پاکستانی-خواتین-کھیت-میں-کام-کر-رہی-ہیں

عالمی یوم خواتین: پاکستانی عورت کیوں دو راہے پر کھڑی ہے؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

8 مارچ خواتین کا عالمی دن ہے۔ دنیا بھر میں اس موضوع پر اظہار خیال کیا جارہا ہے اور سرگرمیاں منعقد ہو رہی ہیں۔

پاکستان میں اس دن کو ہمیشہ متنازعہ بنایا جاتا ہے۔ ایک طرف مذہب کے علمبردار ہیں جو خواتین کے عملی مسائل سے صرف نظر کرکے صرف مذہبی امور کو اہمیت دیتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری طرف مادر پدر آزاد لبرلز ہیں جو خواتین کے حقیقی مسائل سے زیادہ مغربی ایجنڈے سے مناسبت رکھنے والے امور پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ ان دو انتہاؤں کی وجہ سے خواتین کی حقیقی مشکلات و مسائل پس پردہ چلے جاتے ہیں۔

دنیا کے ہر خطے کی خواتین کے الگ مسائل ہیں۔ مغرب میں خواتین کو ہر طرح کی آزادیاں حاصل ہیں۔ خواتین کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے قانون سازی  اور اس پر بھرپور عملدرآمد موجود ہے۔ اس کے باوجود وہاں ریپ کیسز کی شرح انتہا کو چھو رہی  ہے۔

مغرب میں خاندانی نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے خواتین اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے دفاتر اور کارخانوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

مغربی معاشرت میں مرد و خواتین کے درمیان نکاح کا تکلف دم توڑ رہا ہے۔ بغیر نکاح کے ازدواجی زندگی گزارنے والوں کی شرح 52 فیصد سے 89 فیصد تک پہنچ رہی ہے۔ گویا مغربی مرد نکاح کی ذمہ داریاں اٹھانے سے اعلان برات کر چکا ہے۔ اسے اپنی جنسی ضرورت پوری کرنے کے لیے ذمہ دار خاتون کی بجائے صرف ایک پرکشش عورت درکار ہے۔ مردوں کی نفسیات کے پیش نظر عورت کی توجہ بھی خاندان کی تعمیر سے زیادہ اپنی خوبصورتی برقرار رکھنے پر ہوتی ہے۔

مغربی تہذیب نے عورت کو آزادیاں ضرور بخشی ہیں لیکن اسے شدید مسائل کا شکار بھی کر دیا ہے۔ وہ سکون چاہتی ہے لیکن عورت ہونے کے باوجود مغرب کا غیر متوازن معاشرہ اسے مرد کی ذمہ داریاں نبھانے پر بھی مجبور کئے ہوئے ہے۔

پاکستان میں عورت کشمکش میں ہے۔ ایک طرف وہ بے جا مذہبی و معاشرتی پابندیوں اور جبر کا شکار ہے۔ دوسری طرف اسے مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کی طرف کھینچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ہمارے سماج کی عورت دوراہے پر کھڑی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ کس طرف جائے سکول، کالج، یونیورسٹی،  مدرسہ، دفتر، پبلک ٹرانسپورٹ، عوامی اکٹھ میں خواتین کو ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہمارے سماج کی عورت شدید دباؤ میں پروان چڑھتی ہے۔ معاشرے کا جاہل طبقہ اسے مردوں کے پاؤں کا جوتا یا محض ان کی خواہشات کا غلام تصور کرتا ہے۔ گویا عورت کو درست مقام مغرب میں میسر ہے نہ مشرق میں مل رہا ہے۔

ہماری ریاستی پالیسی کا المیہ ہے کہ عسکریت کا نشانہ بننے والی ایک عام سی بچی ملالہ یوسفزئی کو امریکہ سے نوبل انعام دلانے کے لیے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لائے جاتے ہیں جبکہ دنیا کی ایک سپر برین ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو زبردستی عسکریت کے ساتھ جوڑ کر چند ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

عافیہ صدیقی کی بہن بیس سال سے اپنی بہن کی واپسی کے لیے اداروں کے دھکے کھارہی ہے اور سڑکوں پر رُل رہی ہیں۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی آمنہ مسعود جنجوعہ سترہ سال سے اپنے شوہر مسعود جنجوعہ کو تلاش کر رہی ہیں۔

سندھ کی تانیہ خاصخیلی شادی سے انکار پر وڈیرے کی گولی کا نشانہ بن جاتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں میڈیکل کی طالبہ ڈاکٹر عاصمہ رانی عدم دستیابی پر ایک وزیر کے بھتیجے کی گولی کا شکار ہو جاتی ہے۔ پنجاب کے یتیم خانہ کی اقراء کائنات کو ہوس پرست وزیروں کو تحفظ دینے کے لیے موت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

ہمارا سماج عورت کے حوالے سے دوہرے معیار کا شکار ہے۔ مذہبی عورت اور لبرل عورت کے مقام مرتبہ میں نمایاں فرق رکھا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ محض نظریات کی بنیاد پر عورت کی درجہ بندی کا کیا جواز ہے۔ عورت تو عورت ہی ہے خواہ وہ لبرل ہو یا مذہبی ہو۔ !

ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا کے ہر خطے کی عورت کو اپنے حقوق، جائز مقام و مرتبہ اور عزت پانے کے لیے ابھی مزید جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ابھی اس کا سفر ختم نہیں ہوا ہے۔

( جناب خلیل احمد تھند پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی وائس چیئرمین ہیں۔)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں