کراچی ، پاکستان

حق دو کراچی کو

قدسیہ ملک

بجلی کی لوڈشیڈنگ اووربلنگ کے بعد سردیاں اس شہر کراچی پر زحمت بن کر نازل ہوئی ہیں . ایک تو ویسے ہی کڑاکے دار سردی پڑ رہی ہے اوپر سےآئے روز گیس کا مسئلہ ۔۔۔۔ اب صاحب خانہ لکڑی کا چولہا لے آئے ۔ برتن تو ویسے ہی بہت کالے ہو گئے ہیں ۔۔۔ رگڑ رگڑ کر ہاتھ الگ زخمی ہوگئے ہیں ۔۔۔ سوچ رہی ہوں کہ کبھی آج تک لکڑی کا چولہا استعمال نہیں کیا ۔ دنیا روز بروز ترقی کررہی ہے ۔۔۔ نت نئی ایجادات ہورہی ہیں ۔۔۔ اور ہمارے شہر کو نہ جانے کس کی بددعا لگ گئی ۔۔۔ ترقی یافتہ شہر دن بدن پس ماندہ ہوتا جا رہا ہے ۔۔

کراچی , روشنیوں کا شہر جسے ” غریبوں کی ماں ” کا لقب دیا گیا تھا …. یہاں کی گلیاں ، چوبارے اور چوراہے غریبوں کے لیے ہر وقت کھلے رہتے تھے … اس کی معیشت پر ملکی معیشت کا انحصار ہوا کرتا تھا .. مملکت خداداد کے میٹروپولیٹن شہر کا اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف قومیتوں , قبیلوں , ذات , برادریوں کا مسکن تھا . ملک بھر سے لوگ یہاں روزگار اور تعلیم کے لئے آتے تھے…
لیکن رفتہ رفتہ یہاں کی رونقوں کو دشمن کی نظر لگ گئی … غیروں کی سازشوں اور اپنوں کی بے اعتنائی نے آہستہ آہستہ اس شہر کا امن ختم کردیا.

وہی کراچی جو ملکی سیاست ، معیشت ، معاشرت ، صنعت وثقافت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا ، اپنوں کی رقابتوں ، انتقام اور سازشوں کی نذر ہوگیا … قتل و غارت گری ، چوری ، دن دهاڑے قتل ، بھتہ ، ٹارگٹ کلنگ ، عصمت فروشی ، ڈکیتی ، لوٹ مار ، فتنہ و فساد اور لسانی جھگڑے یہاں روز کا معمول بن گئے ….

عصبیت کی بھڑکائی ہوئی آگ اس قدر بڑھی کہ سال کے بارہ مہینے کراچی اس آگ میں سلگتا رہتا ہے ۔ کبھی بھائی لوگوں کے بھتے پورے نہ ہونے پر مزدوروں سے بھری فیکٹری نذر آتش کردی جاتی ہے ، کبھی ٹیکسوں کی بہتات اور کے الیکٹرک کی غنڈہ گردی سے شہر اندھیاروں میں ڈوب جاتا ہے ۔ کبھی دن دہاڑے موبائل چھیننے کے دوران میں معصوم نوجوانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے . کہیں گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے ۔ کہیں گٹر ابل رہے ہیں تو کہیں کچرا آسیب بن کر بیماریاں پھیلارہا ہے۔

پہلے ہم کراچی کے باسی صرف کچھ اچھے وقت کے لئے ہی باربی کیو کے لئے کوئلے اور لکڑی کے چولھوں پر کچھ چکن اور گوشت بھون لیتے تھے لیکن اب یہی کوئلہ اور لکڑی مستقل ہمارا مقدر بنادیا گیا ہے ۔۔۔۔

وہ پرویز مشرف جو پتھر کے دور میں جانے سے ڈراتا تھا، اب دیکھیے اس کے لگائے ہوئے بیج تناور درخت بن کر کھڑے ہیں ۔ یہاں آدمی اپنے سائے سے بھی ڈرتاہے ۔ جس ملک ( افغانستان ) کو تم نے آگ میں جھونکا وہ ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتا جا رہا ہے , پتھروں میں رہنے والے دوسری سپر پاور کو شکست دے کر ترقی کی دوڑ میں اقوام عالم کا مقابلہ کرنے کو تیار کھڑے ہیں اور ہم اپنا جائز حق بھی اپنا خون بہا کر لے رہے ہیں .

ایک میئر جو صاف کردار، امانت دار، اسلامی تعلیمات کا پاس داراور حافظ قرآن ہے ۔ اسے مئیر بننے سے روکنے کے لئے دنیا بھر کی دو نمبریاں ، چال بازیاں ، مکاریاں ، خون ریزیاں اور فسادات کر رہے ہو ۔۔۔ کیا کراچی کے عوام کو بحیرہ عرب میں ڈبونا چاہتے ہو ۔ آخر چاہتے کیا ہو تم لوگ ؟

کراچی جیسا روشنیوں کا شہر تاریک کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے ۔۔۔ خدارا ! شہر کو اس کا جائز حق دے دو ۔۔۔ اس شہر کے عوام پر رحم کرو ۔۔ یہاں کے باسیوں کو پتھر دور میں مت دھکیلو ۔ پوارا پاکستان کراچی کے غموں پر رو رہا ہے ۔

خدارا ! ہوش کے ناخن لو ۔۔۔ اللہ سے ڈرو ، جب اللہ پکڑتاہے تو پھر کوئی بھی اس کی پکڑ سے بچا نہیں سکتا ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں