہ پیدائشی طور پر ہوں یا بعد میں کسی وجہ سے۔

(ج) مزاج میں خرابی : پھیپھڑوں کا مزاج رطوبت کی جانب زیادہ مائل ہے ، کیونکہ دماغ سرد اور تر ہے، لہذا دماغ سے رطوبت پاتا ہے، نچلی جانب جگر گرمی اور خشکی پہنچاتا ہے ، مگر معدہ گرمی اور تری ( یعنی گرم بخارات ) کا احساس پھیپھڑوں کو پہنچاتے ہیں۔ لہذا اگر پھیپھڑوں کا مزاج خشکی کی جانب ہو تو خشکی عروق ِ خشنہ کے عرض ( چوڑائی ) میں کمی کا باعث بنے گی ، لیکن اگر رطوبت بڑھ گئی تو یہی رطوبت ان عروق کو بھر کر تنگی کا باعث بنتی ہے،

اس لیے پھیپھڑوں کے علاج کے وقت جگر اور معدے کا لحاظ کرنا پڑتا ہے، مگر ہمارے ہاں مشہور کر دیا گیا ہے کہ اطباء صرف جگر اور معدے کی اصلاح کر سکتے ہیں اور ہر مریض کے جگر اور معدے کی خرابی کا نام ڈال دیتے ہیں، آخر معدے کی گرمی والوں کو ریشہ آتا ہے جو عموماً اور کسیلے ذائقے کا ہوتا ہے، جبکہ جگر کی وجہ سے آنے والے ریشے کا رنگ پیلا اور قدرے نمکین ہوتا ہے۔

پھیپھڑوں کے امراض زیادہ تر بچوں ہی کو کیوں لاحق ہوتے ہیں ؟

پھیپھڑوں کے امراض ان لوگوں میں زیادہ ہوتے ہیں جن میں کسی بھی وجہ سے ان جراثیم کے خلاف ’ اینٹی باڈیز ‘ ( وہ اجسام جو پہلی بار جراثیم کے داخل ہوتے وقت پیدا ہوتے ہیں اور انہیں جسم سے خارج کرتے ہیں ، پھر خون میں ہی رہتے ہیں، اگر دوبارہ وہی جراثیم داخل ہو جائیں تو امراض لاحق ہونے سے پہلے ہی جرثومہ کو جسم سے خارج کرتے ہیں )کی کمی ہوتی ہے۔

بچوں میں ابھی یہ ’ اینٹی باڈیز ‘ خون میں نہیں ہوتے لہذا وہ امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جس طرح کپڑا جتنا صاف اور سفید ہو اتنے جلدی داغ نظر آتے ہیں۔

پھیپھڑوں کو صحت مند کیسے رکھیں؟

تازہ ہوا جس میں آلودگی بالکل نہ ہو، وہاں ہلکی دوڑ لگائیں تاکہ پھیپھڑوں میں تازہ ہوا سرایت کرے ، جس کی بدولت صاف خون قلب میں آئے گا اور یوں جسم میں صاف خون گردش کرے گا ۔ اگر مجبوری میں ایک دم محسوس کریں کہ آلودہ ہوا چل رہی ہے تو بہت آہستہ چلیں اور سانس بھی آہستہ لیں ۔

لیس دار خوراک مثلاً بھنڈی، اروی وغیرہ کم کھائیں تاکہ رطوبت کم بنے ، مگر کھائیں ضرور ورنہ ان میں موجود صحت افزاء اجزاء سے محروم رہیں گے ، یہ قبض بھی کھولتی ہیں۔

گرم مصالحوں سے پرہیز کریں تاکہ معدے میں گرمی نہ ہو ۔

ہفتے میں ایک بار ایسے علاقے کی طرف ضرور جائیں جہاں صاف پانی بہہ رہا ہو ، یہ بہترین دوا ء ہے دماغ اور نظر کو بھی بہتر کر تی ہے۔ جب سورج طلوع ہو رہا ہو ، اس وقت ننگے پاؤں گھاس پر چلیں , یوں جسمانی خلیات جہاں گھاس پر پڑے صاف پانی کو جذب کریں گے وہاں اس کی خوشبو پھیپھڑے ، دل اور دماغ کو قوت اور توانائی پہنچانے کا ذریعہ بنے گی . کبھی مشاہدہ کریں ایسا کرنے سے بند ناک فوراً کھل جاتی ہے۔

پھیپھڑوں میں خرابی کی علامات

چہرے کے رنگ کا نیلگو ں یا زرد ہونا کیوں کہ ردی خون جسم میں گردش کر رہا ہوتا ہے۔ بلاوجہ کھانسی کا آنا، کیونکہ جب ہوا زیادہ اور ہوائی نالیاں تنگ ہوں تو کھانسی آتی ہے ۔ معدے کی خرابی ، سر کا وقتاً فوقتاً بوجھل ہونا ، جسمانی چستی میں کمی ، بھوک کی کمی ، جو فولادی اجزاء کی کمی سے بھی ہوتا ہے ، نیند اور بیداری کے وقت طبیعت کا بوجھل ہونا ، سوتے ہوئے خرانٹوں کے ساتھ ساتھ سینے سے مختلف آوازیں آنا ( یہ کیفیت جرثومہ یا پھیپھڑے کی ساخت میں خرابی کی وقت سنائی دیتی ہیں)۔

پھیپھڑوں کی صحت کے لئے اسٹیم ( بپھارہ ) کیوں ضروری ہے ؟

جو بھی ادویہ بذریعہ دہنی کھاتے ہیں وہ ایک مرحلے سے گزر کر خون کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچتی ہیں۔ بھپارہ (اسٹیم) بلاواسطہ پھیپھڑوں تک پہنچتی ہے۔

ہمارے ہاں اکثر عام پانی سے بھپارے کا کام لیتے ہیں، یہ درست صرف اسی صورت میں ہے اگر پانی جراثیم سے بالکل پاک ہے، اگر نمکیات بھی پھیپھڑوں میں پہنچتے ہیں تو خراشی کا سبب بن جاتے ہیں، اس لیے پانی میں دوا یا قدرتی ادویہ مثلاً برگِ سفیدہ، کلونجی، سونٹھ وغیرہ کا اضافہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ قدرتی اجزاء نہ صرف عروقِ خشنہ کو عریض کرنے میں بلکہ اجسامِ غریبہ سے نجات دلانے میں بہت معاون ہیں۔

بھپارہ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جن کا معدہ ادویہ کا استعمال برداشت نہیں کرسکتا، وہ اپنے پھیپھڑوں کی حفاظت اور قوتٍ مدافعت بڑھا سکتے ہیں۔

یادر کھیں اپنے ماحول کو صاف رکھیں ، انسانی زندگی کا دارومدار نہ جسمانی حجم پر ہے نہ مال و متاع پر اور نہ ہی غصّہ اور رعب پر ہے۔ جہاں سانس بند ہوئی خواہ حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے یا شدّت ِ غم کی وجہ سے، انسان کی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں