وکی ژوانگ یئن، چینی نژاد ڈرامہ ٹیچر، مصنفہ ،شاعر، گلوکار

میں صرف چینی نہیں، پاکستانی بھی ہوں، میرے جذبات کی قدر کرونا!

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

وکی ژوانگ یئن 32 برس پہلے پاکستان میں پیدا ہوئیں، یہیں پلی بڑھیں. والدین چینی ہیں سو ان کے نقوش بھی ویسے ہیں. وہ خود پچھلے 24 سال میں کبھی چین نہیں گئیں لیکن کورونا وبا کے دوران ان کو جس سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے، انہوں نے اس کا ذکر کیا ہے، غصے کے باوجود ان کی حس مزاح برقرار ہے. ویسے وہ پنجابی میں گالیاں بھی دے سکتی ہیں !

وہ رائٹر،شاعر، گلوکار اور لاہور کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں ڈرامے کی استاد ہیں.
سنیے ان کی باتیں:

چینی نسل کا ہونا کبھی تو خوشیوں کا باعث بنتا ہے اور کبھی جینا حرام کردیتا ہے۔ دل کرتا ہے دنیا ہی چھوڑ دی جائے۔ صدی کی نئی دہائی اپنے ساتھ نئے ڈرائونے وائرس کو بھی لے آئی، جسے کورونا وائرس کا نام دیا گیا ہے، اور اس نے مجھ پر اپنی شناخت کے بارے میں نئے علم کو اجاگر کیا ہے۔ میں نے یہ پایا کہ مجھے اور مجھ جیسے دیگر لوگوں کو ایک ایسے ملک میں مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جسے ہم اپنا گھر کہتے ہیں۔

اگر بات سمجھ نہیں آئی تو چلیے! جانتے ہیں کیوں، اور اس کے لیے ہمیں سال 1988ء تک جانا ہوگا۔ میں لاہور میں ایک چینی جوڑے کے ہاں پیدا ہوئی تھی جس نے 1980ء کی دہائی میں بہتر زندگی کی تلاش میں (کم از کم میں تو یہی سمجھتی ہوں) پاکستان ہجرت کی تھی۔

چونکہ میں یہیں پر پلی بڑھی تھی اس لیے فطری طور پر پاکستانی طرزِ زندگی سے آشنائی ہوگئی اور اس کے ساتھ ساتھ گھر پر میں اپنی چینی ثقافت سے بھی جڑی رہی۔ میں فخر سے یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں نے ان دونوں دنیاؤں کے تمام پہلوؤں سے بھرپور لطف اٹھایا۔ میں دونوں ثقافتوں کے لذیذ کھانوں سے محظوظ ہوئی، میں دونوں خطوں کی مقامی زبانیں بولتی اور سمجھتی ہوں اور میں دونوں ثقافتوں کے تہواروں کو بھی مناتی ہوں۔

مگر سچ یہ ہے کہ ان دونوں دنیاؤں کے بہترین پہلوؤں کے ساتھ ساتھ میرا واسطہ ان کے بدترین پہلوؤں سے بھی ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ جب چین میں کورونا وائرس کی وبائی پھوٹ کی خبریں میڈیا میں عام ہونے لگیں تو میں اسی وقت سمجھ گئی تھی کہ اب نسلی امتیاز کے واقعات میری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔ جلد ہی میرے جیسے لوگوں کو بیان کرنے کے لیے ایک نیا تحقیر آمیز لفظ استعمال کیا جائے گا اور وہ ہوگا کورونا وائرس۔

میں مقامی شاپنگ مال میں پاکستان میں ہی پیدا ہونے والی اپنی چینی دوست کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی کہ ایک کنبہ ہمارے پاس سے گزرا اور اتنی بلند بڑبڑاتی آواز میں ’کورونا‘ کہا کہ ہمیں یہ لفظ صاف سنائی دیا۔ چند لمحوں بعد مردوں کا ایک گروہ ہمارے پاس سے گزرا جس میں سے کسی نے کہا کہ ’چینی کورونا وائرس لے آئے ہیں‘۔ تھوڑی ہی دیر گزری ہوگی کہ ایک تیسرا گروہ قریب سے گزرا جس نے ہماری طرف دیکھ کر تحقیر آمیز لہجے میں کورونا کا لفظ ادا کیا۔

اگرچہ اب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا مگر چونکہ میں یہ جانتی تھی کہ میں ان لوگوں سے لڑ نہیں سکوں گی (میرا قد کاٹھ چھوٹا ہے بھئی) اس لیے جو میرے بس میں تھا میں نے کیا۔ مطلب یہ کہ میں نے زوردار چھینک ماردی۔

سادہ لفظوں میں کہا جائے تو وہ لوگ ہمیں ہماری نسلی شناخت کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کر رہے تھے۔ ہم دونوں نے وہاں اس بات پر بھی بحث کی کہ کس طرح ان واقعات کی وجہ سے ہم اپنی ہی جائے پیدائش پر خود کو الگ تھلگ محسوس کررہے ہیں۔

ہم دونوں میں سے کوئی بھی حالیہ برسوں میں چین نہیں گیا ہے، بلکہ میں تو آخری بار اس وقت چین گئی تھی جب میری عمر 8 برس تھی، اور آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ کتنا طویل وقت ہے۔

میں اور میری دوست نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ جب نسلی امتیاز کی بنیاد پر ہم پر فقرے کسے جاتے ہیں تب ہمیں جوابی وار کے لیے کس قدر مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ جس طرح کا تجربہ ہمیں شاپنگ مال میں ہوا، ایسے تمام واقعات جنگ کا ایسا میدان ہوتے ہیں جہاں ہم نہیں سمجھتے کہ ہم کبھی جیت بھی سکتے ہیں۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی، لیکن کوئی بھی لڑائی تن تنہا نہیں جیتی جاسکتی۔

ایک دن جب میں اکیلی بینک کی طرف جا رہی تھی تب طلبہ کا ایک گروہ میری طرف متوجہ ہوا اور زوردار آواز میں چلّایا ’کورونا وائرس‘۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا لیکن مجھے یہ پتا نہ چل سکا کہ ان میں سے کون سا لڑکا چیخا تھا۔ اب آپ سوچیں گے کہ یہ تو بچے ہیں اور بچوں کا بھلا کیا بُرا ماننا، لیکن میں آپ کو بتادوں کہ ایسی باتیں تکلیف دیتی ہیں۔

میرے کئی دوستوں کے نزدیک یہ ایک غیر اہم مسئلہ ہے۔ کچھ دوست کہتے ہیں کہ ’تم ایسے لوگوں کو پنجابی زبان میں ناشائستہ لفظوں کے ساتھ جواب دے کر ان کا ہوش ٹھکانے کیوں نہیں لگا دیتی؟‘ مگر کیا میرا یہ عمل واقعی مددگار ثابت ہوگا؟

ایک بار ایئرپورٹ پر موجود ایک افسر نے میرے ٹکٹ کو چیک کرنے کی خاطر میرے فون کا جائزہ لیتے وقت جب مجھے دیکھا تو اس نے دھیرے دھیرے ماسک دوبارہ اپنے منہ پر چڑھانا شروع کردیا۔ اس وقت میرا ردِعمل کیا ہونا چاہیے تھا؟ انہوں نے جہاز میں میرے برابر والی نشست پر کسی کو بھی نہیں بٹھایا حالانکہ بظاہر وہ پوری فلائٹ فل نظر آ رہی تھی۔

چند لڑکیاں جہاز سے اتریں اور آپس میں کھس پھس کرنے لگیں کہ ’اوہ، اس سے دُور رہو، کورونا وائرس آیا ہوا ہے‘ اور پھر ہنسنے لگیں۔

اس دن مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ لوگ چند قہقہوں کے لیے بے حسی کا رویہ اپنانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ مگر ہمیں ہر چیز میں ہنسی مذاق کا بہانہ نہیں ڈھونڈنا چاہیے۔ مجھے اس عالمی وبا کے ذریعے ہمدردی اور برداشت کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔

مجھے یہ نسلی امتیاز برداشت کرنا ہوگا ورنہ میں ہمیشہ سڑکوں پر لڑتی جھگڑتی پائی جاؤں گی، اور میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ مجھے اپنے اندر ہمیشہ ہمدردی کا جذبہ بھی بیدار رکھنا چاہیے کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ عدم برداشت کا سامنا ہونے پر جیسا میں محسوس کرتی ہوں وہی کوئی دوسرا شخص بھی محسوس کرے۔ اب میری سوچ کا زاویہ کچھ ایسا ہی بن گیا ہے۔

خیر صورتحال مکمل طور پر خراب بھی نہیں ہے۔ کسی موقعے پر اگر ایک طرف ’چنگ چانگ‘ کہہ کر چھیڑنے والے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ایسے دوست بھی ہیں جو میری خاطر لڑنے کو بھی تیار ہوجاتے ہیں۔

ٹریفک سگنل پر جب کوئی موٹر سائیکل سوار میری گاڑی میں بے ہودہ انداز میں تانک جھانک کرنے لگتا ہے تو میرے ساتھی اس کو گھورنا شروع کردیتے ہیں اور مجھے انہیں یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس پر دھیان مت دو۔

جب میرے ایک دوست نے آن لائن اسٹوری پر میری تصویر پوسٹ کی تو اس پر کسی نے تبصرے میں ’کورونا وائرس‘ لکھ دیا، یہ دیکھ کر دوست نے تبصرہ کرنے والے کو منہ توڑ جواب دیا۔ اگر میرے طالب علم دیگر طلبہ کو میرے پیٹھ پیچھے چنگ چانگ کہتے ہوئے سنتے ہیں تو وہ انہیں کھری کھری سنا دیتے ہیں۔

لوگوں کے میل جول میں تفریق کا تعلق دراصل اس بات سے ہے کہ وہ لوگ جو میرے دفاع میں کھڑے ہوتے ہیں انہیں ہمارے درمیان ہونے والی گفتگو یا تبادلہ خیال کے ذریعے اس بات کا بخوبی احساس ہوتا ہے کہ میں کیا محسوس کرتی ہوں یا وہ کیا محسوس کرتے ہیں، جبکہ وہ لوگ جو مجھے دیکھ کر تحقیر آمیز فقرے کستے ہیں ان کے پاس اس کام کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔

دورِ حاضر میں سرحدی فاصلے سمٹ چکے ہیں مگر ہم آج بھی اپنے اپنے خول میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں اور یہ سوچنا ہی بھول چکے ہیں کہ دیگر لوگ ناخوشگوار حالات میں کیسا محسوس کرتے ہیں۔ ہم خود سے مختلف شخص کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتے۔ اس امتیازی روش کو ختم کرنا ہوگا۔

جو بھی ہو، آخر میں ہم سب انسان ہی ہوتے ہیں۔ اپنی کھال ادھیڑ کر دیکھ لیجیے، ہم سب ہی گوشت پوست اور ہڈیوں کے بنے ہوئے ایک جیسے انسان ہی ہیں (برائے مہربانی تصدیق کے لیے جلد ادھیڑنا مت شروع ہوجائیے گا، بہت درد ہوگا)

میری شکل و صورت اگر چینیوں جیسی نظر آتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں پاکستانی نہیں ہوں۔ میں جب بھی جہاں جاتی ہوں تو لوگ گھورنا شروع ہوجاتے ہیں۔ گھورتی آنکھیں مجھے یہ باور کروا رہی ہوتی ہیں کہ میں ایک چینی ہوں، یا پھر اس قدر توجہ کا مرکز بنا دیا جاتا ہے کہ میرے ساتھ بیٹھے دوستوں کو عجیب سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ کیا کوئی شخص ایسے تجربات سے گزرنا پسند کرے گا؟

آخر میں کسی کو بھی یہ یاد نہیں رہتا کہ کس نے کیا پہنا تھا لیکن یہ ضرور یاد رہ جاتا ہے کہ کس نے اس کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا تھا۔ وائرس کا پھیلاؤ چین سے ہوا تھا صرف اس بنیاد پر چینی دکھنے والے لوگوں کو تنگ کیے جانے کے واقعات کا سن کر دل دکھ سا جاتا ہے۔

سچ پوچھیے تو بہت ہی تکلیف ہوتی ہے۔ جب میری نظروں سے ایک ویڈیو گزری جس میں ایک عمر رسیدہ چینی شخص کو چند نوجوان صرف چینی ہونے کے ناتے تنگ کر رہے ہیں تو مجھے رونا آگیا۔ اس عمر رسیدہ شخص کی جگہ پر میرے والد یا بھائی بھی ہوسکتے تھے۔ میں بالکل نہیں چاہوں گی کہ میرے ساتھ ایسا رویہ روا رکھا جائے۔ کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے؟

نسل پرستی نفرت کا ایندھن ہے۔ نفرت عدم برداشت کا چارہ بنتی ہے۔ عدم برداشت کی کوکھ سے جہالت جنم لیتی ہے، اور انسان جہالت کو پروان چڑھاتے ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں گے تاکہ ایک دوسرے سے نفرت کرنے والوں میں یاد نہ کیے جائیں۔ سب انسان ہیں۔ آئیے اس سوچ کو اپنائیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔ تھوڑی تو ہمدردی کا مظاہرہ کرونا!
(ڈان سنڈے میگزین ایوس)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں