گوہر رحمٰن گہر مردانوی

چونچ

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

کنکریاں ڈال ڈال کر پیاسے کوے کی چونچ پانی تک پہنچانے والا ہمارا نصاب تعلیم ہوش سنبھالنے سے لے کر تدریس میں آنے کے بعد بھی بڑی ہوشیاری کے ساتھ اسی مقام پر اٹکا ہوا ہے جیسے بچوں کو کچھ نیا سکھانے والا ادب ابھی تک تخلیق ہی نہیں ہوا۔ اگرچہ بعض بہ زعم خود ادیب نما مصنفین ٹانکے لگا لگا کر ادبیات کے پی کے کو بہت کچھ دینے کے دعوے دار نظر آتے ہیں لیکن قطع و برید کے اس عمل میں کتنا خود تخلیقی کام شامل ہے اس کا ادراک خود صاحب تصنیف کو بھی نہیں۔ کیونکہ موصوف وہاں بھی چونچ مارتا نظر آتا ہے جہاں اس کا رشتہ سوتیلا بھی نہیں جبکہ ہرجگہ چونچ ماری نے اسے مردار خور تک بنا ڈالا ہے۔ لیکن شاید ایسوں کی چمڑی سؤر کی ہوتی ہےجس میں غیرت رتی بھر پائی نہیں جاتی اور موصوف پالتو کبوتروں کی طرح مالک کے گرد دُم ہلا رہا ہوتا ہے۔

ہم جیسے تو چونچ ہلانے سے پہلے سو بار اس متوقع جملے کی صحت بارے منتشر سوچوں کو مجتمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مبادا کوئی غلطی کرکے سبکی نہ ہو اور اندر کا ادیب خود ملامتی پر آکر خود اذیتی کا شکار نہ ہو، لیکن بعضوں کو شہرت اور دولت کا ایسا چسکا چڑھا ہوتا ہے کہ انھیں اپنے اس طرزعمل پر ندامت تک نہیں ہوتی بلکہ دیدہ دلیری اتنی کہ اپنے غلط تک کو حرف آخر سمجھ کر مہرِ تصدیق ثبت کردیتے ہیں۔

جس طرح مرغانِ نوا اپنی اپنی منفرد چونچوں سے پہچانے جاتے ہیں، اسی طرح ادب میں بھی سب سے الگ تھلگ اور منفرد لکھنے والے تحریر کے پہلے دو جملوں سے دور  سے نظر آجاتے ہیں کہ صاحبانِ تحریر کس درجے کے ادباء و شعراء ہیں مگر یہاں ایسے نگینے ہمیشہ گدڑی میں ہی پائے جاتے ہیں یا بحر ادب کی عمیق گہرائی میں منہ کھولے قطرۂ نیساں کے منتظر ہوتے ہیں۔

اب اگر نہگِ تیز رو موج دریا سے سبقت لے کر ہڑپ کر جانے میں کامیاب ہوتا ہے تو موتی اپنی پیدائش سے پہلے ہی نابود ہوجاتے ہیں لیکن قطرۂ نیساں کروڑوں میں ایک بھی اگر سیپی میں گر کر گہر بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو صد سالہ تاریخ بھی اس کی چمک دھندلا نہیں سکتی لیکن بدقسمتی وہاں آڑے آجاتی ہے جب چیل کوے لب ساحل چونچ مار مار کر مردار کےساتھ نگینے تک نگل جاتے ہیں تو وہاں ادب کی ریت چھان چھان کر موتی چننے والا موتی شناس دستیاب نہیں ہوتا جس طرح انگریزی ادب میں the pearl  ناول کا مرکزی کردار کینو نے ایک بڑا اور نایاب ہیرا تو پالیا تھا مگر موقع شناس جوہری اونے پونے خرید رہے تھے اور کینو بےچارے کو اس کی اصل قدرو قیمت معلوم نہیں تھی۔

آج کل ادبی تنقید بھی کچھ اس ماحول میں ہوتی ہے کہ جب دو سوتنیں مقابل ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور شوہر کی نظروں میں خود کو نیک پروین اور دوسری کو بازاری ثابت کرنے کے لیے چونچ بازی ہوتی ہے۔ اگرچہ شوہر کو پتہ ہوتا ہے کہ کون سی کس درجے پر فائز ہے مگر پھر بھی خاموش تماشائی بنا دونوں کی لڑائی سے حظ اٹھا رہا ہوتا ہے۔

کچھ استاد نما شعراء کرام میں بھی حسد کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے اور اپنے مدمقابل جو شاید ان کا مقام چھیننے لگا ہو کے کلام پر بلاوجہ چونچ ماری سے باز نہیں آتے کیونکہ ہوسکتا ہے ان سے دوسرے کا معیار نگلا نہ جاتا ہو اس لیے یہ خاکسار اس قبیل کے لوگوں سے دور بھاگتا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ فیصلہ وقت کے ساتھ تخلیق نے کرنا ہوتا ہے کہ غالب مہان تھا یا ظفر شاہی استاد ابراھیم ذوق عظیم تھا  کیونکہ مہانتا کا یہ حال کہ جب سر بازار شعر میں بھپتی کسی جاتی ہے تو بھری محفل میں عزت گھٹانے کے لیے کلام کی شرط رکھی جاتی ہے لیکن اس چونچ بازی میں غالب کی سخن شناسی سرخرو ہوجاتی ہے اور ذوقِ حسد اپنا سا منہ لے کر الٹا داد دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

مسابقت میں رشک کا پہلو تو بنتا ہے لیکن حسد کی گرمی میدان ادب کو گرمانے کی بجائے نفرت کی حدت بڑھا دیتی ہے اس لیے ادب میں کسی کو اسناد اور عہدے میں تول کر مہانتا کا فیصلہ کرنا قطعاً غلط ہے۔ ادب اگر معیاری ہے تو شاہ زمانہ بھی فٹ پاتھ پر پڑے ساغر مدہوش کو پوچھنے آسکتا ہے۔ اگر سوقیانہ یا وقتی ہے تو وقت کی دھول میں فنا ہوجاتا ہے لہذا فی الوقت ہر کوئی اپنی چونچ بند رکھیں اور حالات کے دھارے پر نظر رکھیں کہ اونٹ نے کس کروٹ بیٹھنا ہے۔

چونچوں کی کار کردگی پر بات ہوتی ہے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ماہی خور اپنی لمبی اور نکیلی چونچ سے پانیوں کے اندر سے مچھلیاں نکال لیتا ہے لیکن اگر گدھ کی بھدی چونچ پر نظر پڑتی ہے تو وہ دھوپ میں بیٹھا اپنے گدلے وجود سے اس کے ذریعے جوئیں نکال رہا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کی چونچ بھی اس قبیل کی ہوتی ہے کہ بلاسبب ہرجگہ مار مار کر ٹیڑھی کرلیتے ہیں لیکن خشم کا ٹیڑھ پھر بھی نہیں جاتا۔

یہ وہ گدھ ہیں جو مردار کھانے کے بعد چونچ پروں سے رگڑ رگڑ کر صاف کرتے ہیں تاکہ کسی کو گند کھانے کا گمان نہ ہوں۔ جنگل میں منگل انہی چونچوں کی وجہ سے ہی رہتا ہے کہ چونچ سرخوشی میں مختلف راگ چھیڑ رہی ہوتی ہے اور سامع جنگلی طیور کی خوشنوائی پر جھوم جھوم اٹھتا ہے اگرچہ کوے کی کاغ کاغ اور شکروں کی منمناہٹ سے سر وتال میں خلل بھی پڑتا ہے لیکن مرغانِ نوا کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہتا ہے بس یہ کہ جنگل جتنا خموش ظرف درکار ہے۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

ایک تبصرہ برائے “چونچ”

  1. مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی Avatar
    مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی

    ماشاءاللہ محترم گوہر رحمان گہر جنہیں ہم بابائے اردو مردان کہتے ہیں نہایت شفیق انسان اور محبت میں بے مثال استاد الشعراء جنہیں دنیا ادب کا تاج مانتی ہے
    میرے ساتھ ان کا بہت گہرا تعلق ہے بلکہ جب تک میرا کلام دیکھ نہ لیں میں مطمئن نہیں ہوتا
    اللہ تعالیٰ ان کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے آمین ثم آمین

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے