بزم درویش ، پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

شاہی کھانا

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

شہر کے مہنگے ترین علاقے میں ، کئی کنالوں پر مشتمل محل نما گھر کے وسیع و عریض ڈرائینگ روم کے جہازی سائز کے نرم و گداز صوفے پر میں جیسے ہی بیٹھا میرے سامنے چاندی کی تھال نما طشتری پیش کی گئی جو لبالب نکلے ہوئے چلغوزوں سے اُبل رہی تھی ۔ اتنی زیادہ تعداد میں چلغوزے ، وہ بھی نکلے ہو ئے ، میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھے تھے ۔ لوگ ہو شربا مہنگائی کی وجہ سے اب چلغوزوں کو تصویروں میں ہی دیکھتے تھے جبکہ یہاں پر چلغوزے نکال کر ڈھیر لگا دیا تھا ۔

میں ابھی حیرت سے چلغوزوں کے منظر سے اپنی آنکھوں کو تراوٹ بخش رہا تھا کہ میرے میزبان نے مٹھی بھر کر چلغوزے میری طرف بڑھا دئیے ۔ میں نے دونوں ہاتھ سامنے کئے تو میزبان نے دو تین مزید بھری ہوئی مٹھیاں میرے ہاتھوں میں ڈال دیں ۔ ابھی میں اِس منظر سے سحر زدہ تھا کہ میزبان کے ملازم پر نظر پڑی ۔

سرخ زری لباس میں خوبصورت جوان لڑکی چلغوزے کی طشتری لیے چہرے پر دل آویز تبسم لیے کھڑی تھی ۔ میں نے شکریہ کیا تو سرخ مورت کے منہ سے شکریہ کی مردانہ آواز نکلی تو یہ جھٹکا لگا کہ میرے سامنے لڑکی نہیں بلکہ خواجہ سرا کھڑا ہے جس نے عورت کا بہروپ اپنا رکھا ہے ۔

میزبان اپنی امارت کے ساتھ مجھے اس طرح حیران کر رہا تھا کہ میں خاندانی رئیس ہوں جو گھروں میں مردوں کی جگہ ہیجڑوں کو ملازم رکھتے ہیں ۔ یہ روایت دنیا بھر میں شاہی خاندانوں میں پائی جاتی تھی ۔ مغلیہ خاندان اور باقی سلاطین جنہوں نے ہندوستان پر راج کیا اپنے حرم سرا میں عورتوں کی حفاظت اور خدمت کے لیے اِن ہیجڑوں کو ملازم رکھتے تھے ۔

یہ رواج اِس قدر بڑھا کہ شاہی خاندان کے علاوہ وزیروں مشیروں کے درباریوں نے بھی اپنے گھروں میں ملازم ہیجڑے رکھے تھے ۔ اِس طرح وہ بھی خواتین کو محفوظ سمجھتے تھے ۔ اب جن لوگوں نے سینکڑوں کے حساب سے حرم سراؤں میں دنیا جہاں کی خوبصورت عورتیں رکھی ہوں تو جب اتنی زیادہ عورتوں کی جنسی خواہشات کی تکمیل بھی نہ کرسکتے ہوں تو مردوں کو اِن عورتوں سے دور رکھا جاتا تھا تاکہ اگر کوئی حرم سرا کی عورت بہکنے پر آئے بھی تو اُس کو کوئی مرد دستیاب نہ ہو۔ یہ ظالم شاہی خاندان کے مرد خود عورتوں کو جنسی کھلونوں کے طور پر استعمال کر تے تھے ۔ اِس طرح یہ رسم آج بھی پاکستان کے پرانے دولت مندوں میں نظر آجاتی ہے ۔

میں نے میزبان کی طرف دیکھا تو ستائش طلب نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا ۔ اب مجھے مزید متاثر کر نے کے لیے خواجہ سرا کو اشارہ کیا تو اُس نے چلغوزوں کی طشتری رکھ کر دوسری چاندی کی بڑی طشتری اٹھا کر میرے سامنے کر دی جس میں آب زم زم کے ساتھ دنیا کی بہترین لذیز صحت مند کھجوریں دعوت طعام دے رہی تھیں ۔

میرے سامنے امبر مبروم عجوہ کلمہ سکری کھجوریں بہترین شکل میں موجود تھیں اب میزبان نے مختلف کھجوریں اٹھا کر مجھے پیش کرنا شروع کر دیں ، ساتھ میں وہ اُن کھجوروں کی تعریف بھی کرتا جارہا تھا ۔ کھجوروں کا یہ تسلسل جاری تھا کہ انہوں نے کستوری زعفران اور نایاب جڑی بوٹیوں سے بنے بھاپ اٹھاتے چاندی اور قیمتی پتھروں کے چھوٹے چھوٹے کپوں میں خوشبو اڑاتا قہوہ پیش کردیا۔ بھاپ اڑاتے کپ سے میں نے جیسے ہی لبوں کو تر کیا تو حلق کے اوپر ذائقے اور خوشبو کی نہریں چلنے لگیں ۔

دنیا کے مہنگے ترین خشک میوہ جات ، نمکین بادام ، کا جو ، اخروٹ ، خوبانیاں ، پستہ اور بہت سارے ایسے قیمتی نایاب میوہ جات کہ جن کے میں ناموں سے بھی ناواقف تھا ۔ ابھی میں اِن میوہ جات اور قہوے کے اعلی ذائقے سے متعارف ہو رہا تھا کہ میزبان نے ایک ریشمی تھیلی کو کھولا ، اُس کے اندر سے چاندی اور سچے موتیوں کی تسبیحاں نکالیں ۔ ساتھ میں سونے میں قیمتی پتھر فیروزہ جڑا ہوا انگوٹھی لہرائی اور شیریں لہجے میں بولے :

جناب میں سعودی عرب اور امارات سے اپنے دوستوں کے لیے اکثر ایسی نایاب تسبیحاں اور انگوٹھیاں لاتا رہتا ہوں ۔ یہ میں آپ کی نذر کرتا ہوں ۔ امید ہے آپ قبول فرمائیں گے ۔ میں ابھی چلغوزوں ، کھجوروں ، شاہانہ ڈرائنگ روم کے سحر سے نہیں نکلا تھا کہ میرے میزبان نے سونے چاندی ااور نادر نایاب پتھروں سے حملہ کر دیا ۔

میرے نارمل اعصاب الرٹ ہو گئے کہ مُجھ فقیر سیاہ کار پر اِس قدر عنایت کیوں ؟ آخر اتنی شاہانہ مہمان نوازی کیوں؟

اگلا قدم میزبان نے یہ اٹھایا کہ ایک ٹوکرا سلکی ریشمی گرم سرد کپڑوں کا ٹوکرا میرے سامنے لایا گیا ۔ جناب ! یہ آپ کے لیے کپڑے اور عود عنبر عرب کی مشہور خوشبویات پیش کیں۔ اب مہنگے ترین کپڑوں کے ساتھ مہنگے پرفیوم ۔ اب میں تھوڑا پریشان حیران ہوا کہ میزبان اِس قدر خوشامد اور مہمان نوازی کے سارے ریکارڈ نان سٹاپ کیوں توڑ رہا ہے ؟

میں انسانی نفسیات کا مشاہدہ روز کرتا ہوں اِس لیے یہاں بھی حیران الرٹ ہو رہا تھا۔ یہ مہمان داری ضرورت سے زیادہ تھی ۔ میں اِس کا اہل نہیں تھا ۔ ایسی مہمان نوازی ، تحائف کی برسات وہاں پر کی جاتی ہے جہاں پر کوئی بڑا کام ہو یا سفارش کرنی ہو ۔ لوگ اعلیٰ افسران اور صاحب اقتدار لوگوں کو اِس طرح کی رشوت پیش کرتے ہیں بڑے بڑے ٹھیکے وغیرہ حاصل کرنے کے لیے تاکہ بعد میں اِن سے اپنی مرضی کا ٹھیکہ یا کام نکلوایا جا سکے ۔

ایسے لوگ اِس فلسفے کے قائل ہو تے ہیں کہ پہلے خرچ کرو پھر منافع حاصل کرو ۔ یہاں میرے میزبان میرے اوپر مسلسل خرچ کئے جا رہے تھے ۔ میں شرمندہ ہورہا تھا کہ پتہ نہیں اِس کو مُجھ فقیر سے کیا کام ہے ؟ میزبان نے مہمان نوازی کے سلسلے کو مزید دراز کیا اور نعرہ مارا :

جناب آپ کے لیے شاہی کھانا تیار ہو گیا ہے ۔ کھانے میں زیادہ شکاری پرندوں کو استعمال کیا گیا ہے کیونکہ پرندوں کا گوشت کو لیسٹرول سے پاک انتہائی لذیز ہاضمے دار اور توانائی سے بھر پور ہو تا ہے ۔ اب میزبان مجھے ساتھ والے کمرے میں لے گیا جہاں پر جہازی ڈائننگ ٹیبل ہمارا انتظار کر رہی تھی ۔ وسیع و عریض ایک کونے سے دوسرے کونے تک تقریبا پچیس کرسیوں پر مشتمل ٹیبل جو دنیا جہاں کے لذیز کھانوں سے بھری بھاپ اڑاتی ہمارا انتظار کر رہی تھی ۔

پورا کمرہ لذیذ انواع و اقسام کے کھانوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا ۔ مرکزی کرسی پر بٹھانے سے پہلے میزبان نے اشاروں سے بتانا شروع کیا ۔ تیتر ، بٹیر ، مرغابیاں ، جنگلی خرگوش ، کبوتر ، ہرن کا گوشت ، سالم بکرے کی سجی مغلیہ بریانی پلاؤ ، بے شمار چٹنیاں ، سلاد ، فریش جوس کے جگ دھرے تھے ۔

پاکستانی کھانوں کے ساتھ چائینز یورپی کھانوں کی بھاپ اڑاتی ڈشیں خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی ۔ میں نے تعریفی نظروں سے میزبان کی طرف دیکھا جو کھانے کے آرٹ اور کلاس سے واقف تھا ۔ وہ بھی تحسین طلب نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا ۔ اُس کے چہرے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ وہ کوئی قلعہ فتح کرنا چاہتا ہے ۔ اِس طرح میزبانی کے اعلی حربے استعمال کر کے وہ کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ ( جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں