مار خور

چترال، معدومیت کے شکار مارخور کی تعداد ہزاروں میں کیسے پہنچ گئی؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

بادبان رپورٹ

پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں نایاب جانوروں کا شکار حکومت سے اجازت نامہ حاصل کیے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ اس پابندی کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ایسا ان جانوروں کے تحفظ کی خاطر کیا جاتا ہے جن کی نسل ختم ہو رہی ہو۔ پاکستان میں مارخور کی نسل بھی تیزی سے معدومیت کی شکار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مارخور کا شکار بغیر سرکاری اجازت نامہ کے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سال کئی غیر ملکی شکاری محکمہ جنگلی حیات سے پاکستان کے قومی جانور مارخور کے شکار کی باقاعدہ اجازت لیتے ہیں۔

2021 میں ایک امریکی شہری نے ایک لاکھ 60ہزار ڈالرز کے عوض ایک مارخور کا شکار کیا تھا۔ یہ اب تک کی سب سے زیادہ رقم تھی جو ادا کرکے مار خور شکار کیا گیا۔ اس سے پہلے ایک دوسرے امریکی شہری نے شکار کیا تھا۔ اس نے 88 ہزار ڈالرز کے عرض شکار کا سرکاری اجازت نامہ حاصل کیا تھا۔ جبکہ 2020 میں ڈیڑھ لاکھ ڈالرز کے عوض شکار کیا گیا تھا۔

بی بی سی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مارخور کی بڑی تعداد صوبہ خیبر پختونخوا میں پائی جاتی ہے۔ اس نایاب جانور کو معدومیت کے خطرے سے بچانے کے لیے محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں جس میں مارخور کی آماجگاہوں کو محفوظ بنانے، غیر قانونی شکارکے خلاف سخت کارروائیوں کے علاوہ مقامی باشندوں میں اس کے تحفظ کے لیے شعور پیدا کرنا بھی شامل ہے۔

پاکستان میں ہونے والے ان اقدامات کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ مثلا چترال جہاں مارخور کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی، اب وہاں ہزاروں میں مارخور دیکھنے کو ملتے ہیں۔

 سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر زیر گردش خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کی ایک ویڈیو میں مارخور کو قدرتی ماحول میں دیکھا جاسکتا ہے۔

چترال سے تعلق رکھنے والے صحافی اسرار احمد نے ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ کشمیر مارخور کا شمار ان کے غیر قانونی اور بے دریغ شکار کے باعث انتہائی خطرے سے دوچار جانوروں کی ریڈ لسٹ میں شامل تھا۔ صرف چترال میں ان کی تعداد فقط 250 رہ گئی تھی، لیکن خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگی حیات کے تحت مارخوروں کے تحفظ کی خاطر کیے گئے اقدامات کے نتیجہ میں اب ان کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے ۔

صحافی اسرار احمد کے مطابق یہ فوٹیج وائلڈ لائف کے تھوسی شاشا کنزروینسی کی ہے، جہاں مارخور کا ایک ریوڑ دریا کے کنارے ایک چراگاہ میں بے خوف و خطر محض کچھ میٹر کے فاصلے پر انسانی اور میکینیکل نقل و حرکت سے بے خبر موجود ہے۔

انھوں نے مزید لکھا: وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے مطابق چترال میں معدومیت کے خطرے سے دوچار کشمیر مارخور کی آبادی تقریباً 4 ہزار تک بڑھ گئی ہے، جس پر محکمہ جنگلی حیات اور مقامی آبادی تعریف کی مستحق ہیں۔

مار خور زیادہ تر پاکستان میں ضلع چترال، وادی کالاش، گلگت بلتستان، وادی ہنزہ، وادی نیلم اور مقبوضہ کشمیر کے بعض علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ بھارت، افغانستان، ازبکستان، تاجکستان میں بھی مارخور دیکھنے کو ملتا ہے۔

بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت یعنی انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے مطابق مارخور ایسے جانوروں میں شامل ہے جس کا وجود خطرے میں ہے۔ اگر ان کی حفاظت کے مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مارخور مستقبل میں ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔

پاکستان نے مارخوروں کے تحفظ اور ان کی افزائش کے لیے نہ صرف چترال بلکہ بلوچستان جیسے علاقوں میں بھی موثر اقدامات کیے ہیں۔ یہ اقدامات دنیا کے ان تمام علاقوں کے لیے مثالی ہیں جہاں مارخور پایا جاتا ہے اور اس کی نسل تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں