ارمیلا مینشا شیرم

نفرت انگیز علامات اور نعرے مٹانے والی انوکھی خاتون

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اناسی سالہ ارمیلا مینشا شیرم گزشتہ چالیس برسوں سے انتہا پسند افراد کی طرف سے دیواروں پر لکھے گئے نفرت انگیز نعرے اور علامات مٹانے کی کوشش میں ہیں۔ وہ اپنے آپ کو پالیٹیکل کلینر کہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’میں ایسے راستوں سے نہیں گزرنا چاہتی جہاں نفرت انگیز علامتیں اور نعرے درج ہوں۔ یہ دیکھ کر مجھے صرف تکلیف ہی ہوتی ہے‘۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ قریباً چورانوے ہزار نفرت انگیز نعرے اور علامات مٹا چکی ہیں۔  ان کا کہنا ہے:

یہ نفرت انگیز نعرے جب میرے پینٹ کے نیچے دفن ہوتے ہیں تو مجھے اچھا لگتا ہے۔‘’

جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے خلاف غصہ پورے معاشرے میں پھیل رہا ہے۔ انتہائی دائیں بازو کے ان انتہا پسندوں کی جانب سے لاکھوں تارکین وطن اور جرمن شہریت حاصل کرنے والے افراد کی ملک بدری کے ایک منصوبے کو زیربحث لانے پر جرمنی بھر میں لاکھوں افراد نے احتجاج کیا۔

ارمیلا کہتی ہیں:’مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ کتنے سارے لوگ سڑکوں پر نکل آئے لیکن ان مظاہروں کے ختم ہونے کے بعد بھی ہمیں اس بارے میں محتاط ہی رہنا ہوگا‘۔

کٹڑ نظریات کے حامل گروہوں نے ارمیلا مینشا شیرم کو نہ صرف آن لائن بلکہ براہ راست بھی نشانہ بنایا۔ تاہم اس بزرگ خاتون کے حوصلے پست ہرگز نہ ہوئے۔

وہ کہتی ہیں:’ میں سن انیس سو پینتالیس میں پیدا ہوئی تھی، نازی جرمنی میں جو کچھ ہوا، میں اس بارے میں کچھ نہیں کرسکتی لیکن اب میں کچھ ضرور کرسکتی ہوں۔ میں اب معاشرے کا حصہ ہوں‘۔

برلن کی یہ بزرگ خاتون تن تنہا نفرت انگیز نعرے اور علامات مٹانے کا کام کر رہی ہیں۔ وہ یہ کام برلن شہر میں کرتی ہیں۔ گلیوں، بازاروں میں جاتی ہیں، انھیں جہاں کوئی نفرت انگیز نعرہ یا علامت نظر آتی ہے، وہ اسے مٹانے کے درپے ہوجاتی ہیں۔

انھوں نے یہ کام انیس سو چھیاسی میں اس وقت شروع کیا تھا جب ان کے گھر کے سامنے دیوار پر کسی نے نفرت انگیز نعرہ لکھا تھا۔ اب وہ ہر مہینے تین سو یوروز اس کام پر خرچ کرتی ہیں۔

یہ ایک نہ ختم ہونے والا کام ہے جو وہ مسلسل کیے جارہی ہیں۔ وہ حیران ہوتی ہیں کہ باقی لوگ یہ کام کیوں نہیں کرتے۔ لوگ انھیں یہ کام کرتے ہوئے دیکھنے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں، کہتے ہیں کہ واہ! کیا ہی اچھا کام کر رہی ہیں، لیکن تعریف کرنے والے لوگ اس مہم میں اس کے ساتھ شامل نہیں ہوتے۔ حتیٰ کہ ان کے شوہر نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔

بعض لوگ ارمیلا کے اس کام کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ وہ ان سے کہتے ہیں کہ آپ ابنارمل ہو، آپ کو دوسروں کی رائے کو برداشت کرنا چاہیے۔

تاہم ارمیلا اپنے اس مشن سے پیچھے ہٹنے کے لیے کسی بھی طور پر تیار نہیں ہیں۔ وہ صرف یہی ایک کام نہیں کرتیں بلکہ وہ نسلی تعصب کے خلاف تعلیم دینے کے لیے ورکشاپس بھی منعقد کرتی ہیں۔ وہ ایک ایسی دنیا کا خوب دیکھتی ہیں جہاں کوئی ایک بھی نفرت کرنے والا نہ ہو۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے