پاکستانی کرنسی نوٹ 5000 روپے

پی ٹی آئی کا پیش کردہ بجٹ2019-20،عام پاکستانی کوکیاملے گا؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

عبیداللہ عابد۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح بجٹ بہت سے لوگوں‌کے لئے گورکھ دھندا ہے۔ ہر پچھلی حکومت کی طرح‌تحریک انصاف کی حکومت بھی وہی پرانا جملہ استعمال کررہی ہے کہ "موجودہ حالات میں اس سے اچھا بجٹ پیش کرنا ممکن نہیں‌تھا۔”دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں ہمیشہ حکمران جماعت کی طرف سے پیش کئے گئے بجٹ کو مسترد کردیتی ہیں، چنانچہ اس بار بھی انھوں نے ایسے بیانات ہی جاری کئے ہیں۔

کسی طالب علم کے لئے یہ ایک دلچسپ تحقیق ہوگی کہ معلوم کرے،”موجودہ حالات میں اس سے اچھا بجٹ پیش کرنا ممکن نہیں‌تھا۔” والا جملہ گزشتہ کس کس حکومت نے کتنی بار بولاتھا۔ اور یہ تحقیق بھی مزے کی ہوگی کہ کیا پاکستانی تاریخ‌میں کبھی اپوزیشن نے بجٹ کو ‘اچھا” بھی کہا؟

بہرحال حکومتی دعووں اور اپوزیشن کے بیانات کے درمیان پھنسے ایسے ماحول میں ایک عام پاکستانی کے لئے معلوم کرنا مشکل ہوتاہے کہ بجٹ‌اصل میں کیسا ہے؟ گزرے برسوں میں متوسط طبقے سے نیچے کی زندگی گزارنے والے پاکستانی کا پہلا سوال ہوتاتھا کہ پیش کئے گئے بجٹ‌ کا عام آدمی کی زندگی پر کیا اثرپڑے گا؟ متوسط طبقے والے کا سوال ہوتاتھا کہ بجٹ سے ملک کتنا ترقی کرے گا؟ کس شعبے میں آگے بڑھے گا؟

تاہم اب ملک کے معاشی حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ اب اوسط درجے کی زندگی گزارنے والا بھی ملکی ترقی کا سوال چھوڑ کر اس فکر میں مبتلا ہے کہ اس کی گزربسرکیسے ہوگی ۔ ایسے میں وہ سیاسی افراد کی بجائے ماہرین کے تجزیے اور تبصرے جان کر آنے والے برس کے لئے اپنی قسمت کا کچھ نہ کچھ اندازہ لگانے کی کوشش کرتاہے۔

تحریک انصاف گزشتہ نو، دس مہینوں میں چار بجٹ پیش کرچکی ہے۔ آئیے! موجودہ بجٹ پر ایک عمومی نظرڈالتے ہیں ، معلوم کرتے ہیں کہ اس میں‌بظاہر کیا اچھا نظر آرہاہے؟ کیا کچھ سستا ہوا؟ کیا کچھ مہنگاہوا؟ اور حکومت نے اس بجٹ میں جو دعوے کئے ہیں کیا وہ آئندہ مالی سال میں پورے ہوسکیں‌گے یا نہیں؟

بظاہرکیا اچھا ہوا؟
آئندہ مالی بجٹ میں دفاعی بجٹ 1150ارب پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاگیا، حکومت والے کہتے ہیں کہ یہ فوج کی طرف سے ازخود اپنے اخراجات کم کرنے کے اعلان کے بعد کیاگیا تاہم بعض ذرائع کا کہناہے کہ آئی ایم ایف کی شرط تھی کہ دفاعی اخراجات پر روک لگائی جائے۔

حکومت نے سول اخراجات میں 23ارب کی کمی کا اعلان کیا۔ یعنی سول حکومت کے اخراجات 460ارب روپے سے کم کر کے 437ارب روپے کئے جا رہے ہیں۔ چلئے! اسے بھی ایک مثبت فیصلے کے طور پر تسلیم کرلیتے ہیں، اگرچہ حکومت کو اس سے زیادہ بچت کرنی چاہئے تھی۔ اس ضمن میں وفاقی وزراء کی تنخواہوں میں 10فیصدکمی کافیصلہ کیاگیا ہے۔

حکومت کے حامی "نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر” کے اصول کے تحت اسے اچھا فیصلہ قراردیتے ہیں۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ صدرمملکت، وزیراعظم، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، وفاقی وصوبائی وزرا، اراکین سینیٹ، قومی وصوبائی اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات کو کم ازکم 50 فیصد کم کیاجاتا۔ تب اس کا ملک کے معاشی اور سیاسی نظام پر اچھا اثر پڑتا۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ پوری قوم میں قربانی کا جذبہ اور جوش وخروش پیدا ہوتا، پھروزیراعظم عمران خان کو قوم کو بار بار دھمکانے اور ڈرانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

صرف وفاقی وزرا کی تنخواہوں میں دس فیصد کمی سے کیا حاصل ہوگا؟ جبکہ مراعات ان کے لئے بے شمار ہیں۔ کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ وزرا مراعات کی مد میں‌ تنخواہوں میں‌اپنی اس کمی کو پورا نہیں کریں‌گے۔ بجٹ‌میں ایسے ہی مزید کئی رخنے موجود ہیں۔ بعض حلقے ایسے اقدامات کو "کفایت شعاری” کے نام پر عوام کی آنکھوں میں‌ جھونکی گئی دھول قراردیتے ہیں۔

حکومت نے بجٹ‌ میں بعض دیگرجو بظاہر اچھے فیصلے کئے ہیں، ان کے مطابق گریڈ ایک سے 16تک کے سرکاری سول و فوجی ملازمین کی موجودہ بنیادی تنخواہ میں 10فیصد، گریڈ 17سے 20تک کے سرکاری سول ملازمین کی تنخواہوں میں 5فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور گریڈ 21اور 22کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

میں نے پانچ فیصد اضافہ حاصل کرنے والے ایک سرکاری افسر کو مبارکباد دی ، انھوں نے کہا کہ حکومت نے ہماری تنخواہ میں 5 فیصد اضافہ کیا اور اس پر 9 فیصد ٹیکس لگادیا۔ نتیجتاً چارفیصد ہماری پچھلی تنخواہ سے بھی کاٹے جائیں گے،تاریخ میں‌پہلی بار ہماری تنخواہوں میں کمی ہوگی۔ میں‌نے اس سرکاری افسر سے کہا کہ آپ کی تنخواہ میں‌صرف 4 فیصد کمی نہیں ہوئے بلکہ مزید کئی فیصد بھی کم ہوگئے ہیں۔ اس کا احساس آپ کو آنے والے مہینوں میں ہوگا۔

بجٹ میں ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 10؍ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت نے مزدور کی کم سے کم اُجرت 17500؍ روپے مقرر کردی ہے۔

کیا مہنگاہوا؟
آئندہ مالی سال کےبجٹ میں کھانے پینے کی بیشتر اشیاء مہنگی کردی گئی ہیں ، چینی، گھی، خوردنی تیل، گوشت، خشک دودھ، پنیر، کریم، منرل واٹر، مشروبات ، سی این جی ، سیمنٹ، سگریٹ، گاڑیاں، زیورات ، فلیورڈ جوسز ، سیرپ ، اسکوائشز ، چمڑے کی اشیاء ، قالین ، کھیلوں کا سامان ، آلات جراحی، اسٹیل کی راڈ ، بلٹ مہنگے ہوگئے ، سنگ مرمر کی صنعت ، مرغی، مٹن، بیف اورمچھلی کے گوشت کی سیمی پروسیسڈ اور پکی ہوئی اشیا پر 17فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز ہے جبکہ روئی پر 10؍ فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے ۔

حکومت نے ایک چالاکی یہ کی کہ لوگوں کے لئے زمینیں خریدنے کا دروازہ کشادہ کردیا یعنی نان ٹیکس فائلرز کو کھلی چھٹی دیدی کہ وہ جتنی چاہئے زمینیں خریدیں لیکن دوسری طرف اینیٹیں ،سیمنٹ، سریا وغیرہ مہنگا کردیا۔ اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی ایک روپیہ دے کر تین روپے وصول کرنے کے منصوبے بنائے گئے ہیں۔

کیاسستاہوا؟
بجٹ میں کھاد، موبائل ، اینٹیں ، بیکری اشیاء، لکڑی کا فرنیچر اور ریزر سستے ہوگئے ، زرعی صارفین کیلئے بجلی سستی کردی گئی ہے جبکہ برادہ ، کاغذ کے اسکریپ ، ٹیکسٹائل مشینری کے پارٹس و آلات کی درآمد پر ڈیوٹی استثنیٰ دیدیا گیا ہے جبکہ لچکدار دھاگے، غیر بنے کپڑے اور سولر پینل پر ڈیوٹی کم کرنے اور ریسٹورنٹ پر سیلز ٹیکس 17سے 7.5 فیصد کرنے کی تجویزہے۔

بجٹ کا مجموعی تاثر
تحریک انصاف کے پیش کردہ بجٹ کے بارے میں عمومی طور پر تاثر ہے کہ یہ ٹیکسوں ہی کا مجموعہ ہے، جو خواص کے بجائے عام پاکستانی کی زندگی کو مشکل بنائیں گے۔ یہ تاثر بے جا نہیں ہے۔ دوسری بات: حکومت نے بعض شعبوں میں ایک ہاتھ سہولت دی ہے تو دوسرے ہاتھ نہ صرف وہ سہولت واپس لی بلکہ اس کے ساتھ پہلے سے موجود ریلیف بھی ہتھیا لیا۔

بجٹ قابل عمل ہے؟
سینئر ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بجٹ پر صاف الفاظ میں کہا ہے کہ
"پیش کردہ بجٹ بالکل قابل عمل نہیں ، 5,550 ارب کا ہدف حاصل کرنا قطعی ناممکن ہے۔ بجٹ میں کوئی ٹارگٹ پیش نہیں کیا گیا ،جی ڈی پی کا ہد ف 2.4 فیصد حاصل کرنا’مشن امپوسیبل ‘ ہے۔ ماضی میں کبھی بھی 40فیصد آمدن کا ہدف نہیں رکھا گیا، اس کا مقصد ہر گھر پر 65 ہزار روپے سالانہ کا بوجھ ہر گھر پر ڈالنا ہے”۔

حفیظ پاشا کا کہنا تھا:”پچاس ہزار روپے تک کے تنخوا دار افراد کو دو تنخواہوں کی قربانی دینی ہوگی جس سے ٹیکس بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہدف میں ساٹھ فیصد رقم صرف قرضے سروسنگ میں چلی جائے گی”۔

"افراط زر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف خیال ہے افراط زر اس سے کہیں زیادہ بڑھے گی۔ ایکسپورٹ سیکٹر پر 17فیصد ٹیکس لگا نے کا مطلب پاکستانی ایکسپورٹ کو تباہ کرنا ہے”۔

تاجروں نے کیا کہا؟
کراچی کے معروف تاجر سراج قاسم تیلی نے کراچی چیمبر آف کامرس میں دیگر تاجروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ’بجٹ میں چینی کی قیمتوں پر لگنے والے ٹیکس میں اضافے سے حکومت کا عام آدمی کو ریلیف دینے کا دعویٰ غلط ثابت ہوا جبکہ سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اپنا گھر بنانے کے خواہش مند افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘تاجر برادری نے جو عمران خان سے امیدیں رکھی تھیں اس پر وہ پورا نہیں اترے ڈالر کی وجہ سے صنعتوں کا پہلے ہی برا حال ہے صنعت کار اتنا ٹیکس کہاں سے دیں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس صنعت پر وہ ٹیکس لگارہے ہیں کیا اس کی اتنی استطاعت ہے کہ وہ اضافی ٹیکس ادا کرسکے’۔

سرحد چیمبر آف کامرس نے وفاقی بجٹ 20-2019 مسترد کردیا اور کہا کہ بجٹ میں صرف ٹیکس لگائے گئے ہیں جبکہ آمدن کے ذرائع بڑھانے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا گیا۔

معروف تاجر فیض محمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ‘جس شرح سے ٹیکس لگائے گئے ہیں مزید مہنگائی ہوگی، حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو 5 سال کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ کا مطالبہ نظر انداز کردیا ہے’۔

کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے بھی مالی سال 20-2019 کا بجٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں انڈسٹریز کے قیام سے متعلق بات نہیں کی گئی۔

معروف تاجر جمعہ خان بادیزئی کا کہنا تھا کہ ‘تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے وفاقی حکومت نے کسی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا اور تاجروں کے لیے ریلیف کے بجائے مزید مشکلات پیدا کی گئیں ہیں۔

تاجر بدرالدین کا کہنا تھا کہ اس بجٹ سے صوبے میں موجود صنعتیں مزید بدحالی کی جانب جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے برآمدات کی مد میں صرف 40 ارب روپے رکھے ہیں جو ناکافی ہیں، خام مال کی قیمت بڑھنے کا واضح اثر صنعتکاروں پر ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘ وفاقی حکومت نے بجٹ میں ہمسایہ ممالک سے کاروباری روابط سے متعلق حکمت عملی وضع نہیں کی۔

لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر الماس حیدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی بجٹ 20-2019 کو مناسب قرار دے دیا۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں