کشمیر کے شہر سری نگر میں کرفیو

کشمیر: کرفیو کیوں لگایاجاتا ہے، اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

مدثر محمود سالار۔۔۔۔۔۔۔
کرفیو کا لفظ سنتے یا پڑھتے ہی دل پریشان ہونے لگتا ہے اور بے چینی ہوتی ہے کہ بے چارے کشمیری کس عذاب سے گزر رہے ہیں۔

کرفیو کے قانونی اور غیر قانونی جو بھی مقاصد ہوں ان سے ہٹ کر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کرفیو کا مقصد خوف کی ایسی فضا قائم کرنا ہے کہ گھر کہ اندر بیٹھے افراد بھی خود کو محفوظ نہ سمجھیں۔

سب سے بڑا خوف یہ ہوتا ہے کہ فوج کسی بھی گھر میں داخل ہوکر کسی کو بھی مار دے تو اہل محلہ یا اہل شہر اس اندھے قتل پر فوراً کوئی رد عمل اور احتجاج نہیں کرسکتے کیونکہ کرفیو لگا ہوا ہے۔

پھر کرفیو کی مدت میں اضافہ کرنے کا حق بھی فوج کے ہاتھ میں ہے اور جانے کب تک وہ کرفیو لگا کر قحط سالی سے لوگوں کو مرنے پر مجبور کردے۔ کرفیو چند گھنٹوں کے لیے اٹھالیا جاتا ہے تو جو بے چارے جلدی جلدی کچھ خوراک کا انتظام کرنے نکلتے ہیں وہ اچانک پھنس جاتے ہیں کہ بعض اوقات ابھی گھر سے باہر ہوتے ہیں تو دوبارہ کرفیو لگ جاتا ہے،

ایسی حالت میں گھر والے شدید اذیت سے گزرتے ہیں کیونکہ کچھ خبر نہیں جانے والا کبھی لوٹ کر آئے گا یا نامعلوم لاش کی صورت زمین کا رزق بن جائے گا۔ کسی کے پاس کرفیو پاس ہے تو بھی وہ محفوظ نہیں بلکہ چلتا پھرتا شکار ہے اور بغیر کسی جرم گرفتاری یا قتل کوئی بھی واقعہ پیش آسکتا ہے۔ جب بچے بھوک سے بلکتے ہیں تو باپ پاس بنوا کر بازار جانے کی سعی کرتا ہے اور عموماً کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔

کرفیو لگا ہو تو فائرنگ کی آواز سے دل مزید دہشت زدہ ہوتا رہتا ہے کہ جانے کس کا سہاگ کہاں اجڑ گیا اور جانے کس ماں کی گود سونی ہوگئی۔ کرفیو کے دوران چاہے پورا دن یا رات کوئی فائر نہ بھی ہو تو بے چینی رہتی ہے اور خدشہ رہتا ہے کہ پتا نہیں کب کوئی ہمارے گھر پہ حملہ نہ کردے،

ایک خوف کی فضا مسلسل قائم رہتی ہے۔ کرفیو میں چونکہ منڈی میں سامان آنا تقریباً بند ہوجاتا ہے تو مارکیٹ میں مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے اور خرید کی سکت انسان کے بس میں نہیں رہتی۔

اس خوف کو مزید اذیت ناک بنانے کے لیے ذرائع مواصلات پر پابندی لگادی جاتی ہے جس سے کچھ خبر نہیں کب کیا ہو۔

کرفیو اٹھا لیا جائے اور لوگ گھروں سے نکلنا شروع کریں تو تاریک گلیوں اور تنگ راستوں پر لاشیں دیکھ کر دل بیٹھتا ہے کہ پتا نہیں کس کا جگر کا ٹکڑا کب سے لاش کی صورت یہاں پڑا ہے اور اس کے اہل خانہ کو یقیناً خبر بھی نہیں ہوگی کہ زندہ ہے یا مرگیا۔

مجھے ایک آفت زدہ ملک میں کچھ عرصہ رہنے کا موقع ملا تھا، پہلی مرتبہ جب کرفیو کا نوٹیفکیشن موصول ہوا تو کشمیر کے حوالے سے پڑھے گئے تمام واقعات آنکھوں کے سامنے سے فلم کی طرح چلنے لگے۔

ہم دو دوست ایک جگہ کھانا کھانے گئے ہوئے تھے کہ اچانک میسج آنے لگ گئے کہ دو گھنٹے بعد کرفیو نافذ ہوگا ، ہم جلدی جلدی اپنے اپنے ٹھکانے کی طرف بھاگے اور سارا رستہ پریشانی رہی کہ وقت سے پہلے گھر پہنچ جائیں۔

پھر کئی دن گزر جاتے تھے گھر سے نکلنے کا موقع نہیں ملتا تھا اور ہر وقت یہی خدشہ رہتا کہ کسی بھی وقت کوئی گھر پہ حملہ کردے تو بچائو کا کیا راستہ ہوگا، کرفیو میں نرمی آتی تو سیکیورٹی کے ساتھ بھی سودا سلف لینے جانا تو یہی ڈر لگا رہتا کہ یہی سیکیورٹی گارڈ ہی نہ مار دیں ،

جو چیز کرفیو سے پہلے سو روپے کی تھی وہ ایک ہفتے بعد پانچ سو کی تھی اور اس سے اگلے ہفتے ہزار کی ہوگئی، قیمتیں بڑھنے سے بھوک بڑھتی ہے اور عوام لوٹ مار اور فساد کرتی ہے جس سے زیادہ انارکی پھیلتی ہے۔

کرفیو لگا کر شرپسند عناصر کی پشتی بانی کرتے ہوئے فوج خود گھروں پر حملے کرواتی ہے اور پھر انہی حملوں کو جواز بنا کر مزاحمت کرنے والوں کو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق اٹھا لیا جاتا ہے۔

ظلم تو روز ہی ہوتا ہے مگر جب ظلم کی انتہا کرنی ہو تو غیرملکیوں کو فوراً ملک سے نکلنے کا حکم دیا جاتا ہے اور اس کے بعد مقامی افراد پر قیامت ڈھائی جاتی ہے۔

کرفیو کے حوالے سے سب سے تکلیف دہ بات بھوک ہوتی ہے، خوراک ملتی نہیں اور لوگ بیمار ہوکر بھوک سے بھی مرجاتے ہیں، بالخصوص چھوٹے بچے بھوک برداشت نہیں کرسکتے اور والدین کے لیے بھی اذیت ہوتی بچوں کی ایسی حالت۔

ایسے حالات میں مسلسل رہنے سے عوام میں باغیانہ فکر پیدا ہوتی ہے اور جب لوگ دیکھتے ہیں کہ گھروں میں رہ کر بھی مر رہے ہیں تو بہتر ہے دو چار فورسز کے آدمی بھی مار کے مرا جائے۔

سید علی گیلانی کی ‘روداد قفس’ پڑھ لیں یا زینب الغزالی کی ‘روداد زنداں’ پڑھ لیں یا ایک کتاب چند سال پہلے محترمہ میمونہ حمزہ صاحبہ نے ترجمہ کی تھی غالباً خمسہ دقائق نامی کتاب تھی،

یہ کتب پڑھ کر آپ ان مظلوموں کا درد وقتی طور پر محسوس کرتے ہیں مگر کچھ عرصے بعد آپ کی وہ کیفیت نہیں رہتی اور آپ اپنی روز مرہ زندگی میں مگن رہتے ہیں، میں اس حوالے سے زیادہ حساس اور جذباتی اس لیے رہتا ہوں کہ میں نے ایک ایک دن میں چالیس لاشیں گرتی دیکھی ہیں اور فلموں، ناولوں اور ڈراموں میں قتل و غارت دیکھنا اور حقیقی زندگی میں ایسے واقعات دیکھنا بہت مختلف تجربہ ہے۔

جہاں ہم ہندو افواج کی بربریت پر نوحہ کناں ہیں وہیں مسلمان افواج بھی بربریت میں کم نہیں ہے اور جہاں موقع ملتا ہے ظلم کی ہر حد پار کرتی ہیں، چند سال پہلے کسی ملک میں آرمی کے امن مشن کے درجنوں جوان مارے گئے تھے۔

وہاں بھی عوام نے تنگ آکر بغاوت کی تھی مگر ہم اس حادثے کے صرف اسی پہلو سے واقف ہیں کہ امن مشن پر باغیوں نے حملہ کیا تھا اور اس بغاوت کے پیچھے امن مشن کی فوج کے ظلم سے ناآشنا ہیں۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ کشمیری مسلمانوں کو جبر و استبداد سے رہائی دے اور اس خطے کو امن کا گہوارہ بنادے۔ آمین


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں