مریم نواز کی عمران خان پر شدید تنقید۔ مطلب کیا ہے؟

مریم نواز کی عمران خان پر انتہائی شدید تنقید، اسکا مطلب کیا ہوسکتا ہے؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

عبیداللہ عابد۔۔۔۔۔۔۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کو گزشتہ ایک طویل عرصہ سے طعنہ دیاجاتا تھا کہ وہ مسلسل خاموش ہیں، کوئی ٹویٹ نہیں کرتیں، سبب یہ ہے کہ شریف خاندان این آر او مانگ رہا ہے، دوسری طرف وزیراعظم عمران خان مسلسل کہہ رہے تھے کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں‌گے۔

تاہم مسلم لیگ ن کی نائب صدر منتخب ہونے کے بعد مریم نوازشریف وزیراعظم عمران خان پر انتہائی شدید تنقید کررہی ہیں۔ اپنی ہر تقریر میں وہ عمران خان کو وزیراعظم ماننے سے انکار کرتی ہیں اور انھیں "نالائق اعظم” کہہ کر پکارتی ہیں۔

آج لاہور میں‌یوم تکبیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا:
"عمران خان شکوہ کرتے ہیں کہ مودی ان کا فون نہیں سنتا، آپ چور دروازے سے حکومت میں آئے ہو اس لیے کوئی آپ کا فون نہیں سنتا، کوئی ملک تمہیں وزیراعظم ماننے اور عزت دینے کو تیار نہیں، جہاں "نالائق اعظم” ہو وہاں نہ کوئی سربراہ آتا ہے اور نہ کوئی اسے بلاتا ہے کہ کہیں پیسے نہ مانگ لے”

مریم نواز کا کہنا تھا:
"ملک میں نالائق اعظم کی جعلی حکومت ہے، عمران خان مہرے اور کٹھ پتلی ہو، کسی کےاشارے پرناچ رہے ہو، جوخود کسی کا محتاج ہو وہ کسی کو کیا این آر او دے گا، تمہارے بیٹسمینوں کا بیٹنگ آرڈر ایک منٹ میں درہم برہم کردیا جاتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں بول سکتے۔”

مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر نے مزید کہا:
"چھ ارب ڈالرکے لیےملک کوآئی ایم ایف کےسامنے گروی رکھ دیا گیا، نالائق حکومت کریں گے تو ملک کا یہی حال ہوگا، عمران خان! عدالتوں اور اداروں کے پیچھے مت چھپو بلکہ میدان میں ن لیگ کا مقابلہ کرو، نواز شریف جیل سے باہر آ جائے تو تمھاری حکومت ایک دن نہیں چل سکتی۔”

شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ حملے سے متعلق مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ملک میں کہیں حکومت نظر نہیں آئی اور جعلی اعظم کا ایک بیان بھی نہیں آیا، اگر ریاست پر حملہ ہوا تھا تو ریاست کا سربراہ کہاں غائب تھا؟ عمران خان نے کیوں فورسز کو جواب دینے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا؟ انہیں متنازع بنایا اور ایک ادارے کو جواب دینے کے لیے کٹہرے میں کھڑا کردیا جبکہ پیچھے سے خود غائب ہوگئے، قائد ایوان کہاں چھپ کر بیٹھا ہے؟”۔

اس سے پہلے مسلم لیگ ن کے مرکزی اجلاس منعقدہ 20 مئی کے موقع پر مریم نوازنے کہاتھا کہ وہ ببانگ دہل کہتی ہیں’بیانیہ ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ووٹ کو عزت دو۔ نواز شریف کا بیانیہ پاکستان کے اچھے مستقبل کی ضمانت ہے اور اِس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو آئین کی روح سے متصادم ہو۔‘

بیانیہ ایک ہی ہے لیکن سب کا اپنا اپنا انداز ہے‘۔ شہباز شریف دل سے نواز شریف کو اپنا لیڈر مانتے ہیں۔ اگر پہلے یہ دو رائے بھی ہوں گی کہ بیانیہ ایسا نہیں ایسا ہونا چاہیے تو بھی اب سب اسی بیانیے پر آ گئے ہیں۔‘

مریم نواز کا دوبارہ سیاسی میدان میں متحرک ہونے اور عمران خان کو انتہائی شدید تنقید کا نشانہ بنانے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔
اول: مسلم لیگ ن کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات بہترہوچکے ہیں۔
دوم: ڈیل کا عمل ناکامی کا شکار ہوچکا، جس کے بعد مریم نواز نے کشتیاں جلا کر”آر یا پار” کا سوچ کر میدان عمل میں نکلنے کا فیصلہ کرلیا۔
ظاہر ہے کہ تیسری بات کوئی نہیں ہوسکتی۔

اس صورت حال کا دوسرا مطلب زیادہ قرین قیاس ہے۔ اس کے لئے شریف خاندان نے نئی حکمت علمی تیار کی کہ میاں شہبازشریف باہر چلے جائیں اور مریم نواز کے لئے قیادت کی کرسی خالی کریں۔ نتیجتاً ن لیگ کی قیادت مریم نواز نے سنبھال لی۔

اب مریم نواز اس خیال کو غلط ثابت کررہی ہیں کہ ان کے شہبازشریف فیملی سے کوئی اختلاف ہیں، وہ مسلسل حمزہ شہباز کو اپنے ساتھ رکھتی ہیں اور لوگوں کو بتاتی ہیں کہ وہ ان کے پیارے بھائی ہیں۔

اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ن لیگ میں قیادت کی تبدیلی کا عمل کامیابی سے مکمل ہوچکا، میاں نوازشریف اپنی بیٹی کو جانشین بنانا چاہتے تھے،وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوگئے۔

مریم نواز کی اس پیش قدمی پر حکمران تحریک انصاف مضطرب ہے، اس نے مریم نواز کی بطور نائب صدر تقرری کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے، دوسری طرف اس کے سارے رہنما مریم نواز کی باتوں کا جواب دینے پر کمربستہ ہو گئے ہیں ۔ اس سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی مریم نواز کی سرگرمیوں پر کس قدر پریشان ہورہی ہے۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں