ریٹائرمنٹ پلان ، پینشن کا حساب کتاب ، دفتری فائلز

کیا سرکاری ملازمین کی پنشن واقعتاً ملکی معیشت پر بوجھ ہے؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ڈاکٹر شہناز محسن

حکومت پاکستان ایک عرصہ سے پنشن، لیو انکیشمنٹ(چھٹی کے بدلے ایک پرکشش رقم حکومت دیتی ہے) اور کمیوٹیشن کو ایسے مسائل قرار دے رہی ہے جو شاید پاکستانی معیشت پر سب سے بڑا بوجھ ہیں۔ حکومت کوئی بھی ہو، پی ڈی ایم کی ہو یا اس سے پہلے تحریک انصاف کی یا پھر اس سے بھی پچھلی حکومتیں ہوں، ایک ہی رٹ لگائے رکھتی ہیں کہ سرکاری ملازمین کی پنشن خزانے پر بہت بڑا بوجھ ہے۔

کبھی کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف پنشن کی سب سے زیادہ مخالفت کر رہی ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ پنشن کا نظام دوسرے ملکوں میں بھی ختم ہو رہا ہے۔اس لیے ہمیں بھی ختم کرنا ہوگا۔

جہاں تک آئی ایم ایف کا معاملہ ہے، اسے سرکاری ملازمین سے ہر گز کوئی دشمنی نہیں ہے۔ وہ قرض دیتے ہوءے قرض لینے والے سے پوچھتا ہے کہ آپ یہ قرض کیسے واپس کرو گے؟ اگر قرض لینے والا اسے باقاعدہ ایک مکمل ، جامع منصوبہ فراہم کرے تو آئی ایم ایف کو کیا پڑی ہے کہ وہ قرض لینے والے کو اپنا منصوبہ پیش کرے، جب کوئی قرض لینے والا قرض واپسی کا تسلی بخش منصوبہ پیش نہ کرسکے ، تب آئی ایم ایف اپنا منصوبہ پیش کرتا ہے۔ اس دوران بھی وہ قرض لینے والے سے رضامندی حاصل کرتا ہے کہ فلاں اور فلاں شعبہ پر کٹوتی کردی جائے؟

آئی ایم ایف کا نام محض لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاہم اب لوگوں پر یہ سب آفیشل سیکرٹ کھل چکے ہیں۔اس لیے وہ لوگوں کو مزید بے وقوف نہیں بنا سکتی۔

چیئرمین سینیٹ کے کچن کے لیے پچاس ہزار روپے مختص ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ آخر کیا ایسی خدمات سرانجام دیتا ہے جو باقی سرکاری ملازمین سرانجام نہیں دیتے؟ حال ہی میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی نے چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ اور دیگر مراعات کا ایک بل منظور کیا جس کے مطابق چیئرمین کی تنخواہ دو لاکھ پانچ ہزار روپے ہو گی اور چیئرمین جس گھر میں رہے گا اس کا ماہانہ کرایہ ڈھائی لاکھ روپے ہوگا اور اس کی تزئین و آرائش کے لیے پچاس لاکھ روپے مختص ہوں گے

اس بل میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ اگر کسی چیئرمین سینیٹ نے تین سال کا عرصہ مکمل کر لیا ہے تو وہ اور ان کی اہلیہ ملک میں اور بیرون ملک بھی سرکاری خرچ پر علاج کروانے کے اہل ہوں گے اگر سابق چیئرمین فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی بیوہ یہ سہولتیں حاصل کرنے کی اہل ہوں گی۔

اس بل کے مطابق صدر مملکت چیئرمین سینیٹ کو تین ماہ کی چھٹی بھی دے سکتے ہیں اور اس عرصے کے دوران چیئرمین سینیٹ دو لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ بھی وصول کریں گے۔

اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چییرمین سینیٹ اپنے گھر یا دفتر میں بارہ افراد پر مشتمل سٹاف کو رکھنے کے اہل ہوں گے اور ان میں سے جن کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا ہے اگرچہ ان کی تنخواہ سرکاری خزانے سے دی جائے گی لیکن انھیں مستقل نہیں کیا جائے گا۔

اس بل میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ جو بھی شخص چیئرمین سینیٹ کی تین سال کی مدت مکمل کرلے گا تو اسے فل سکیورٹی فراہم کی جائے گی جس میں سے چھ سنتری جبکہ چار اہلکار جن کا تعلق پولیس کی انسداد دہشت گردی سکواڈ، رینجرز، فرنٹیئر کور یا فرنٹیئر کانسٹیبلری سے ہوگا۔

اچیئرمین سینیٹ کی تنخواہ اور مراعات کا ذکر اس لیے آگیا کہ چند روز پیشتر اس کی تنخواہ اور مراعات کے لیے کوشش کی جارہی تھی۔ اگر ہر سینیٹر ، ہر رکن اسمبلی اور ہر وزیر، مشیر اور اعلیٰ بیورو کریٹ کی تنخواہوں، مراعات اور عیش و عشرت کا حساب کتاب کیا جائے تو یہ تحریر بہت طویل ہو جائے گی۔ سوال مگر یہی ہے کہ آخر انھیں ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہیں جو باقی سرکاری ملازمین کو نہیں لگے؟

کیا سرکاری ملازمین ارکان اسمبلی و سینیٹ کی طرح سرکاری گاڑیاں استعمال کرتے ہیں؟ سرکاری بنگلوں میں عیاشی کرتے ہیں؟ بیرون ملک دوروں پر کروڑوں روپے اڑاتے ہیں؟ کچن کے لیے کروڑوں روپوں کا بجٹ استعمال کرتے ہیں؟ سرکاری اخراجات پر حج عمرے کرتے ہیں؟ کیا وہ یہ سب کچھ انجوائے کر تے ہیں؟

کیا ان عام سرکاری ملازمین کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ بیمار پڑ جائیں تو ان کا علاج برطانیہ، امریکا میں ہو؟ کیا عام سرکاری ملازمین کو یہ سہولت حاصل ہے کہ ان کے بچے بیرون ملک دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں جا کے تعلیم حاصل کریں ؟کیا انہیں یہ سہولت حاصل ہے کہ ان کے بچے بیرون ملک کاروبار کریں؟ کیا ریٹائرمنٹ کے بعد انھیں ایکڑوں اور کنالوں رقبے پر مشتمل زمین دی جاتی ہے جہاں وہ فارم ہاؤس یا بنگلہ بنا کے رہتے ہوں؟ کیا ریٹائرمنٹ کے بعد مفت پٹرول، مفت ایئر ٹکٹ،  مفت رہائش اور مفت گاڑیاں، سرکار کے خرچے پر 4,5 ملازم، حفاظتی عملہ ملتا ہے ؟ کیا انھیں یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ پروٹو کول کے نام پر ان کے 10 گاڑیاں آگے اور 10 پیچھے پھرتی رہیں؟

خود اس قدر زیادہ عیاشیاں کرکے بھی حکمران سارا نزلہ گراتے ہیں عام سرکاری ملازمین پر۔ اور ان کی پنشن ختم کرنے کے درپے ہے۔ کیا آئی ایم ایف کو چیئرمین سینٹ، ارکان سینیٹ، وزیراعظم، ان کی کابینہ، وزیراعلیٰ ، ان کی کابینہ، ہماری بہت اعلیٰ وارفع بیوروکریسی اور ہمارے بجٹ کا تقریباً 70 فیصد استعمال میں لانے والی پاک فوج کا بجٹ نظر نہیں آتا؟ وہ ان پر اعتراض والی انگلی کیوں نہیں اٹھاتا؟

ایسے میں ہم یہ مطالبہ کرنے کی جسارت کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا سب بلند و برتر لوگوں کی تنخواہیں اور مراعات عام سرکاری ملازمین جتنی ہی کی جائیں، وہ بھی اسی انداز میں زندگی بسر کریں، جیسے عام پاکستانی کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو پھر بے شک سرکاری ملازمین کی پینشن ختم کر دی جائے۔

اگر یہ مطالبہ مناسب نہیں ہے تو کیا اس ملک کی معیشت پر صرف ہم سرکاری ملازمین کی پنشن ہی بوجھ ثابت ہو رہی ہے؟کیا ہماری لیو انکیشمنٹ ہی بوجھ ہے؟

سوال یہ ہے کہ کیا  سرکاری ملازمین نے اپنی زندگی کا بہترین وقت اس ملک و قوم کو نہیں دیا؟ اگر حساب کتاب کیا جائے تو عام سرکاری ملازمین ارکان اسمبلی و سینیٹ، وزیروں، مشیروں ، اعلیٰ و ارفع بیورو کریٹوں سے زیادہ کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت سرکاری ملازمین کی پنشن کا نظام ختم کرنے سے باز رہے اور اس کے نتائج و عواقب پر خوب غور کرے۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں