ایک مجرم خاتون پستول پکڑے ہوئے

کیا اب عورتوں کو اغواکار، قاتل و بدکار بننا ہو گا؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

رقیہ اکبرچودھری۔۔۔۔۔
کل مشہور ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان قمر کے ایک مختصر انٹرویو کا کلپ دیکھا جو تقریباً ہر مردانہ وال اور پیج پہ دیکھنے کو ملا۔۔۔

مردوں نے تو واہ واہ کے ایسے نعرے لگائے کہ کیا فضل الرحمان کے حواریوں نے آزادی مارچ میں لگائے ہوں گے۔۔یہ دیکھے سوچے بنا کہ اس کلپ میں خلیل صاحب نے مردوں کا کتنا گھٹیا اور بُرا رخ پیش کیا۔

اتنے فخر سے وہ کلپ شئیر ہو رہا ہے گویا کہ
مستند ہے خلیل صاحب کا فرمایا ہوا۔۔

برابری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جو مثالیں خلیل صاحب نے دیں، سن کر افسوس اور حیرت ہوئی۔

خلیل صاحب کے حساب سے عورتیں اگر برابری کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اغواکار بننا ہوگا ، قاتل و بدکار بن کر دکھانا ہو گا۔۔ تبھی وہ برابری کا نعرہ لگانے کی حقدار ہوں گی۔

عجیب منطق پیش کی انہوں نے تو۔۔
مطلب خلیل صاحب کی نظر میں مردانگی ہے ہی بدکرداری ، کڈنیپنگ ،قتل و غارت گری کا دوسرا نام؟ اور جو عورت ایسا نہیں کرتی وہ مردوں کے برابر کیسے ہو سکتی ہے۔

جناب اس سب پہ واہ واہ کہنے سے پہلے یہ تو دیکھ لیجئے ذرا کہ آپ مردوں کی مردانگی کا کیا ثبوت پیش کیا گیا؟
رہے عورت کے مطالبات تو پہلے یہ تو جان لیجئے کہ عورت کس برابری کی بات کرتی ہے؟؟
کبھی سوچا برابری کہتے کسے ہیں؟

برابری کا جو تصور مرد نے سمجھا یا اسے سمجھایا گیا وہ عورت کی خواہش نہیں۔۔۔
برابری مطلب برابر کا انسان سمجھا جائے۔۔۔
تم عورت پر اپنا مال خرچ کرتے ہو ، مضبوط اعصاب کے مالک ہو ، جسمانی طور پر بھی مضبوط ہو، مشکلات کا عورت جیسی کمزور صنف کے مقابلے میں زیادہ ہمت سے مقابلہ کر سکتے ہو، اس لئے اللہ نے تمہیں ایک درجہ فضیلت دی اور اسی اعتبار سے ذمہ داری بھی زیادہ۔۔۔۔

عورت کے اندر رحم کا مادہ زیادہ رکھا ، اسے نرم دل اور جذبات سے بھر دیا اور پوری نسل انسانی کی آبیاری جیسی گراں بار ذمہ داری اس پر ڈال کر اسے اتنا معتبر بنا دیا کہ وہ جنت جس کے حصول میں دن رات ایک کردیتے ہو اسے اسی عورت کے قدموں کے بھی نیچے رکھ دیا۔۔۔

کیا اندازہ کرسکتے ہو اس عزت و مرتبے کا؟
کیا وہ اس ایک درجے سے کئی گنا بڑا اور زیادہ درجہ نہیں؟
تو کیا یہ درجہ عورت کا کسبی ہے جو اس بات پر وہ اکڑ دکھائے۔۔؟
نہیں۔۔۔
تو ایسے ہی جو مرتبہ ایک درجے فضیلت کی صورت میں تمہیں عطا ہوا اس پہ اتنی اکڑ کیوں؟؟

پھر یہی عورت جو تم سے ذمہ داری کی وجہ سے ایک درجہ پیچھے کھڑی ہے بس یہ مطالبہ کرتی ہے کہ
مجھے اپنی طرح کا انسان سمجھو بس۔۔۔۔
یہ برابری مانگتی ہے وہ۔۔۔انسان ہونے کی برابری۔۔

عورت کہتی ہے کہ مجھے گالی مت دو کیونکہ جو گالی تم نہیں سن سکتے تمہاری غیرت پہ چوٹ پڑتی ہے وہی گالی میرے دل کو بھی چھلنی کر دیتی ہے، میری بھی غیرت جاگتی ہے،تو کیا میں بھی جواباً گالی دوں۔۔؟
کیا سن سکو گے؟
نہیں۔۔۔
تو گالی مت دو ورنہ سننے کا حوصلہ پیدا کرو۔

عورت کہتی ہے مجھ پر ہاتھ مت اٹھائو میرا جسم بھی مٹی سے بنا ہے مجھے چوٹ لگتی ہے۔۔جسم تو زخمی ہوتا ہے ساتھ میں روح بھی چھلنی ہوتی ہے، عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔۔۔اور پھر اس کا مداوا تمہاری معافی بھی نہیں کر سکتی۔

وہ کہتی ہے تمہیں آرام چاہئے ، سکون و اطمینان چاہئے ، دل کی خوشی چاہئے تو مجھے بھی یہی سب چاہیئے۔۔
یہ برابری۔۔۔

تمہیں بھوک لگتی ہے، چاہتے ہو پہلے کھانا تمہارے آگے رکھا جائے۔۔بہتر کھانا تمہارے حوالے کیا جائے پھر بچ جائے وہ میری پلیٹ میں ڈال دیا جائے۔۔۔
کیوں ؟

وہ کہتی ہے بھوک مجھے بھی لگتی ہے ،تمہارے ساتھ بیٹھ کر اچھا کھانا کھانا میری خواہش بھی ہے اور حق بھی۔۔
یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے تو مجھے بھی برابر کا انسان سمجھو۔

وہ کہتی ہے تمہاری شادی قرآن سے نہیں ہو سکتی تو میری کیوں؟
وہ چاہتی ہے جس طرح تم اپنے سے بیس سال بڑی عورت سے شادی نہیں کرنا چاہتے مجھے کیوں چالیس سال بڑے بڈھے کے حوالے کر دیتے ہو؟
کیا میرے جذبات نہیں۔۔کیا میرے احساسات نہیں۔۔

قتل تمہارا بیٹا کرتا ہے اور اس کی جان کی قیمت مجھے ونی کرکے ادا کرتے ہو۔۔ کس لئے۔۔۔؟
کیا میں لوٹ کا مال ہوں؟
تم مجھ سے بیزار ہو جاتے ہو تو ہفتوں میرے پاس نہیں آتے تو جب میں اکتائی ہوئی ہوں مجھے کیوں نہیں خوش دلی سے سپیس دیتے؟؟

تم یار دوستوں کے ساتھ نکل پڑتے ہو سیر کو۔۔۔
تو کیوں بھول جاتے ہو کہ آقا نے عائشہ صدیقہ کو ساتھ لے جا کر میلہ دکھایا تم مجھے کیوں نہیں لے جا سکتے؟
گھر کے معاملات میں مجھے سائیڈ پہ رکھ دیتے ہو بیکار چیز کی طرح ۔
کیوں بھول جاتے ہو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد ابوبکر ،عمر ،عثمان و علی جیسے جلیل القدر صحابہ کے ہوتے ہوئے مشورہ اپنی زوجہ حضرت ام سلمی سے کیا۔۔۔

وحی نازل ہوئی تو پہلا رازداں ،پہلا مشیر ،پہلا غم خوار اپنی زوجہ کو بنایا تم کیسے مجھےکم عقل ،کمتر اور بےوقوف کہہ کر کھڈے لائن لگا سکتے ہو۔۔۔۔۔
کیا آقا کا عمل بھول گئے ہو۔ ؟
یہ ہےوہ برابری جو عورت چاہتی ہے۔۔

جس طرح کی برابری خلیل صاحب فرما رہے ہیں کیا تمام مرد اس معاملے میں برابر ہیں؟؟
مطلب کیا سارے مرد کڈنیپر ہیں، ریپیسٹ ہیں ، قاتل ہیں۔۔۔
بدکار و بدطینت ہیں۔۔؟

اگر نہیں۔۔اور یقیناً نہیں۔۔تو مطلب سب مرد بھی برابر نہیں خلیل صاحب کی نظر میں۔۔؟؟
کیا کسی اندھے مرد سے کہہ سکتے ہو کہ گاڑی چلا لے۔۔کسی لنگڑے سے کہو اسی طرح بھاگے جس رفتار سے دونوں ٹانگوں والا بھاگتا ہے ورنہ ٹانگوں والے سے برابری نہ کرے۔۔؟
جب کہ مرد تو سب برابر ہیں ناں۔۔

عجیب منطق ہے۔۔۔عورتیں اغواکار بن جائیں، قاتل و بدکار بن جائیں تو یہ ہے برابری ۔۔۔۔۔؟؟
ابے اللہ کے بندے! برابری کا مطلب تو سمجھو پہلے۔۔۔۔برابر کا انسان۔۔۔یا پھر بولو انسان مانتے تو ہو مگر ایک درجہ کم تر۔۔۔

سچ بتائو کیا اللہ نے کہا کہ بحیثیت "انسان” عورت کا درجہ کم ہے مرد کا اونچا۔۔۔کیا یہ جو ایک درجہ فضیلت رکھی بوجہ انسان یا بوجہ ذمہ داری؟
ایک مرد وزیراعلیٰ ہے بوجہ ذمہ داری مرتبے میں آپ سوں میں سے ہزاروں لاکھوں سے آگے مگر بحیثیت انسان ،بحیثیت مرد آپ کے برابر ہے بھائی صاحب۔۔۔

اور رہی بات حیاء کی تو ہاں! سو فیصد اتفاق ہے کہ حیاء ہی عورت کازیور ہے، شوہر کے ساتھ بے وفائی کرنے والی عورت ہرگز پسندیدہ نہیں۔۔

تو بےوفائی کرنے والے مرد ، دھوکہ دینے والے مرد کے بارے میں کیا وچار ہیں آپ کے؟؟
کیا اللہ نے جو سزا عورت کیلئے رکھی وہ مرد کیلئے نہیں رکھی۔۔؟

کیا اللہ نے کہا کہ عورت کسی دوسرے مرد کے ساتھ انوالو ہو جائے تو اسے تو سنگسار کر دو مگر مرد کو کچھ نہ کہو؟؟
اور کیا معاشرہ بےوفائی کرنے والے مرد کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتا ہے؟
اسے ملعون نہیں کرتا۔۔یا نہیں کرنا چاہیے؟؟

جناب ضرور لعنت بھیجئے اس عورت پرجو شوہر کے باہر جاتے غیر مرد کیلئے اپنی مٹھی کھول دے مگر عین اسی طرح لعنت بھیجئے اس مرد پر بھی جو گھر سے باہر نکلتے ہی غیر عورت کیلئے اپنی جیب خالی کر دے۔۔۔یہ ہے اللہ کا قانون یہ ہے رب کا انصاف۔۔

اور جناب یہ اپنے بہکنے کا ،بگڑنے کے گناہوں کا ،غلطیوں کا بوجھ کب تک عورتوں کے کاندھوں پہ ڈالتے رہو گے؟
سمجھ میں نہیں آتا جسمانی و جذباتی طور پر مضبوط یہ مرد آخر کیوں اپنے ہر گناہ کا سبب عورت جیسی کمزور صنف کو گردانتا ہے ہر گناہ کا بوجھ وہ اس کے کاندھے پہ ڈال دیتا ہے؟

اور وہ جو شوہر اپنی بیوی کو چھوڑ کر کسی دوسری عورت پہ لپکتا ہے اس کا تو کوئی دوش ہی نہیں۔۔واہ خوب کہی۔۔

مرد بہکتا ہے تو عورت نہیں بہک سکتی کیا؟
پھر سزا ،لعن طعن دونوں کیلئے برابر کیوں نہیں۔۔۔

عورت کی دشمن دوسری عورت۔
یہ گردان کب تک؟
کیا عورت افیئر کسی دوسری عورت سے چلاتی ہے؟
یا مرد کو کسی مرد سے ہی چکر چلانا چاہیئے؟

شادی شدہ عورت جس کی آپ نے مثال دی شوہر کو دھوکہ دیتی ہے ،چیٹ کرتی ہے تو کس کیلئے۔۔۔؟
کون ہے وہ جو کسی مرد کی عزت ،اس کی بیٹی کو بھگا کے لے جاتا ہے؟
ایک مرد کا بسا بسایا گھر توڑنے والا ،اس کی بیوی کو ورغلانے والا (جس بیوی پر اپ لعنت بھیج رہے ہیں) کون ہے وہ۔۔؟

کیا وہ دوسرا مرد نہیں ہوتا؟
کیا عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ انوالو ہو جاتی ہے؟
تو جو مرد کسی مرد کی بیٹی ، بہن ، محبوبہ یا بیوی کو ورغلاتا ہے تو وہ بھی تو مرد ہے ناں۔
مطلب مرد ہی مرد کی عزت کا دشمن۔
اگر عورت ،عورت کے گھر کی دشمن۔
کیا خیال ہے؟؟


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں