مسلمان خاتون پارک میں قرآن پڑھتے ہوئے

رمضان المبارک کے بعد کیا کریں؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

حفصہ اشرف، لاہور :

رمضان شریف رخصت ہو گیا اور ماہ شوال شروع ہو چکا ہے۔ ہم شعبان کے مہینے سے یعنی رمضان سے ایک ماہ قبل…. رمضان کی آمد کی، اس کے استقبال کی، اس کو صحیح معنوں میں استعمال کرنے کی، اس کے اوقات کی حفاظت کی، اس کی رحمتوں اور برکتوں سے فیض یاب ہونے کی، اس کے نتائج اور مقاصد کو حاصل کرنے کی گفتگو کرتے رہے۔

اللہ ربی کا شکر ہے کہ اس نے یہ ماہ ہمیں عطا کیا، ہمیں نصیب فرمایا، اس، نے ہمیں اس کے لیے زندہ رکھا اور کمیوں اور کوتاہیوں کے باوجود اللہ جل جلالہ نے اعمال کی توفیق نصیب فرمائی۔الحمدللہ

دن کا روزہ نصیب ہوا
رات کی تراویح اللہ پاک نے عطا فرمائی
تلاوت کی توفیق ہوئی
گناہوں سے اجتناب رہا
اس پر تو ہم اللہ ربی کا شکر ادا کریں….. کیونکہ قاعدہ ہے
لان شکرتم لازیدنکم

چار کام ایسے ہیں…… اگر ہم ان کا اہتمام کریں تو اس بات کی امید ہے کہ جو توقعات ہمیں رمضان میں میسر اور دستیاب ہوئیں ان کا سلسلہ ان شاء اللہ جاری رہے گا۔

صبرو شکر
ہمیں جتنی بھی توفیق ملی اعمال کے حوالے سے (لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کی، افطار کرانے کی، لوگوں کو کھلانے پلانے کی،صدقہ وخیرات کی) اس نوعیت کی جتنی بھی توفیق ملی سب سے پہلے تو ان پر شکر، مگر اس نیت سے کہ عمل کو تھوڑا سمجھتے ہوئے نیک اعمال کی توفیق پر شکر(لان شکرتم لازیدنکم ) وہ تو انسان برباد ہو گیا جس نے عمل کو زیادہ سمجھ لیا۔

محاسبہ نفس
من قام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ
(صحیح بخاری۔ باب فضل من قام رمضان)
غور اس بات پہ کہ
پورا ماحول اور فضا نیک ہو جانے کے باوجود مجھے نیکی کی کتنی توفیق ملی؟
۔گناہوں سے کتنا مجتنب رہے؟
کتنی تلاوت کی توفیق ملی؟
کتنے نوافل پڑھے؟
شب داری کیسی رہی؟
روزہ کا جو مقصد اور فلسفہ، اس کے فوائد و ثمرات حاصل ہونے چاہیے تھے، اس میں سے کتنا حصہ ملا؟

اگر نہیں تو وجہ کیا رہی؟
جو کمی اور کوتاہی رہ گی اس، پر غور کرنا ہے۔

نیکیوں کی حفاظت
نیکی صرف کرنی نہیں، نیکی کو بچا کر لے کے جانا بھی ہے آخرت کے دن تک۔
ریا کاری سے محفوظ رہنا، یہ نیکیوں کے فوائد و ثمرات کو ضائع کرنا ہے۔
احسان نہیں جتلانا، اجر آخرت میں باقی نہیں رہتا

اعمال پر مداومت و استقامت
تمام اعمال کو ماہ رمضان کے ساتھ خاص کر دیا۔ ماہ رمضان مکمل ہوا تو ہم نے ہر چیز ٹھیک کر دی (قرآن غلافوں میں رکھ دیےاور اونچے طاقوں میں، راتوں کو اٹھنے کا معمول چھوڑ دیا، نفلی روزوں کا اہتمام کرنے کا جو سوچا تھا اسے بھی اگلے رمضان تک لے گئے۔ ماہ رمضان تو ایک مشق ہے اعمال کو آسان کرنے کی،
یہ اعمال تو سارا سال اور ساری زندگی کرنے ہیں.ان اعمال کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے!

دس باتیں قرآن سنت کی روشنی میں استقامت کے حصول کے لیے!
اول: اللہ سے مدد طلب کرنا
اللہ سے مدد طلب کیے بغیر کوئی نیکی نہیں ہو سکتی، کوئی توفیق نہیں مل سکتی۔ مدد طلب کرنے کا طریقہ اللہ سے دعا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود الفاظ سکھائے ہیں کہ ان الفاظ میں مجھ سے دعا مانگو۔

ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذا ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب_
اس دعا کی مناسبت رمضان سے ہے کہ رمضان میں جو ہدایت میسر ہوئی اس سے اب نہ پھیرنا۔
ربنا افرغ علینا صبرا و ثبت اقدامنا_
”اے اللہ! میرے اوپر صبر کو انڈیل دےاور نیکیوں پر ہمارے قدم جمائے رکھ“

یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک_
”اے دلوں کو گھمانے والے، دلوں کو پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر استقامت عطا فرما“

اللھم انی اسئلک الثبات فی الامر_
”یا الہی! تجھ سے تمام کاموں کے اندر، مستقل مزاجی، استقلال، تسلسل کا سوال کرتی/ کرتا ہوں جو توفیقات رمضان میں عطا کی ہیں ان پر جمائے رکھ۔ اور میرے لیے ہر معاملہ آسان کر۔“

ان دعاوں کی برکت سے توفیق ملتی رہے گی دعا مانگ مانگ کے ہم آگے بڑھتے رہے گے۔ پیچھے یعنی واپس نہیں جانا۔ رمضان میں کیے گئے تمام اعمال پر خود کو ثابت قدم رکھنا ہے!!! ان شاء اللہ

دوم: قرآن سے تعلق
رمضان کا ایک خاص پیغام، قرآن سے تعلق کا ہے۔
قرآن سے تعلق مضبوط کرنا ہے اور قرآن کو لفظاً اور معناً عام کرنا۔

سوم: ذکرِ الہی
اذا لقیتم الذین کفروا زحفا فلا تولوھم الادبار اثبتوا و اذکروا اللہ کثیرا
(جب تم کافروں کے لشکر کے بالمقابل ہو جائو تو پیٹھ نہ پھیرو بلکہ ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو)

ماحول اور اجتماعیت میں ذکر کریں گے تو تنہائی میں ذکر کی عادت ہو گی

چہارم: احکامات شریعت کے سامنے سر جھکانا، باطل اور رقیق تاویلات سے بچنا ہے
سر تسلیم خم کرنے والا مزاج بنانا ہے جو حکم بھی قرآن و سنت سے ملے اس کو ماننا ہے۔ (عمل ہے یا نہیں، سر تو جھکائیں)

پنجم: اہل استقامت والوں کے احوال پڑھنے ہیں
اللہ ربی نے قرآن میں ”اولوالعزم“ کو استقامت والا کہا۔
قصص الانبیاء
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

ششم: اسلامی موضوعات پر جو کتابیں لکھی ہیں ان کا مطالعہ،
تاکہ درست علم اور شریعت کا صحیح فہم ہو۔

ہفتم: نفلی عبادات پر اپنے نفس کو مجبور کرنا ہے
تاکہ فرائض کی حفاظت ہو جائے اور پختگی آ جائے
جس کے فرائض میں کمی نکلی تو اس کو نوافل کے ذریعے پورا کیا جائے گا(صحیح بخاری 6502)
زکوٰۃ میں کمی، صدقات سے پورا کیا جائے گا۔

ہشتم: علمی اور اصلاحی مجالس میں شرکت کرنی چاہیے۔ صحبت سے انسان بہت تبدیل ہوتا ہے۔

نہم: بری صحبت سے بچنا
برائی کی طرف لے جانے والی چیز”بری صحبت“ ہے۔

دہم : توبہ و استغفار
تمام تر احتیاطوں کے باوجود انسان سے کوئی نہ کوئی گناہ، لغزش ہو ہی جاتی ہےاس لیے توبہ و استغفار کا مزاج بنائیں تاکہ جو بھی گناہ ہوا اس کی تلافی ہو جائے۔

یہ دس چیزیں ایسی ہیں کہ اگر ہم ان کا اہتمام کریں تو ہمیں اعمال پر استقامت ہو گی. ان شاء اللہ

آخری بات
شوال کا مہینہ ہے، حدیث میں آیا ہے
”من صام رمضان ثم اتبعہ ستۃ من شوال کان کصیام الدھر“(مسلم شریف)
جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے پورا سال روزہ رکھا۔

ان کے فوائد
پورے سال کے روزوں کا ثواب
رمضان کے روزے میں جو کمی اور کوتاہی ہوئی اس کی تلافی
تاہم شوال کے روزوں کا اہتمام بھی ضروری ہے۔
اللہ ربی عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین.


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں