قرآن کی سورة لقمان ک کی ابتدائی آیات

حضرت لقمان کی بیٹے کو نصیحتیں، ہم والدین کے لئے سبق

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

نیرتاباں:

سورة لقمان میں سے حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں، اور ہم والدین کے لئے اس میں چھپے اسباق
(آیات 13 تا 19 کا ترجمہ، اور استاذہ عفت مقبول کی مختصر تشریح)
13: اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیٹا! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔

1: لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے تھے۔ ہمیں بھی اپنے بچوں کو سمجھانا ہے۔ لاڈ پیار کے نام پر شتر بے مہار نہیں چھوڑ دینا۔

2: پہلی بات ہی یہ سمجھائی کہ شرک نہیں کرنا۔ اب چھوٹے بچے قبروں پر تو ماتھا نہیں ٹیکتے، تو یہ کیا شرک ہے جس سے منع کیا جا رہا ہے؟ جیسے بچوں کو کہنا فلاں کام نہ کرو، خالہ کیا سوچیں گی؟ یا یہ کہ مہمان آئیں تو تمیز سے رہنا۔ گویا پہلے دن سے اللہ کے بجائے لوگوں کا خوف ان کے دل میں ڈالتے ہیں۔ وہ دیکھ لے گا اس لئے اچھے بنو۔ مہمان آ رہے ہیں، اس لئے اچھے بنو۔ God conscious کے بجائے people conscious بناتے ہیں۔ پھر یہ کہ بچوں کو جتلانا یہ چیز ماما نے آپ کو دی ہے، بابا نے دی ہے۔ اس کے بجائے کوشش ہو کہ نسبت اللہ سے جوڑی جائے کہ اللہ نے یہ چیز ماما کو آپ کے لئے دی ہے۔

14: اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے، اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے تو (انسان) میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

1۔ اپنے حقوق کے بجائے اللہ کے حقوق کا بتایا جائے، اس کا شکر گزار بنایا جائے۔ بچہ ذرا سا اونچا ہو تو والدین بس اسے اپنے حقوق بتاتے رہتے ہیں۔ بچوں کو رب سے جوڑیں تو وہ خود ہی آپ سے جڑ جائیں گے۔

2۔ بچوں کو احساس دیں کہ اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ ہر چیز کی جوابدہی اپنے اوپر نہ لیں کہ مجھے بتاؤ۔ اور ہم پھر ابا کو شکایت لگاتے ہیں۔ نہیں! بچے کو کہیں کہ سچ بات کہیں، اور یہ کہ اللہ اور آپ کا معاملہ ہے۔

15: اور اگر تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں تو میرے ساتھ اس کو شریک بنائے جس کو تو جانتا بھی نہ ہو تو ان کا کہنا نہ مان، اور دنیا میں ان کے ساتھ نیکی سے پیش آ، اور ان لوگوں کی راہ پر چل جو میری طرف رجوع ہوگئے، پھر تمہیں لوٹ کر میرے ہی پاس آنا ہے پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے۔

1۔ ”تجھ پر دباؤ ڈالیں تو۔۔۔ ان کی بات نہ ماننا“ یعنی peer pressure میں نہیں آنا۔

2۔ ہمیں شادی کے بعد تک peer pressure ہینڈل نہیں کرنا آتا، یا یہ سٹینڈ لینا نہیں آتا کہ شوہر یا ساس سسر کی غلط بات نہ مانی جائے، یا کس طرح حکمت سے ٹال دی جائے۔

3۔ والدین کچھ اور کہیں اور استاد کچھ اور کہے تو اس کی بات ماننا جو رب کی بات بتاتا ہو۔

16: بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو پھر وہ کسی پتھر کے اندر ہو یا وہ آسمان کے اندر ہو یا زمین کے اندر ہو تب بھی اللہ اس کو حاضر کر دے گا، بے شک اللہ بڑا باریک بین باخبر ہے۔

1۔ جہاں بھی چھپ کر کرو گے، اللہ کو پتہ ہے۔ رات کے وقت کا سائلنٹ موبائل فون پر ہونے والا بھی سب کچھ اللہ کو پتہ ہے۔

2۔ ابھی تک دیکھیے کیسے خوبصورتی سے تربیت اور character building ہو رہی ہے۔ بچوں اور والدین کا تعلق پینسل اور شارپنر والا سمجھیے۔ دیکھیں، جب پینسل لکھتی ہے تو گھس جاتی ہے۔ شارپنر اس کا سکہ پھر سے تراشتا ہے جس سے لکھائی اچھی آتی ہے۔ بچے پنسل کی مانند ہیں۔ کام کرتے کرتے بھولنے لگتے ہیں۔ پھر والدین نرم الفاظ کی نصیحتوں سے انہیں پھر سے شارپ کرتے ہیں۔ لکھائی پھر سے خوبصورت ہو جاتی ہے۔

17: بیٹا نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت آئے اس پر صبر کیا کر، بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہیں۔

1۔ اتنی ساری کردار سازی کے بعد اب آیا نماز کا ذکر۔ سات سال پر کہا گیا تو سات سال سے ہی شروع کروائیں۔ اس سے پہلے بچہ شوق سے آنا چاہے تو آئے لیکن اس کو کہیں نہیں۔

2۔ یعنی اپنے کلاس فیلوز، کزنز کو کہے کہ کسی کی ربڑ نہیں لیتے، ٹیچر کو آگے سے جواب نہیں دیتے، کسی کی شکل کا مذاق نہیں اڑاتے۔

3۔ مصیبت پر صبر۔ اتنے سے بچے پر یہی مصیبت آ سکتی ہے کہ بھائی نے چاکلیٹ کھا لی، کزن نے نقل اتار دی۔ ایسے میں صبر کرنا سکھائیں۔

18: اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیر اور زمین پر اترا کر نہ چل، بے شک اللہ کسی تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

لوگوں سے رخ نہ پھیرا جائے یعنی تمیز سے بات کی جائے۔ امی ابو کے ملنے والوں سے اچھے سے ملا جائے، بات کی جائے، بیٹھنے کا کہا جائے، چائے پانی پوچھا جائے۔

19: اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر، بے شک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی ہے۔

1: چال میں اعتدال ہو۔ یہ نہیں کہ بچے پورے گھر میں اودھم مچا کے رکھیں کہ زمین آسمان ایک کیا ہوا ہے۔ دوڑتے پھر رہے ہیں۔ کہیں چیزیں پھینک رہے ہیں، توڑ رہے ہیں۔ چال میں اعتدال رکھیں۔ دوسری بات یہ کہ کپڑے اتنے ٹائٹ یا اکڑے ہوئے نہ ہوں کہ بندہ اکڑ کر چلنے پر مجبور ہو۔

2۔ آواز پست رکھیں۔ بچے کو دور سے زور زور سے ماما مامااا کہنے کی اجازت نہ دیں۔ اس سے کہیں پاس آ کر آرام سے بات کرے۔ جواب ہی تب دیں جب وہ دھیمے لہجے میں بات کرے۔ خود کو بھی یہ یاددہانی کروانی ہے کہ چیخ چلا کر بچے سے بات نہ کی جائے۔ دیکھ لیں کہ تشبیہہ کس سے دی گئی ہے۔

بچوں کو ہم لاڈ پیار کے نام پر بہت بگاڑتے ہیں۔ یہ اکلوتا ہے، یہ پہلا ہے، یہ سب سے چھوٹا ہے، یہ پوتا ہے، تو شروع سے ہی بہترین تربیت کی کوشش کریں۔ بالفرض بچے بڑے ہو چکے ہیں اور تربیت میں کمی رہ گئی ہے تو ہر ایک کے سامنے ان کی شکایتیں لگانے، انہیں بے عزت کرنے۔ ان کی عزت نفس مجروح کرنے کے بجائے ان سے بات کریں۔ ان سے کہیں کہ میں غلطی کروں، آپ مجھے روکو۔ آپ غلطی کرو تو میں آپ کو روکوں۔ یوں ایک دوسرے کے ساتھی بن کر اس پر کام کریں۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں