حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ

یارِغار، رفیق خاص، محسنِ اسلام

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

عفیفہ شمسی

’’آپ کو صحابہ میں سے کس کی شخصیت بہت زیادہ متاثر کرتی ہے؟ مزاج کا اندازہ لگانا چاہ رہی ہوں‘‘۔
میں کافی وقت سے ہوتی علمی بحث و مباحث سے اخذ کردہ نکات پہ غور کر رہی تھی کہ اچانک بنت عبداللہ نے سوال کر دیا۔

انہیں خبر نہ ہوئی کہ سوال کتنی مشکلوں اور کیسی محبتوں کے اثر میں ڈال گیا ہے ۔ کیا یہ ممکن تھا کہ بتایا جاتا ہمیں کون سی شخصیت بہت متاثر کرتی ہے؟ ہمارا حال اور مقام تو ان سا ہے جو چھوٹے سے قد کے باعث کہیں ایک کونے میں عقیدت سے پر دل و نگہ لیے سمٹے کھڑے ہوں، جن کے بارے میں سوال کیا گیا تھا وہ تو ایسے عظیم لوگ ہیں کہ جن کا ذکر سن کے، جن کا ذکر پڑھ کے آنکھیں نم نہ ہونے کو بغاوت سمجھتی ہیں، دل محبت سے معمور نہ ہونے کو گستاخی خیال کرتا ہے اور اس معاملے میں اختیار ہی کہاں؟ مگر یہ سچ ہے کہ اللہ کے ہاں بھی درجات ہیں ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علھیم اجمعین کا گروہ وہ کہکشاں ہے کہ ہر ستارہ جس کا درخشاں ہے ۔

سورہ فاتحہ میں انعام یافتہ لوگوں کا ذکر ہوا تو مفسرین نے ان انعام یافتہ کی وضاحت بمطابق تصریحِ قرآن انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی۔ مجھے صدیقین کا لفظ پڑھ کے صدیق رضی اللہ عنہ کی یاد آ جاتی ہے ۔ ان کی قابل محبت شخصیت، ان کی عظمت و صداقت، ان کا یارِ غار ہونا ، محسنِ اسلام، خلیفہ اول اور سب سے بڑھ کے رفیقِ خاص ہونا ہر ہر پہلو اور ہر ہر لحظہ جو ان کے بارے میں پڑھا ہوا ہے لمحات میں منظر بنا جاتا ہے۔

سوچ کی رفتار کی تیزی ایسے مواقع پہ مفید ثابت ہوتی ہے۔ چند مناظر بطور خاص ڈھیر سا پانی لیے چلے آتے ہیں ۔ صدیقؓ کا لقب آپ کو نبی اکرم ﷺ نے دیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے سچا ہونے ، سچائی کی گواہی دینے ، تصدیق میں سبقت اور کثرت کی سبب یہ خوبصورت لقب آپ کی شخصیت کی زینت بنا ۔ جسے نبی ﷺ نے صدیقؓ کہہ دیا ہو اس کے صدق میں کیسا اور کس بدقسمت کو شائبہ ہو سکتا ہے ۔

واقعہ معراج کے وقت آپ رضی اللہ عنہ اس لقب کی صداقت کی گواہی دے گئے ۔ بعض نے آپ سے کہا تھا : "اپنے ساتھی کی خبر لیجیے ۔ اس کا خیال ہے کہ اسے رات ہی میں بیت المقدس کی سیر کرائی گئی ہے ۔” ابوبکرؓ نے پوچھا : ’’کیا واقعی آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے؟ ‘‘ لوگوں نے کہا :’’ہاں، آپ نے ایسا ہی فرمایا ہے‘‘۔

سیدنا ابوبکرؓ فوراً بولے :’’اگر یہ آپ ﷺ ہی کا ارشاد ہے تو بالکل سچ ہے‘‘ ۔ لوگوں نے کہا :’’کیا آپ واقعی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ( نبی ﷺ) رات کو بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس آ گئے؟‘‘

سیدنا ابوبکر نے کہا :’’مجھے اس بات کی تصدیق کرنے میں کوئی عار نہیں بلکہ میں تو اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ ایمان رکھتا ہوں کہ آپ کے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں‘‘۔ 1

وہ ایمان تھا جو دلوں میں ایسا راسخ ہوا کہ کوئی جڑ نہیں کاٹ سکتا تھا ۔ سابقون الاوّلون کے ایمان کے کیا ہی کہنے ۔ اس عقیدہ توحید کی پاکی اور پختگی کے کیا ہی کہنے جس نے دلوں کو روشنی سے منور کیا اور کانوں کو جنت کی نوید سننے کا راستہ دیا ۔ صدیق لقب کو تو احد پہاڑ نے بھی سنا جب آپ اپنے پیارے صحابہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کے ہمراہ پہاڑ پہ چڑھے تو وہ حرکت کرنے لگا ،رسول اکرم ﷺ نے فرمایا :

< اُثبتْ اُحُدُ! فَاِنَّما عَلیکَ نبیُُ و صدیقُُ و شَھِیدَانِ >
’’اے احد! پرسکون ہو جا، تجھ پر اس وقت ایک نبی، ایک صدیق اور دو شھید موجود ہیں ۔‘‘ 2

دکتور علی محمد صلابی کے اپنی کتاب ’سیدنا ابوبکر صدیقؓ ‘ میں درج کیے گئے دلنشیں، سحر میں لپٹے جملے بھی ذہن کے پردے پہ جگمگاتے رہتے ہیں ،لکھتے ہیں:
’’سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کی طویل اور بے مثل رفاقت کا حال یوں بیان فرمایا ہے : ’’میں رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اکثر ایسے دلنشیں جملے سنا کرتا تھا :

< کنتُ و ابوبکرٍ و عمرُ ، وفعلتُ و ابوبکرٍ وعمرُ ،وانطلقتُ وابوبکرً و عمرُ، و ذھبتُ اَنَا و ابوبکرٍ و عمرُ، و دخلتُ انا وابوبکرٍ وعمرُ، و خرجتُ انا وابوبکرٍ و عمرُ >

’’میں تھا اور ابو بکر و عمر تھے …… میں نے اور ابوبکر و عمر نے ایسا کیا …… میں اور ابوبکر و عمر چلے ……. میں اور ابوبکر و عمر گئے …… میں اور ابوبکر و عمر داخل ہوئے ……. میں اور ابوبکر و عمر نکلے‘‘ ۔ 3

ان عام سے جملوں میں مقام و مرتبت کا اندازہ لگانا کس قدر سہل ہے اور اس قدر ہی دلپذیر بھی ۔ اپنے ساتھی حضرت ابوبکرؓ کی عظمت کی گواہی خود سیدنا عمرؓ نے ان الفاظ میں دی :

< انتَ سیدناَ و خیرناَ و احبناَ الٰی رسولِ اللہِ ﷺ >
’’ آپ ہمارے سردار، ہم میں سے بہتر اور رسول اکرم ﷺ کو سب سے زیادہ عزیز ہیں ۔‘‘ 4

اللہ کے نبی ﷺ کے عزیز جس کے بارے میں کہا کہ ’’میں امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا مگر وہ میرے بھائی اور ساتھی ہیں۔‘‘ وہ اللہ کے نزدیک بھی کتنا عزیز ہوگا ۔ خالق کائنات، بادشاہوں کے بادشاہ ،رب پاک کے پیامبر کو جس وقت تکلیفوں ،اذیتوں اور جا بجا رکاوٹوں کا سامنا تھا ،کفار جس کے قتل کے درپے تھے، جس پہ بدبخت کافر دن رات اللہ کے غضب کو آواز دینے والی یاوہ گوئی کرتے اس وقت اس پہ ایمان لانے والا، اس کی تصدیق کرنے والا اور پیغام الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا اللہ کو بھی کتنا عزیز ہو گا کہ اس کی محبت اب بھی سوائے بدبختوں کے اور کسی کے دل سے نہیں نکل سکتی ۔

اس پاک نفس رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ ہی سورہ مومن کی آیت بھی ذہن میں آتی ہے اور ہمیشہ دل کو درد بھرا جھٹکا لگا جاتی ہے ۔
اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّىَ اللّـٰهُ
’’ کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے‘‘ 5 ویلکم ’’تم ہلاک ہو جاؤ!‘‘ یہی الفاظ اس وقت حضرت ابوبکرؓ نے کہے تھے جب کفار نے آپ ﷺ پہ تشدد کیا تھا ۔

البدایہ والنھایہ کے حوالے سے دکتور علی محمد صلابی نے اس واقعہ سے متعلق حضرت علی کی گواہی بھی رقم کی، آپ رضی اللہ عنہ اس واقعے کو بیان کر کے رونے لگے کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی ،پھر فرمایا : ’’اللہ کی قسم! مجھے بتاؤ : کیا آل فرعون میں سے ایمان لانے والا آدمی بہتر ہے یا ابوبکر صدیقؓ بہتر ہیں؟ ‘‘ لوگ خاموش رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم! ابوبکر کی زندگی کی ایک گھڑی آل فرعون کے مومن آدمی کی پوری زندگی سے بہتر ہے …..الخ ‘‘ 6

وہ یارِ غار دو میں سے دوسرا اور جن کا تیسرا اللہ تھا ، کیا ہی اعلیٰ درجہ پایا ۔ مکہ میں بھی اپنے نبی ﷺ کی حفاظت کے لیے پروانہ بن کے آپ کے ارد گرد رہے، ہجرت کے وقت بھی ساتھ کی سعادت نصیب ہوئی اور مدینہ میں بھی رفیق خاص رہے ۔ خلیفہ بنے تو امت پہ وہ احسان کر گئے جن کا جواب دینا کسی کے بس کی بات نہیں ۔

نبی ﷺ کا مرض الموت شروع ہوا تو تب ایک تاکید یہ بھی کی کہ مسجد میں ابوبکرؓ کے علاوہ کوئی دروازہ کھلا نہ رہنے دیا جائے ۔ بخاری کی حدیث ہے : ’’ مجھے سب لوگوں سے بڑھ کر ابوبکر نے اپنی صحبت اور مال سے ممنونِ احسان کیا ہے۔اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا،لیکن ہمارا باہمی تعلق اسلامی بھائی چارے اور محبت کا ہے۔ مسجد(نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں لیکن ابوبکر کا دروازہ کھلا رہنے دیا جائے۔“7

باتیں ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں، مناظر کی دھند ہے کہ آنکھوں سے چھٹتی نہیں مگر ان سب کو بیان کر دینے کی سکت بھی نہیں ۔

میں نے بنت عبداللہ کے سوال کے جواب میں چمکتی آنکھوں اور محبت و عقیدت سے معمور دل سے کہا : ’’مجھے ہمیشہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا اور حضرت ابوبکرؓ کی شخصیات نے بے حد متاثر کیا ہے ۔ ان کا ایمانی، باوقار، بارعب، ٹھرا ہوا سا پرنور تاثر ہمیشہ میرے دل کو ٹھنڈک سے بھر دیتا ہے ۔ اللہ کرے جنت کے دروازے ہم پہ بند نہ ہوں اور ہم وہاں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین سے ملاقات کریں کہ چشم منتظر ہےاور قلب تڑپتا ہے ۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 ۔ المستدرک للحاکم : 63،62/3
2۔ صحیح البخاری، حدیث : 3675
3۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ، ص : 26
4۔ صحیح البخاری، حدیث: 3668
5۔ المؤمن، آیت : 28
6 ۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ، ص : 100،99
7۔ صحیح البخاری، حدیث : 3654


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں